اداریہ
تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں جو ہر چیز کا خالق ہےاور رحمن اور رحیم ہے۔
جس نے انسان کو تخلیق کیا اسکی ہر قسم کی ضرورت کو پورا کرنے کا پورا پورا انتظام کیا ۔ اس کوبے شمار نعمتوں سے نوازا ۔
بہترین جسمانی ساخت دی ، خوبصورتی عطا کی ،علم دیا ،عقل و شعور دیا، گھر اورخاندان دئیے۔ خاندانی حسب نسب، سماجی
حیثیت، مال ودولت۔ اقتدار اور طاقت۔۔۔ ہر شے پر اسکا اختیار ہے ،جس کو جتنا چاہے نواز دے جس سے چاہے روک لے،کیونکہ
سارا اختیاراسی کا ہے۔ ہم سے ان نعمتوں کے بدلہ میں شکر گزاری اور بندگی کا مطالبہ ہے ۔
اگر انسان نعمتوں کو پا کر اکڑ جائے، فخر و غرور میں مبتلا ہو جاۓ، خود پسند ہوجائے تو وہ اللہ کو پسند نہیں۔
سورہ نحل میں اللہ کہتا ہے إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِينَ (وہ ہرگز ان لوگوں کو پسند نہیں کرتاجو تکبر اور غرور میں مبتلا ہوں)۔ یہ ہر
لحاظ سے ایک بری صفت ہے۔ جب انسان غرور میں مبتلا ہوتا ہے تو انکساری رخصت ہوجاتی ہے، وہ اپنی بات کو سب سے زیادہ
اہمیت دیتا ہے، کوئی دوسرا فرد اوردوسری راۓ اس کی نگاہ میں کوئی مقام نہیں رکھتی ۔
غرور و تکبر کی بہت سی شکلیں ہو سکتی ہیں۔
عبادت کا غرور،علم کا غرور ،حسب نسب کا غرور، مال و دولت کا غرور، طاقت کا غرور
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
(صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، 147)
طاقت کا غرور ایک ایسی خطرناک بیماری ہے جو انسان کو اندھا اورمتکبر بنا دیتی ہےاور فرعونی اعمال کرواتی ہے، اگر یہ
بیماری کسی فرد میں ہو یا کسی قوم میں ہوتو یہ ظلم اور فساد کا سبب بنتی ہے اور اللہ کے غضب کو دعوت دیتی ہے ۔ زوال اور
برا انجام اس کا مقدر ہوتا ہے ۔
اس لیے ہمیں اپنی سخت نگرانی کرنے کی ضرورت ہے ہر نعمت پر اللہ کا شکر کریں انکساری کو اختیار کریں ،اخلاص کے ساتھ
عمل کریں اور تکبرکی ہر شکل سے بچنے والے بنیں ۔ سورہ الفرقان میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى
الْأَرْضِ هَوْنًا ترجمہ رحمان کے (اصلی) بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں ۔
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ
راضیہ فرحین
مدیرہ نور
