شمائل نبوی ﷺ

حضورِ سیّدِ عالم ﷺ کی ذاتِ گرامی کائناتِ انسانی کے لیے اخلاقی، روحانی اور فکری کمالات کا مرکز و محور ہے۔ آپ ﷺ کی شخصیت وہ آئینہ ہے جس میں انسانیت اپنے حقیقی جوہر کی پہچان کرتی ہے۔ قرآنِ مجید نے آپ ﷺ کو “خُلُقٍ عَظِيمٍ” (عظیم اخلاق) کا پیکر قرار دیا، اور یہی وہ وصفِ جامع ہے جو آپ کی تمام صفات پر مشتمل ہے۔کسی بھی شخصیت کی کامل اور جامع تصویر کو عربی میں شمائل کہتے ہیں۔اورنبی کریم ﷺکے کامل اوصاف کےبیان کوشمائل نبوی ﷺکہتے ہیں۔

 

حسنِ یوسف، دمِ عیسٰی، یدِ بیضا داری

آنچہ خوباں ہمہ دارند، توﷺ تنہا داری

آقامحمدﷺکے جمالیاتی واخلاقی حسن کو کماحقہ بیان کردینا نا ممکن ہے اس نور ِمجسم  کوضبط ِقلم  میں لانا انسانی وسعت سےماوراہے۔امام قرطبیٰ  فرماتے ہیں کہ حضور ﷺکا پورا جمال ظاہرنہیں کیا گیا ورنہ لوگ آپ ﷺ کو دیکھنے کی طاقت ہی نہ رکھتے۔یہ صحابہ کرام کا اُمت ِ مسلمہ پر   احسانِ عظیم ہے کہ ان کی آنکھوں نے جیسا رسولﷺکو دیکھااور معاملات میں جیسا چاہااُسے پوری ایمانداری سے آئندہ نسلوں کے لیےبیان فرما دیا۔اُنھی ارشادات کی روشنی میں ہم شمائل نبویﷺکی ایک جھلک دیکھتے ہیں۔آپ ﷺکےظاہری جمال کے بارے میں امام قرطبی نے فرمایاآپﷺ جیسا نہ پہلے دیکھا گیا اور نہ بعد میں دیکھاجائے گا۔

آپﷺکا حلیہ مبارک

                          حضر ت انس فرماتے ہیں:

     آپؐ نہ تو حد سے زیاد ہ لمبے اور نہ ہی چھوٹے قد کے تھےبلکہ درمیانہ ومتوازن قد کےمالک تھے ۔ مگر جب صحابہ کرام کے درمیان کھڑے ہوتے  تو لمبے محسوس ہوتے ۔ آپﷺکی رنگت نہ بہت سفید اور نہ بہت گندمی تھی بلکہ آپﷺکا رنگ سرخی مائل گندمی تھا۔آپؐ کی پیشانی کشادہ تھی اور چہرہ مبارک چاند کی طرح روشن تھا۔آپ ﷺ کے بال مبارک گھنےاور قدرے خم دارتھے۔آنکھیں بڑی سیاہ اور گہری آپﷺکے دہن مبارک سے ہمیشہ خوشبوآتی تھی اور دانت اتنے روشن تھے کہ تبسم آتے ہی چمک ظاہر ہو جاتی ۔داڑھی مبارک گھنی تھی اور نورانی چہرے پر رعب و جمال ایک ساتھ جھلکتا تھا۔

 

آپﷺ کی چال اور نشست و برخاست 

شمائلِ ترمذی میں آتا ہے کہ جب آپﷺ چلتےتو پورے استقلال سےآگے کو جھک کر چلتے گویا بلندی سے اُتر رہے ہوں ،نگاہ ہمیشہ عفت و وقار سے جھکی رہتی۔

 

اندازِ گفتگو 

وقار اور متانت  آپﷺ کی گفتگو کا خاصہ تھی،  الفاظ کم مگر پُر اثر ہوتےاور مخالف پرگہرا  اثر چھوڑتے .آپﷺ جب کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو پورے وجود کے ساتھ اس کی طرف رخ فرما لیتے ،آپ ﷺ کبھی قہقہ نہیں لگاتے تھےبلکہ تبسم آپﷺ کی شخصیت کا حصہ تھاجس سے ہر دل فیض پاتا۔اندازِ گفتگو نہایت پر وقار، سنجیدہ اور سراپا حکمت تھا۔ آپ ﷺ کی زبان سے کبھی تلخی، جھوٹ یا بے ادبی کا لفظ نہیں نکلا۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ عرب، جو فصاحت و خطابت میں مشہور تھے، آپ ﷺ کے اسلوب کے سامنے خاموش ہو گئے۔قرآنِ مجید کا نزول بھی اسی گفتگو کے معجزے کا تسلسل تھا۔ جب آپ ﷺ وحی کے الفاظ بیان کرتے تو اہلِ قریش اس کلام کو سن کر دم بخود رہ جاتے۔ اس میں ایسی تاثیر تھی کہ ایک آیت سننے والا اپنی کیفیت بدلتا محسوس کرتا۔ بعض لوگوں نے کہا کہ یہ کلام انسان کا نہیں، بلکہ جادو ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب کفارِ مکہ نے حضور ﷺ پر جادوگر ہونے کا الزام لگایا۔

وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا

 (اور ظالموں نے کہا: تم تو بس ایک جادو زدہ آدمی کی پیروی کرتے ہو)۔یہ الزام محض زبان کا نہیں تھا، بلکہ اس کے پیچھے سیاسی اور سماجی مفادات بھی تھے۔ قریش کو اندیشہ تھا کہ اگر محمد ﷺ کا پیغام عام ہو گیا تو اُن کی سرداری، ان کے معبودوں اور ان کے تجارتی مفادات کا نظام بکھر جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے نبیِ رحمت ﷺ پر کبھی شاعر، کبھی کاہن، کبھی دیوانہ، اور کبھی جادوگر ہونے کا الزام لگایا تاکہ لوگوں کو آپ سے دور رکھا جا سکے۔

 

لباس و زیب و زینت

آپ ﷺ سادگی میں کمال رکھتے تھےسفید لباس  کو پسند فرماتے  اورجوتا اکثر  دو پٹی والا پہنتے  تھے۔

 

آپﷺکی ملائمت

حضرت انس بن مالک فرماتےہیں ؛

میں نے کبھی کوئی ریشمی کپڑا یا خالص ریشم یا کوئی اور نرم چیز ایسی نہیں چھوئی جو حضور اکرم ﷺکی بابرکت  ہتھیلی سے زیادہ نرم ہو اور میں نے کبھی کسی قسم کا مشک یا کوئی عطرحضور ﷺ کے پسینہ کی خوشبو سے زیادہ خوشبودار نہیں پایا۔

 

حضور اقدس ﷺکے اخلاق و عادات

حضوراقدسؐ اخلاق کے کامل ترین مقام پر فائز تھے ۔خود قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے اخلاق کی تعریف فرمائی چنانچہ سورہ  القلم میں ارشاد ہے:۔

              وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ

ترجمہ:بےشک آپﷺ عظیم اخلاق والے ہیں۔

حضرت امام قرطبیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺمیں تمام اخلاق حسنہ مجتمع  فرما دئیے تھےاور آپ ﷺ کے اندرکوئی ایسا خلق نہ تھا جس پر عیب لگا یاجا سکے۔

 

رحمت و شفقت

حضورِ اقدس ﷺ کی ذاتِ گرامی وہ سرچشمۂ نور و فیض ہے جس سے پوری کائنات میں رحمت و برکت کی تجلیاں عام ہوئیں۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ 

اور ہم نے آپ کو  تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا) – سورۃ الأنبیاء: 107

یہ آیتِ مبارکہ اس حقیقتِ ابدی کا اعلان کرتی ہے کہ حضورِ نبیِ اکرم ﷺ کی رحمت کسی مخصوص قوم، نسل یا زمانے تک محدود نہیں بلکہ تمام عالمین پرمحیط  ہے۔ آپ ﷺ کی بعثت نے انسانیت کو جہالت، ظلم اور گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر عدل، مساوات، ہمدردی اور روحانی بالیدگی کے روشن آفاق سے روشناس کرایا۔ نبیِ رحمت ﷺ نے مظلوموں کو سہارا دیا، غلاموں کو آزادی بخشی، عورتوں کو عزت و وقار عطا فرمایا اور معاشرے کے کمزور طبقات کو عدل و رحمت کے سائے میں پناہ دی۔ آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ اخلاقی کمال، روحانی لطافت اور انسانی شفقت کا ایسا حسین امتزاج ہے جو تاریخِ انسانی  میں اپنی مثال آپ ہے۔ دشمنوں کے ساتھ بھی آپ ﷺ کی عفو و درگزر پر مبنی سیرت نے دنیا کو برداشت، رواداری اور انسان دوستی کا اعلیٰ ترین معیار عطا کیا۔ بطورِ رحمت للعالمین، آپ ﷺ نے امت کو عدل، اعتدال اور 

محبت کی وہ راہ دکھائی جو قیامت تک امنِ عالم کی ضمانت ہے۔ آپ ﷺ کی رحمت کا دائرہ نہ صرف انسانوں بلکہ حیوانات، نباتات اور کل نظامِ کائنات تک پھیلا ہوا ہے۔ بلاشبہ، رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس اللہ کی رحمت کا مظہرِ کامل اور بنی نوعِ انسان کے لیے ہدایت، محبت اور فلاحِ دائمی کا ابدی سرچشمہ ہے۔

شمائل ترمذی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد سے کی گئی شفقت اور محبت کے کئی واقعات ملتے ہیں

 

اولاد سے شفقت اور محبت

امام ترمذی روایت کرتے ہیں کہ نبی نے اپنے نواسے حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو چومتے پیار کرتے اور فرمایا کرتے

من  لایَرحم لا یُرحم

(جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا ،اس پر رحم نہیں کیا جائے گا)

 (شمائل ترمذی ) یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں سے بے حد محبت کرتے اور ان پر شفقت کو ایمان کا حصہ سمجھتے تھے۔

تربیت کا پہلو

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف محبت کرتے بلکہ ان کی اخلاقی تربیت پر بھی توجہ دیتے۔

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

أَكْرِمُوا أَوْلَادَكُمْ وَأَحْسِنُوا أَدَبَهُمْ

(اور اولاد کو عزت دو اور ان کی اچھی تربیت کرو )

(شمائل ترمذی کے مضامین کے مطابق)

 

 نرمی اور رحمدلی

 روایت ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں سجدے میں لمبے وقت تک رہے ۔بعد میں بتایا کہ نواسہ حسن رضی اللہ تعالی عنہ یا حسین رضی اللہ تعالی عنہ پشت پر چڑھ گئے تھے تو اپ نے اس وقت تک سر سجدہ سے نہ اٹھایا جب تک وہ خود نہ اترے۔(شمائل ترمذی)

یہ واقعہ باپ کی غیر معمولی شفقت اور حلم کی مثال ہے۔

 

حضرت محمدﷺ  باحیثیت شوہر

شمائل ترمذی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجی زندگی کے کئی پہلو نہایت پیار ،نرمی اور عدل کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔

 

 اہل خانہ کے ساتھ حسن سلوک

 حضرت عائشہ فرماتی ہیں

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ

(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے کاموں میں اہل خانہ کی مدد فرمایا کرتے تھے) یعنی آپ گھر کے کاموں میں شریک ہوتے ،جھاڑو دیتے ،کپڑے سی لیتے ،جوتے درست کرتے ۔یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عاجزی اور محبت کا مظہر ہے۔

 

 بیویوں کے ساتھ محبت اور عدل

آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازواج ازواج مطہرات کے ساتھ عدل ، احترام اور محبت کا بہترین نمونہ قائم کیا ۔

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں

مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ ﷺ شَيْئًا قَطُّ بِيَدِهِ، وَلَا امْرَأَةً وَلَا خَادِمًا

(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی عورت یا خادم پر ہاتھ نہیں اٹھایا)

(شمائل ترمذی، باب ما جاء فی خلق رسول اللہ ﷺ)

 یہ حدیث ظاہر کرتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ازدواجی زندگی نرمی حلم اور بردباری کا عملی نمونہ تھی۔

 

 بیویوں کے ساتھ خوش اخلاقی

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے ساتھ ہنسی مذاق بھی فرماتے حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دوڑ لگائی وہ جیت گئیں بعد میں ایک سفر میں آپ نے دوڑ لگائی اور فرمایا

یہ اُس دوڑ کا بدلہ ہے

یہ واقعہ ازدواجی محبت اور خوش اخلاقی کی نہایت خوبصورت مثال ہے۔

 

عفوو درگزر

حضرت عائشہ فرماتی ہیں  آپﷺ نے اپنی ذات کی خاطرکبھی کسی سے انتقام نہیں لیاجس نے سب سے زیادہ تکلیف دی آپﷺ نے اس  کو معا ف فرمایا۔طائف میں پتھر مارے گئے مگرآپ ﷺ نے بد دُعا نہ دی فتح مکہ پر فرمایا

“آج تم سب آزاد ہو”

 

حیا وشرم

آپﷺ سب سے زیادہ با حیا تھے۔نگاہیں ہمیشہ نیچی رکھتے  اور بے حیائی سے شدید نفرت فرماتے۔

 

عاجزی و انکساری

غلام او ر یتیم کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھانا تناول فرماتےفرمایا :               

”           میں بادشاہ نہیں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں “

کسی نے تعریف کی تو فرمایا                                                                                                     

مجھےوہی کہو جو میرا رب کہے ” میں ایک بندہ ہوں”۔

 

 

سخاوت و ایثار

           سخی ایسے کہ مٹھیاں بھر بھر کر بانٹتےجاتے کبھی کوئی سائل اس در سے خالی ہاتھ نہ جاتا ، خالی شکم کے ساتھ لوگوں کی سیری کی فکر کرتے۔

حسن ِمعاشرت

تم سب میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل کے لیے اچھا ہو ۔ پھر فرمایا                    “میں تم سب سے بڑھ کر اہل خانہ کے لیے بہتر ہوں”صدق وامانت ایسا کہ اعلان نبوت سے پہلے ہی صادق وامین مشہور ہو گئے۔ہجرتِ مدینہ کے وقت بھی مشرکین کی امانتیں آپ ؐکے پاس  دھری تھیں  جنھیں حضرت  علی کو سونپا گیا کہ لوٹا دیجئے گا۔عدل و انصاف ایسا کہ یہودی بلا خوف آپؐ کے پاس مقدمات لے کر حاضر ہوتے ۔ فرمایا   “اگر میر ی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو سزا دیتا”۔الغرض   اگر قرآن مجید عملی صورت میں کسی نے دیکھناہے تو محمد ﷺ کی زندگی دیکھ لیں۔

حضورِ سیّدِ عالم ﷺ کے اوصافِ حمیدہ دراصل اُس نورانی حقیقت کا مظہر ہیں جس نے انسان کو اس کے خالق سے جوڑا، روح کو معنی دیا، اور تمدن کو اخلاقی بنیاد عطا کی۔ آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ محض تاریخی واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ فلسفۂ حیات ہے، جس میں فکر، اخلاق، عدل، محبت، علم اور روحانیت کے تمام پہلو کامل توازن کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔ آپ ﷺ کے اخلاقِ عظیم کو صرف مذہبی تناظر میں محدود نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ وہ پوری نوعِ انسان کے لیے خیر و ہدایت کا منشور ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کے اوصاف نہ صرف فرد کی اخلاقی تطہیر کا ذریعہ ہیں بلکہ ایک عادل، پرامن اور باشعور معاشرے کی تشکیل کے لیے بنیادی اصول فراہم کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے انسان کو انسان ہونے کا شعور دیا، طاقت کو انصاف کے تابع کیا، علم کو عبادت کا درجہ دیا، اور محبت کو دین کا جوہر قرار دیا۔  اگر آج کی دنیا آپ ﷺ کی سیرت کے ان اصولوں کو اپنا لے تو ظلم و فساد کی جگہ عدل، نفرت کی جگہ محبت، اور جہالت کی جگہ علم و شعور کا غلبہ ہو جائے۔ حضور ﷺ کی ذاتِ اقدس وہ مینارِ نور ہے جو قیامت تک انسانیت کی راہوں کو منور رکھے گا۔ آپ ﷺ کا اخلاق ہی وہ میزان ہے جس پر انسانی عظمت کا حقیقی وزن پرکھا جاتا ہے، اور یہی آپ ﷺ کے اوصافِ حمیدہ کا پیغامِ جاوداں ہے۔حضور ﷺ کے اوصاف کا قصہ ایک لا متنا ہی سلسلہ ہے جس کا احاطہ کرنا کسی طور ممکن نہیں بلکہ اقبال کے بقول

 

سنائی کے ادب سے میں نے غوّاصی نہ کی ورنہ

 ابھی اس بحر میں باقی ہیں لاکھوں لُولوئے لالا

 

اللہ تعالیٰ ہم سب کو آپؐ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔                                               آمین

َرشہوار – کنیٹکٹ