حضرت مارىہ قبطىہ رضہ اللہ عنہا
شاہدہ ذبىع اللہ – ہوسٹن
اسلامى تارىخ مىں بعض شخصىات اىسى ہىں جن کا ذکر اگرچہ مختصر ہے مگر ان کا زندگىوں پر نہاىت گہرا اثر ہوتا ہے۔ انہى مىں حضرت مارىہ قبطىہ رضہ اللہ عنہا ہىں۔ ان کى زندگى اىمان کى پختگى، حىا کى لطافت، قناعت کى خوشبو اور صبر کى عظمت کا حسىن امتزاج ہے۔
صلح حدىبىہ۶ھ کے بعد سرورِ عالم ﷺ نے اطراف کے حکمرانوں کو خطوط بھىج کر اسلام کى دعوت دى۔ ان مىں سے اىک خط سکندرىہ کے رومى حکمران مقوقس کو حضرت حاطب بن ابى بلتعہؓ کے ذرىعے بھىجا گىا۔ خط ملنے کے بعد مقوقس نے اسلام تو قبول نہ کىا مگر حضرت حاطبؓ کے ساتھ نہاىت عزت و تکرىم سے ملا واپسى کے وقت اس نے دىگر تحائف کے ساتھ دو قبطى لڑکىاں بھى روانہ کىں اور لکھا کہ مىں دو لڑکىاں آپ کى خدمت مىں بھىج رہا ہوں جو قبطىوں مىں بڑا مقام رکھتى ہىں۔ مدىنہ پہنچ کر حضرت حاطبؓ نے انہىں حضور ﷺ کى خدمت مىں پىش کىا۔ سفر کے دوران وہ حضرت حاطبؓ کى تبلىغ سے اىمان لا چکى تھىں۔ ىہ دو لڑکىاں حضرت مارىہؓ اور حضرت سىرىن تھىں۔ آپ ﷺ نے حضرت سىرىنؓ کو حسان بن ثابتؓ کى ملک ىمىن مىں دے دىا اور حضرت مارىہؓ کو اپنے حرم مىں شامل فرما لىا۔
حضرت مارىہؓ مدىنہ آنے کے تقرىباً آٹھ سال بعد حضرت ابراہىمؓ کى ماں بنىں۔ اسى وجہ سے انہىں فقہى اصطلاح مىں ام ولد کہا جاتا ہے اور اس حىثىت سے انہىں خصوصى عزت حاصل ہوئى (امام ابن شہاب الزہرى)۔ جمہور اہلِ علم کے نزدىک حضرت مارىہؓ امہات المؤمنىن مىں شمار نہىں ہوتىں، تاہم ان کا مقام نہاىت بلند اور قابلِ احترام ہے (ابن حجر عسقلانى، الاصابہ)۔ حضرت ابراہىمؓ اىک سال، آٹھ ماہ اور دس دن زندہ رہے اور پھر وفات پا گئے۔ حضرت مارىہؓ ان کى وفات پر بے اختىار رو پڑىں اور حضور ﷺ بھى اشکبار ہوئے اور فرماىا آنکھىں آنسو بہاتى ہىں اور دل غمگىن ہے مگر ہم وہى کہتے ہىں جو ہمارے رب کو راضى کرے۔ اے ابراہىم، ہم تمہارى جدائى پر غمگىن ہىں۔(صحىح بخارى، صحىح مسلم) ىہ الفاظ اىک باپ کے غم اور اىک مومن کے صبر کى تصوىر ہىں۔ حضرت مارىہؓ نے بھى اس سانحے پر صبر و رضا کا عظىم نمونہ پىش کىا۔
اہلِ سىر بىان کرتے ہىں کہ نبى ﷺ ازواجِ مطہرات کے ساتھ جىسا حسنِ سلوک فرماتے تھے، وىسا ہى حضرت مارىہؓ کے ساتھ بھى تھا۔ انہىں بھى پردے کا حکم دىا گىا۔ حضور ﷺ فرماىا کرتے تھے قبطىوں کے سات حسنِ سلوک کرو، اس لىے کہ ان کے ساتھ عہد اور نسب کا تعلق ہے۔” نسب کا تعلق ىہ ہے کہ حضرت اسماعىلؑ کى والدہ اور مىرے فرزند ابراہىمؓ کى والدہ (حضرت مارىہؓ) دونوں اسى قوم سے ہىں
حضرت مارىہؓ شاہانہ ماحول سے آئى تھىں مگر مدىنہ کى سادہ زندگى کو خوشدلى سے قبول کىا۔ دنىاوى آسائشوں سے بے نىازى اور رضائے الٰہى پر اعتماد ان کى زندگى کا نماىاں وصف تھا۔ ىہ طرزِ زندگى ہمىں ىاد دلاتا ہے کہ حقىقى عزت قناعت اور اللہ تعالىٰ پر بھروسے مىں ہے۔ ان کے پاس زىادہ دنىاوى مال نہ تھا مگر دل کى سخاوت بے مثال تھى۔ جو کچھ مىسر آتا اللہ کى راہ مىں خرچ کر دىتىں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اسے اپنى زندگى کا مرکز بنا لىا۔ اجنبىت، زبان کے فرق اور نئے ماحول کے باوجود ان کے اىمان مىں لغزش نہ آئى (بلاذرى، انساب الاشراف)۔
اللہ تعالىٰ نے حضرت مارىہؓ کو حسنِ سىرت اور حسنِ صورت دونوں سے نوازا تھا۔ ام المؤمنىن حضرت عائشہؓ فرماىا کرتى تھىں ، جتنا رشک مجھے مارىہؓ پر آتا ہے کسى پر نہىں آتا۔ حافظ ابن کثىر نے البداىہ والنہاىہ مىں لکھا ہے کہ وہ نہاىت پاکباز اور نىک سىرت تھىں۔
وہ اپنى حىا، خاموش وقار اور پاکىزہ طبىعت کے باعث ممتاز تھىں۔ کم گو اور باوقار شخصىت کى مالک تھىں۔ پردہ، طہارت اور شائستگى ان کى زندگى کا لازمى حصہ تھے۔ اسلام مىں حىا اىمان کا حصہ ہے اور حضرت مارىہؓ اس کى عملى مثال تھىں (قاضى عىاض، الشفا)۔
حضور اکرم ﷺ کے وصال کے بعد حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ نے ان کا اعزاز و اکرام برقرار رکھا۔ حضرت مارىہؓ نے حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت مىں محرم ۱۶ ہجرى مىں وفات پائى۔ امىر المؤمنىن حضرت عمرؓ نے تمام اہلِ مدىنہ کو جمع کىا اور خود نمازِ جنازہ پڑھا کر جنت البقىع مىں سپردِ خاک کىا (طبقات ابن سعد)۔
حضرت مارىہؓ کى زندگى ہمىں سکھاتى ہے کہ اسلام رنگ و نسل سے بالاتر ہے۔ عورت کى اصل عظمت اىمان اور حىا مىں ہے۔ قناعت دل کو سکون دىتى ہے اور آزمائش مىں صبر اىمان کى علامت ہے۔ ان صفات کى بدولت خاموش کردار بھى تارىخ مىں زندہ رہتا ہے۔ حضرت مارىہؓ کى حىات مبارکہ خاموش نور کى مانند ہے نہ ظاہرى شہرت، نہ قىادت کا دعوىٰ، مگر اىسا کردار جو اىمان کو تازگى بخشتا ہے۔ اگر آج کى مسلمان عورت ان اوصاف کو اپنى زندگى کا حصہ بنا لے تو اس کا گھر سکون، رحمت اور برکت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ اللہ تعالىٰ ہمىں حضرت مارىہ قبطىہؓ کے نقشِ قدم پر چلنے کى توفىق عطا فرمائے۔ آمىن۔