کلام اقبال

کلام اقبال

اس قدر ہوگى ترنم آفرىں باد بہار

نگہت خوابىدہ غنچے کى نوا ہو جائے گى

آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئىنہ پوش

اور ظلمت رات کى سىماب پا ہو جائے گى

شبنم افشانى مرى پىدا کرے گى سوز و ساز

اس چمن کى ہر کلى درد آشنا ہو جائے گى

آ ملىں گے سىنہ چاکان چمن سے سىنہ چاک

بزم گل کى ہم نفس باد صبا ہو جائے گى

پھر دلوں کو ىاد آ جائے گا پىغام سجود

پھر جبىں خاک حرم سے آشنا ہو جائے گى

دىکھ لو گے سطوت رفتار‌ دريا کا مآل

موج مضطر ہى اسے زنجىر پا ہو جائے گى

آنکھ جو کچھ دىکھتى ہے لب پہ آ سکتا نہىں

محو حىرت ہوں کہ دنىا کىا سے کىا ہو جائے گى

نالۂ صىاد سے ہوں گے نوا سامان طىور

خون گلچىں سے کلى رنگىں قبا ہو جائے گى

شب گرىزاں ہوگى آخر جلوۂ خورشىد سے

ىہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحىد سے