تاکہ تم پہچانی جاؤ
اصغر صاحب نے گھر سے نکلتے وقت حسبِ عادت ثمىنہ کى طرف مسکرا کر دىکھا مگر آج جواب مىں ثمىنہ مسکرائىں نہىں۔ اصغر نے گہرى نظروں سے ثمىنہ کو دىکھا، ہلکا سا مسکرائے اور دفتر کى طرف سے ہونے والى دعوت مىں جانے کے لىے گھر سے نکل گئے۔
آج صبح سے تىنوں لڑکىاں تىارى مىں مصروف تھىں۔ ان کے جلباب، حجاب، برىسلىٹ سب نئے تھے اور ان کے پاس حجاب کى وہ پن بھى تھى جو انہوں نے پچھلے ہفتے جمعہ کى نماز کے بعد مسجد کے باہر اىک اسٹال سے خرىدى تھى۔ ثنا اور سعدىہ تو تىار ہو چکى تھىں لىکن سارہ بے چىنى سے بار بار کبھى اپنا فون دىکھتى، کبھى کھڑکى سے باہر جھانکتى۔
ىہ تىارى کس بات کى ہے؟ کہاں جا رہى ہىں ىہ سب؟ فرح نے پوچھا۔ ہم لوگ فلسطىن کے لىے ہونے والے احتجاج مىں جا رہے ہىں ثنا نے باہر نکلتے ہوئے اونچى آواز مىں بتاىا۔سارہ نے ماىوسى سے آخرى بار فون کو دىکھا اور گىراج کى طرف جانے والے دروازے کى طرف چلى گئى۔ پھر وہ سب گاڑى مىں بىٹھ کر روانہ ہو گئىں۔ گاڑى سے کسى عربى زبان کے گانے کى آواز آ رہى تھى۔
ابھى اُن کو گئے اىک منٹ ہى ہوا تھا کہ Amazon کا ٹرک گلى مىں داخل ہوا۔ ثمىنہ نے فوراً سارہ کو فون کر کے بتاىا کہ ان کا سامان آ گىا ہے۔ تىنوں بچىاں پلٹ کر واپس گھر آئىں۔ جب ثمىنہ نے سارہ کو اس کا پىکٹ دىا تو اس کے چہرے پر خوشى نماىاں تھى۔ اس نے ثمىنہ کو گلے لگاىا،” تھىنک ىو امى“سارہ نے جلدى سے پىکٹ کھولا۔ اس مىں اىک ہار تھا۔ اس نے جلدى سے وہ ہار پہنا اور اس کے بعد ىہ تىنوں دوبارہ روانہ ہو گئىں۔
فرح ىہ سب کچھ دىکھ رہى تھىں لىکن انہوں نے اس وقت ثمىنہ سے کچھ نہىں کہا۔ خاموشى سے نماز پڑھنے اپنے کمرے مىں چلى گئىں۔
جب ثمىنہ باورچى خانے مىں گئىں تو فرح بھى ان کے ساتھ ہى چلى گئىں اور کہنے لگىں، لاؤ اگر کوئى سبزى وغىرہ کاٹنى ہے تو مىں کاٹ دىتى ہوں۔ ثمىنہ نے کہا، نہىں آج کوئى خاص کھانا تو نہىں پکانا ہے کىونکہ اصغر آفس کى طرف سے کہىں کھانے پہ گئے ہوئے ہىں اور ىہ تىنوں لڑکىاں رات کو کھانا کھا کر ہى آئىں گى، تو ہم بس کچھ بچا کُچا نکال کر گرم کر لىتے ہىں۔
وىسے ىہ تىنوں گئى کہاں ہىں؟ فرح نے پوچھا۔ ثمىنہ نے ذرا سے توقف کے بعد مضبوط لہجے مىں جواب دىا، فلسطىن کے لىے احتجاج مىں شرکت کرنے کے لىے گئى ہىں۔ آج کل کے نوجوانوں مىں بہت جوش ہے۔ انہى احتجاجوں کى وجہ سے اب رائے عامہ تبدىل ہو رہى ہے، اىک پرىشر بلڈ اپ ہو رہا ہے اور ان شاءاللہ اس کى وجہ سے کوئى خىر نکلے گا۔
ان شاءاللہ، ان شاءاللہ مظلوموں کے صبر اور ہمت اور ہمارى نوجوان نسل کى طاقت سے ضرور کوئى خىر نکلے گا۔ فرح کے لہجے مىں امىد نماىاں تھى۔فرح آپا، امرىکہ مىں بچوں کے کام کرنے کا انداز مختلف ہے۔ پچھلے دو سالوں مىں احتجاج نے جو ىہ زور پکڑا ہے نا تو مختلف کمپنىوں نے حجاب، جلباب، Keychain ، ہار، برىسلٹ، چادرىں، شال، بىگز اور طرح طرح کى چىزىں نکالى ہىں جو فلسطىن کے جھنڈے کے رنگ کى ہىں ىا پھر غزہ کے اسکارف کے ڈىزائن کى ہىں، اور ىہ سب کچھ ہمىں اىک تبدىلى کا پىغام دے رہا ہے۔
آپ دىکھىے ہر جگہ مسلمان اور غىر مسلم بہت سے لوگ اپنے گلے مىں فلسطىن کى آزادى کے لىے اسکارف ىا زىور پہنے نظر آتے ہىں جس کا مطلب ہے کہ آخر دنىا کو پتا چل ہى گىا ہے کہ سچ کىا ہے اور جھوٹ کىا۔ ثمىنہ نے کہا۔
ہاں ىہ بات تو ٹھىک ہے کہ دنىا کو بہت کچھ پتا چل رہا ہے۔ فرح کے چہرے پر تشوىش کے آثار تھے۔آپا، آپ پہلى بار امرىکہ آئىں ہىں، اس لىے آپ کو اندازہ نہىں ہے کہ ىہاں لڑکىوں کے باہر جانے مىں کوئى خطرہ نہىں ہوتا۔ اس ملک مىں رائے کى آزادى کى بہت اہمىت ہے اور ىہ تىارى ىکجہتى کى نشاندہى کرنے کے لىے کى جاتى ہے۔اىک طرح کے کپڑے ىا اىک رنگ کے لباس پہننے سے اىک ماحول بنتا ہے اور ىہ سىاسى پرىشر بلڈ اپ کىا جا رہا ہے اور دنىا کو پتا چل رہا ہے۔ اور ىہ صرف امرىکہ مىں نہىں بلکہ ىورپ کے بہت سے ممالک، آسٹرىلىا اور کىنىڈا مىں بھى ہو رہا ہے۔
غىر مسلم بھى اس طرح کے کپڑے پہن کر باہر نکلتے ہىں جس سے پتا چلتا ہے کہ اب اس ظلم کى رات کا انجام ہونے ہى والا ہے۔ ثمىنہ نے مدافعانہ انداز مىں اىک تمہىدى بات کى۔
فرح خاموشى سے ثمىنہ کى بات سنتى رہىں، پھر بولىں، اچھا چلو کھانا کھا لىتے ہىں۔
فرح کا تعلق عمر کے اس دور سے تھا جب بصارت کمزور مگر بصىرت تىز ہو چکى ہوتى ہے۔ جب شاىد ہاتھ مىں پکڑى ہوئى سوئى مىں دھاگہ ڈالنا مشکل ہوتا ہو، مگر زندگى کى ڈور مىں کب کہاں کوئى گرہ لگانا ضرورى ہو جائے، ىا وقت کى چادر مىں کب کوئى ٹانکہ ٹوٹنے والا ہے، وہ دور ہى سے نظر آ جاتا ہے۔جب جوانوں کى آنکھىں آج کى چکا چوند مىں خىرہ ہو رہى ہوں، تو ان کو مستقبل کے اندھىرے بہت دور نظر آ تے ہىں۔
بچىاں رات کو کافى دىر سے واپس آئىں۔ اگلى صبح اتوار تھا، بارہ بجے تک کوئى سو کر نہىں اٹھا۔ اىک بجے کے قرىب ثنا اٹھى اور اپنى کافى بنانے باورچى خانے مىں آئى تو وہاں فرح بىٹھى تھىں۔
وہ اپنى کافى لے کر وہىں بىٹھ گئى اور پوچھنے لگى، پھپھو، آپ کىسى ہىں؟ اور آپ کو اب تک امرىکہ کىسا لگ رہا ہے؟
فرح نے کہا، ہاں امرىکہ مجھے اچھا لگ رہا ہے۔ بہت سے اسلامى ممالک کے برخلاف ىہاں لوگوں کو رائے کى آزادى حاصل ہے اور عام شہرى کے بہت سے حقوق ہىں جن کا انہىں پتا بھى ہے اور انہىں ملتے بھى ہىں۔ارے واہ پھپھو، آپ سے بات کر کے تو ىوں لگ رہا ہے کہ آپ نے تو پورى civic کى کلاس پڑھ رکھى ہے۔
فرح دھىرے سے مسکرائىں، پھر بولىں، تم سناؤ، کىا کىا ہوا کل رات؟کل بہت اچھا رہا۔ لوگوں مىں بہت جوش تھا، بہت رش تھا وہاں۔ بہت سارے نوجوانوں نے مل کر تقرىباً دو مىل لمبى واک کى اور اس مىں ہم نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے، ظلم کے خلاف احتجاج کىا۔ سردى بھى بہت ہو رہى تھى لىکن ہم لوگ بہت دور تک چلتے گئے۔ ہر طرح کے رنگ، نسل کے لوگ تھے جو اپنے احتجاج کا اظہار کر رہے تھے۔ اس کے بعد ہم لوگ کھانا کھانے چلے گئے۔ واپسى پر ہم کوفى پىنے رک گئے تھے اور اس کے بعد کافى لىٹ نائٹ گھر واپس آئے، ثنا نے جذباتى انداز مىں بتاىا۔
اس کے بعد کىا ہوا؟ فرح نے پوچھا۔
کىا مطلب اس کے بعد کىا ہوا؟ اس کے بعد ہم گھر آ کے سو گئے اور ابھى مىں آپ کے سامنے بىٹھى ہوں، ثنا نے کہا اور پھر تعجب سے پوچھا، پھپھو آپ کو پتا ہے ناں کہ فلسطىن مىں کىا ہو رہا ہے؟
فرح نے کہا، ہاں بىٹا، مجھے پتا ہے فلسطىن مىں کىا ہو رہا ہے۔تو پھر مجھے آپ کا سوال سمجھ مىں نہىں آ رہا ہے کہ آپ کىوں پوچھ رہى ہىں اس کے بعد کىا ہوا؟ بس اب ان شاءاللہ بہت جلد ظلم کا خاتمہ ہوگا، ثنا نے کہا۔
فرح نے کہا، ہاں ان شاءاللہ، ان شاءاللہ ىہى ہوگا، ہم سب ىہى چاہتے ہىں۔ثنا الجھى الجھى نظروں سے فرح کى طرف دىکھتے ہوئے کافى لے کر کمرے سے باہر نکل گئى۔ جب وہ اپنے کمرے کى طرف جا رہى تھى تو راستے مىں اسے سعدىہ ملى جو ابھى کمرے سے نکل رہى تھى۔ثنا نے اس سے کہا، سعدىہ، تم نے کبھى سوچا ہے کہ ہمارے اس احتجاج کے بعد کىا ہوگا؟
سعدىہ نے کہا، کىا مطلب؟ ثنا نے کہا، پھپھو ابھى کچن مىں مجھ سے پوچھ رہى تھى کہ اس احتجاج کے بعد اب کىا ہوگا۔ مجھے ان کا سوال کچھ کچھ سمجھ مىں تو آىا ہے لىکن مىرے پاس اس کا کوئى جواب نہىں تھا۔سعدىہ آنکھىں ملتے ہوئے کہنے لگى، ابھى مىں نے کافى نہىں پى ہے، مىرى تو آنکھ ہى نہىں کھلى ہے، مجھ سے ىہ سوال نہىں پوچھو، ہم بعد مىں اس موضوع پر بات کرىں گے۔سعدىہ جب باورچى خانے مىں گئى تو وہاں فرح بىٹھى ہوئى تھىں۔ انہوں نے اس سے وہى سوال کىا جو انہوں نے ثنا سے کىا تھا، اور تقرىباً وہى سارى باتىں ہوئىں جو ثنا کے ساتھ ہو چکى تھىں۔
سعدىہ بھى خاموش رہى اور فرح نے بھى ىہى کہہ دىا کہ ہاں انشاءالله ظلم کا خاتمہ جلد ہوگا۔ اب سعدىہ بھى الجھے الجھے سوالات ذہن مىں لے کر اپنے کمرے کى طرف چلى گئى۔اب سارہ اٹھى اور اب تىسرى بار بھى ىہى سارى گفتگو دہرائى گئى۔دوپہر کے کھانے کے وقت مىز پر سب موجود تھے۔ ثنا، سعدىہ، سارہ، فرح، ثمىنہ اور اصغر صاحب۔ سب کھانا کھا رہے تھے اور کل رات کو ہونے والے پروٹىسٹ کى باتىں ہو رہى تھىں، جس پر سارہ نے فرح سے پوچھا،پھپھو، صبح آپ نے جو بات مجھ سے پوچھى کہ اب پروٹىسٹ کے بعد کىا ہوگا، تو ىہ سوال کچھ کچھ تو مىرى سمجھ مىں آىا ہے لىکن کچھ کچھ نہىں بھى آىا۔ اور جو جواب مىں نے دىا وہ مىرے خىال سے تو درست تھا، لىکن پتا نہىں کىوں آپ نے سوال کچھ اس انداز مىں پوچھا تھا کہ مجھے اىسا لگ رہا ہے کہ مىرا جواب شاىد تسلى بخش نہىں تھا۔ مىں کچھ الجھ سى گئى ہوں۔ کىا آپ مجھے کچھ وضاحت سے بتائىں گى کہ آخر آپ پوچھ کىا رہى تھىں؟
فرح مسکراتے ہوئے کہنے لگىں، بىٹى، ىہ کوئى وضاحت طلب بات تو نہىں ہے، لىکن ہاں، ىہ بڑا اچھا ہے کہ تم خود ہى اس سوال کو اپنے دل سے اٹھا رہى ہو کہ کل جو کچھ ہوا وہ کىوں ہوا اور اب آگے کىا ہو گا۔ابھى فرح کچھ اور کہتىں کہ ثمىنہ جلدى سے بولىں، ارے آپا، آپ کىوں اتنى سنجىدہ ہو رہى ہىں؟ آج کل کے بچے بہت حساس اور عقلمند ہىں۔ وہ ظلم کو اس طرح برداشت نہىں کرىں گے جس طرح پہلے کے لوگوں نے کر لىا تھا۔ جب وہ ظلم کو ہوتا ہوا دىکھتے ہىں تو اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہىں۔
آج کل سوشل مىڈىا کا دور ہے۔ پہلے جو خبرىں ٹى وى اور اخبار والے عوام تک پہنچنے نہىں دىتے تھے، آج ان نوجوانوں کى وجہ سے دنىا کو اس ظلم کے بارے مىں پتا چل گىا ہے، اور مىں بہت فخر محسوس کرتى ہوں کہ مىرى بچىاں حق کے لىے اپنى آواز بلند کرنے کو ہر وقت تىار ہىں۔ثمىنہ نے بہت دفاعى انداز مىں کہا۔ ان کے لہجے مىں اىک تىزى تھى اور سانس بھى پھول رہى تھى۔
تىنوں لڑکىاں حىرت سے اپنى ماں کو دىکھ رہى تھىں، پھر ثنا نے ثمىنہ کو دىکھ کر کہا، “Mom, relax. Why are you getting so excited”؟
فرح نے ان سب کى طرف دىکھا اور دھىمے لہجے مىں کہا، ثمىنہ، تمہارى بات بالکل درست ہے اور مجھے بھى اس بات سے اتفاق ہے۔ جبکہ آج پورى دنىا کى نوجوان نسل نے مل کر اىک ہى مقصد کے لىے اپنے آپ کو متحد کر دىا ہے اور ىہ بڑى خوشى کى بات ہے۔اصغر صاحب، جو اپنى بىوى اور بہن کے درمىان ہونے والى گفتگو کو بہت غور سے سن رہے تھے، انہوں نے باتوں کا موضوع بدل کر موسم کى بات شروع کى اور دوبارہ چمچ اٹھا کر کھانا کھانا شروع کر دىا۔
فرح اىک سنجىدہ اور بردبار خاتون تھىں۔ انہوں نے اسلامک اسٹڈىز اور سوشىالوجى مىں ڈبل ماسٹرز کىا تھا، جبکہ ثمىنہ کى شادى ہائى اسکول کے بعد ہو گئى تھى۔ لىکن فرح نے کبھى کوئى اىسى بات نہىں کى تھى جس سے اىسا کوئى تاثر ملتا ہو کہ وہ خود کو ثمىنہ سے برتر سمجھتى ہىں، لىکن ثمىنہ ہمىشہ خود کو ان سے کم سمجھتى تھىں۔
پھر اصغر صاحب کى نوکرى امرىکہ ہو گئى اور اب ثمىنہ کو سسرال چھوڑے پچىس سال ہو چکے تھے، لىکن ىہ انسانى نفسىات بھى عجىب چىز ہوتى ہے۔ آج کئى سالوں کے بعد جب فرح آپا ان کے گھر آئىں تو ثمىنہ کو ماضى کے دن ىاد آنے لگے اور ان پر کمترى کا اىک احساس غالب آ گىا، اور انہوں نے بلا وجہ ىہ سوچنا شروع کر دىا کہ فرح ان کى تربىت مىں نقص نکال رہى ہىں، حالانکہ تىنوں بچىاں اپنى پھپھو کى باتوں مىں کافى دلچسپى لے رہى تھىں۔
رات کو اصغر صاحب نے ثمىنہ سے کہا، آج کھانے کى مىز پر مىں نے محسوس کىا کہ تم تھوڑى سى tense لگ رہى تھىں، آخر کىا بات ہے؟ثمىنہ نے کہا، نہىں، اىسى تو کوئى بات نہىں ہے۔اصغر صاحب نے کہا، تم جانتى ہو کہ مىں ان لوگوں مىں سے نہىں ہوں جو عدل کے خلاف جا کر اپنى بہن کے مقابلے مىں بىوى کا ىا بىوى کے مقابلے مىں بہن کا ساتھ دے۔ثمىنہ نے کہا، آپ کے گھر مىں شادى کے وقت مىرى کوئى تعلىمى حىثىت نہىں تھى، لىکن اب مىں پڑھى لکھى ہوں اور مختلف درسوں مىں بھى جاتى ہوں، اور دىن کى سمجھ بوجھ بھى رکھتى ہوں، اس لىے آج جب فرح آپا نے بچىوں کى مصروفىات کے حوالے سے اپنى رائے کا اظہار کىا تو مجھے اچھا نہىں لگا۔کىونکہ مىں اس قابل ہوں کہ اپنى زندگى اور اپنے بچوں کى زندگى کے فىصلے کر سکوں۔
اصغر صاحب ثمىنہ کى بات سن کر دھىرے سے مسکرائے اور کہنے لگے، مجھے معلوم ہے کہ تمہارى تعلىم بھى مکمل ہو چکى ہے اور تم اپنى بچىوں کى بہت اچھى تربىت بھى کر رہى ہو، لىکن مىں فرح آپا کو بھى جانتا ہوں، اور جہاں تک مىرا خىال ہے، وہ کبھى بھى تمہارى تربىت ىا تمہارى زندگى مىں دخل اندازى کرنے کى کوشش نہىں کرىں گى۔لىکن جىسا کہ تم نے کہا کہ اب تم درسوں مىں بھى جاتى ہو اور دىن کى سمجھ بوجھ بھى حاصل کر رہى ہو، تو مىں اتنا ضرور کہوں گا کہ تم بدگمانى سے بچو، اور اگر فرح آپا بچىوں کے بارے مىں کچھ کہنا چاہ رہى ہىں تو اس کو کھلے دل سے سنو۔
کىونکہ مجھے ىقىن ہے کہ فرح آپا ہمارى بچىوں کى خىر خواہ ہىں۔ اگر کوئى اىسى بات ہمارى نظروں سے اوجھل ہو گئى ہے اور انہىں وہ باہر سے آنے کے باعث نظر آ رہى ہے، اور اگر وہ اس کى نشاندہى کر دىں تو اس سے ہمارى بچىوں کا فائدہ ہى ہوگا، نقصان نہىں ہوگا۔اور اگر فرح آپا کوئى اىسى بات کرىں جس سے ہمارى بچىوں کا نقصان ہو تو ظاہر ہے کہ نہ تم اس کو مانو گى اور نہ مىں مانوں گا۔ اس لىے مىرا مشورہ ىہ ہے کہ تم ان کى بات سن لو اور اس کے بعد دىکھو کہ کىا وہ بات قابلِ عمل ہے ىا نہىں۔ثمىنہ ىہ بات سننے کے بعد کہنے لگى، جى، آپ ٹھىک کہہ رہے ہىں، لىکن مىں بھى انسان ہوں، کبھى کبھى دل مىں کچھ خىالات آ ہى جاتے ہىں۔لىکن آپ درست کہہ رہے ہىں
آج ہفتے کا دن تھا، سب دىر سے سو کر اٹھے، ناشتے کے بعد سب اپنى اپنى کوفى لے کرادھر ادھر بىٹھے تھے کہ سارہ کو ىاد آىا کہ پچھلے ہفتے پھپھو پروٹىسٹ کے بارےمىں کوئى بات کر رہى تھىں۔
فرح نے اىک نظر سارہ پر ڈالى اور کچھ سوچتے ہوئے آہستہ سے کہا، تم نے صحىح کہا ہے کہ آج دنىا مىں جو بھى ظلم ہو رہا ہے اس کے خلاف پروٹىسٹ کرنا اور اپنى آواز بلند کرنا بہت ضرورى ہے، لىکن مىرے ذہن مىں اىک بات آتى ہے اور وہ ىہ ہے کہ اگرآج اللہ کے نبى رسول اللہ ﷺ ىہاں ہوتے تو کىا ہوتا؟
ثمىنہ نے حىرت اور تجسس سے کہا آپا اس سوال کا کىا مطلب ہے؟
فرح نے کہا اس سوال کا مطلب صرف ىہ ہے کہ، جب ہمىں زندگى مىں کوئى اىسا بڑاسا کام کرنا پڑے جو ہم نے پہلے کبھى نہىں کىا تو اس کو کرتے وقت اىک لمحے کو رک کر ضرور سوچنا چاہىے کہ ہمارا دىن اس کام کو کرنے کا طرىقہ کىا بتاتا ہے۔ ظلم کےخلاف کھڑے ہونا تو ضرورى بات ہے لىکن اس کا طرىقہ کىا ہوگا، ىہ ہمىں بہرحال سنت سے ىا ماضى کے اسلاف کى عادات اور طور طرىقوں سے معلوم چلے گا۔
سارہ کہنے لگى اچھا مجھے آپ کى بات کچھ کچھ سمجھ مىں تو آ رہى ہے لىکن مجھےلگتا ہے کہ ہمىں بىٹھ کر بہت تفصىل سے بات کرنى پڑے گى، ىہ سرسرى سى کرنےوالى بات نہىں ہے۔فرح نے کہا مجھے اس نوجوان نسل کى ىہ بات بہت اچھى لگتى ہےکہ تم باتوں کو سمجھنا چاہتے ہو، صرف جذبات مىں آ کر کوئى کام نہىں کرتے بلکہ پورى سوچ سمجھ، تدبىر اور ارادے کے ساتھ فىصلے کرتے ہو، اور پڑھے لکھے ہونے کا سب سے بڑا فائدہ ىہى ہوتا ہے کہ انسان ہمىشہ اپنے کاموں کو سوچ سمجھ کے کرتا ہے۔
اتنے مىں فون کى گھنٹى بجى، ثمىنہ فون اٹھانے دوسرے کمرے کى طرف جانے لگىں تو فرح سے کہہ کر گئىں “آپا پلىز اىک منٹ رکئے، مىں فون سن کر آتى ہوں، پھر بات کىجىے گا کىونکہ مجھے بھى سننا ہے۔”فرح نے مسکراتے ہوئے ثنا سے کہا بىٹى اتنى دىر مىں تم مىرے لىے اىک گلاس پانى لےآؤ۔
ثمىنہ حسب وعدہ فوراً ہى واپس آ گئىں، اور فرح نے اپنى بات دوبارہ شروع کى اور بولىں، تم لوگ اپنے فون، مىڈىا، اپنى آواز اور اپنے اثر و رسوخ کا استعمال بہت اچھى طرح کررہے ہو اور ىہى وجہ ہے کہ آج دنىا مىں لوگوں کى رائے تبدىل ہو رہى ہے۔ حق، حق بن کر اور باطل، باطل بن کر نظر آ رہا ہے۔ پچھلے کئى سالوں سے باطل نے اپنے آپ کو جس طرح مضبوط کر لىا تھا، اس وقت کسى کے وہم و گمان مىں بھى نہىں تھا کہ دنىا مىں جھوٹ کے پردوں مىں چھپا کر جو ظلم کىا جا رہا تھا، اس کا پردہ اس طرح چاک ہو جائے گا۔
پھوپھو آپ بالکل ٹھىک کہہ رہى ہىں، اکثر لوگ تو سمجھتے ہى نہىں ہىں کہ ہمارے ہاتھوں مىں ہر وقت فون کىوں ہوتا ہے۔ سعدىہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ىہ فون کا ہر وقت ہاتھوں مىں رہنا اىک الگ بحث ہے جو ہم کبھى اور کرىں گے۔ ثمىنہ نے بھى مسکراتے ہوئے اسے دىکھا اور کہا، اور سب لوگ ہنس پڑے۔لىکن پھر سب ہى سنجىدگى سے فرح کى طرف متوجہ ہو گئے اور وہ بولىں، وہ اىک بات جو مىں نے پہلے بھى کہى تھى کہ اگر آج اللہ کے نبى ﷺ ہوتے تو کىا ہوتا؟ تو ىہ وہ بات ہے جو بحىثىت مسلمان ہمىں کسى بھى کام کو کرتے وقت ضرور سوچ لىنى چاہىے۔
پھوپھو پلىز آپ تفصىل سے بتائىے کہ اس بات کا کىا مطلب ہے؟ سارہ نے کہا۔اىسا کرو، تم ذرا خود سے سوچنے کى کوشش کرو اور بتاؤ کہ جب تم لوگ اىک تھىم کے تحت تىار ہوئىں، اپنى آواز بلند کى، حلال رىسٹورنٹ گئىں، مسلمانوں کو بزنس دىا تو اس سے پرىشر بلڈ اپ تو ىقىناً ہوا اور ساتھ ہى ساتھ مسلمانوں کى معىشت بھى مضبوط ہو رہى ہے، اور ىہ بہت اچھى بات ہے۔ لىکن بات ىہاں پر ختم نہىں ہوتى کہ معىشت کےمىدانوں، بازاروں اور اىوانوں مىں کىا ہو رہا ہے، سب سے اہم بات ىہ ہے کہ ہمارے دل مىں کىا ہو رہا ہے۔
پھوپھو دل مىں تو ظاہر ہے کہ غم ہے، ظالموں کے خلاف غصہ ہے اور مظلوموں کےلىے ہمدردى اور محبت ہے، ثنا نے جواب دىا۔ہاں بىٹى ىہ سب تو ہے مگر کىا ہى اچھا ہو کہ جب ہم کسى کے درد کو سمجھنے کى بات کرىں تو ان کے درد کو محسوس کرتے ہوئے ان کى ہمت اور حوصلے کى بھى بات کرىں،اور ان جىسا بننے کى کوشش کرىں۔ اپنے اعمال اور گناہوں پر بھى نظر رکھىں۔ اس وقت پورى دنىا نے دىکھ لىا ہے کہ اہلِ غزہ کا جو تعلق اللہ کے ساتھ ہے اس کى مثال آج کل کى دنىا مىں کہىں دىکھنے کو نہىں ملتى۔
ان کى قربانىوں نے ہم سب کو اپنے اسلاف کى ىاد دلا دى ہے کہ اسلام کى سربلندى کے لىے انہوں نے کىسى کىسى تکلىفىں برداشت کى تھىں، اور ان کا اللہ کے ساتھ تعلق اور اىمان کتنا مضبوط ہے۔ہاں پھوپھو، آپ ٹھىک کہہ رہى ہىں، مجھے تو پہلے حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ کے مفہوم کا پتہ بھى نہىں تھا، لىکن ىہ کس طرح سے ان مضبوط لوگوں کا اوڑھنا بچھونا ہے،واقعى ہمىں ان سے ىہ سب سىکھنے کى طرف توجہ دىنى چاہىے۔
مىں ىہى کہہ رہى ہوں کہ سىاسى اور سماجى طور پر تو ہم بہت کچھ کر ہى رہے ہىں لىکن کىا ہى اچھا ہو کہ ہم اگر ان سب باتوں کے ساتھ اپنى ذاتى زندگى مىں اىمان بڑھانے، سادگى اختىار کرنے اور اپنى زندگى کو بامقصد بنانے کى طرف زىادہ توجہ دىں تو ىہ سنت سے بھى زىادہ قرىب ہو گا، اور سادگى مىں اسلام کى جو شان و شوکت ہے اس کا بھى مظاہرہ ہو گا۔اور سب سے بڑھ کر ہمارے بہادر اور باہمت بہن بھائىوں کى ثابت قدمى، قربانىاں اورہمت رائىگاں نہىں جائے گى۔
پھوپھو کىا آپ کو لگتا ہے کہ ہمىں اس پروٹىسٹ کا نتىجہ جلد نظر آ جائے گا؟ثنا کے لہجے مىں اىک تشوىش چھپى تھى۔مسلمان ہونے کى حىثىت سے ہم ہر وقت پُرامىد رہتے ہىں کىونکہ ماىوسى تو ہونى ہى نہىں چاہىے۔ لىکن اصل بات ىہ ہے کہ کسى بھى کام کو کرتے وقت ہمىں اپنے دل پرنظر رکھنى چاہىے کہ ہمارے اىمان کى کىا حالت ہے۔ اور اس وقت اپنے آپ سے ىہ سوال ضرور پوچھو کہ تم خود کو اللہ سے کتنا نزدىک محسوس کرتى ہو۔
بہت مشکل سوال کىا ہے پھوپھو آپ نے، سارہ نے سوچتے ہوئے کہا۔خوب اچھى طرح سمجھ لو کہ ىہ سوال مىں تم سے نہىں کر رہى ہوں بلکہ ىہ سوال تم اپنے آپ سے کرو۔ فرح نے سنجىدگى سے کہا۔ جب ہمارے قدم کسى مقصد کے تحت اُٹھتے ہىں اور ہم جہدِ مسلسل کا ارادہ بھى باندھ لىتے ہىں، اس وقت شىطان ہمىں کمزور کرنے کے کئى طرىقے استعمال کرتا ہے۔ اور اىسے موقع پر کبھى کبھى بندہ اللہ سے ىا اپنے مقصد سے دور ہو جاتا ہےاور اسے پتا بھى نہىں چلتا۔
اىسے مىں ہو سکتا ہے کہ انسانوں کا ہجوم کامىاب ہو جائے، کىونکہ عوام کى طاقت کےآگے اکثر حکومتىں ہار جاتى ہىں۔ اور ہم سب ىہى امىد کرتے ہىں کہ ان پروٹىسٹ کابہت مثبت نتىجہ نکلے گا۔ لىکن ہمارى نظر اس بات پر بھى ہونى چاہىے کہ اگر ہمارےدل اور دماغ قابو مىں نہ رہىں تو بندہ اللہ سے دور ہو کر نىکى کے عمل کو بھى ضائع کر بىٹھتا ہے، ىعنى کبھى کبھى مقصد تو کامىاب ہو جاتا ہے مگر بھىڑ مىں کھڑا اىک انسان ناکام ہو جاتا ہے۔
ثنا، سعدىہ، سارہ اور ثمىنہ سب خاموشى سے فرح کى باتىں سن رہى تھىں۔بات کو آگے بڑھاتے ہوئے فرح نے بچىوں سے پوچھا، “تم لوگ اس رات جو دىر تک باہرتھى تو عصر اور مغرب کى نمازىں کہاں پڑھىں؟”عصر کى نماز تو ہم نے جانے سے پہلے پڑھ لى تھى، لىکن ہمارى مغرب قضا ہو گئى کىونکہ رش بہت تھا اور اس وقت وہاں نماز پڑھنے کى کوئى جگہ نہىں تھى۔
ہم نےگھر آ کر عشاء کے ساتھ مغرب کى قضا نماز پڑھى۔ سارہ نے ندامت سے کہا۔بىٹى، جسمانى تىارىاں اپنى جگہ ٹھىک ہىں لىکن اس بات کو ىاد رکھو کہ مسلمانوں کے لىےاللہ تعالىٰ نے دنىا مىں کامىابى کى اىک ہى شرط رکھى ہے، اور وہ ہے تقوىٰ۔ اگرکوئى شخص دنىا بنانا چاہتا ہے تو شاىد وہ جھوٹ، دھوکے بازى اور لوٹ مار کر کے بھى کما ہى لے گا، لىکن اسلامى نقطۂ نظر سے کامىابى حاصل کرنے کے لىے صرف اىک شرط ہے ۔
تقوىٰ ،تقوىٰ کا مطلب کىا ہوتا ہے؟ ثنا نے سوال کىا۔
تقوىٰ کا مطلب ہوتا ہے۔بچنا۔ تقوىٰ برے کاموں سے بچنے کا نام ہے، اور ہر وہ کام برا ہے جس کا انجام برا ہو، ىا جس کے کرتے وقت آپ کى نماز روزہ اور عبادات مىں کمى آئے ۔ فرح نے پىار سے سمجھاتےہوئے کہا۔ پروٹىسٹ مىں جانے سے پہلے اور آنے کے بعد، اور تہجد مىں اٹھ کر اپنے فلسطىنى بہن بھائىوں کے لىے نوافل پڑھ کر دعائىں مانگنا سب سے زىادہ ضرورى ہے۔
ثنا، سارہ اور سعدىہ کى سمجھ مىں پھوپھو کى سارى باتىں آ رہى تھىں، ثمىنہ نے کہا آپا، اىک بات جو مجھے خلش مىں مبتلارکھتى ہے وہ ىہ کہ بچىوں کو پروٹىسٹ مىں جانے کے لىے ىہ حجاب، جلباب اور ہار وغىرہ ہم اس لىے لىنے دىتے ہىں کىونکہ امرىکہ مىں اىک مضبوط اور کامىاب انسان کو اس کے لباس سے جج کىا جاتا ہے۔ اىسے مىں انسانى عقل کہتى ہے کہ جب ہم لوگوں کو اپنى باتوں سے قائل نہىں کر سکتے تو کم از کم اپنے حال حلىے سے تو اىسے نظر آئىں کہ کوئى ہمىں گنوار تو نہ سمجھے، ہم ىہاں کے رواج کے مطابق ڈىسنٹ تو لگىں۔ ثمىنہ کے لہجے مىں امىد اور ماىوسى کى اىک ملى جلى سى کىفىت جھلک رہى تھى۔مىرى پىارى ثمىنہ، تم اتنى بہادر بىٹىوں کى ماں ہو، ىہ تمہارے لہجے مىں کمزورى کىوں جھلک رہى ہے؟ ” فرح کے لہجےمىں شفقت نماىاں تھى۔
آپا، ىہ مىں نے اس لىے کہا کىونکہ ان سارے احتجاج کے باوجود بھى ہم ابھى اتنےمضبوط نہىں ہوئے ہىں کہ لوگ ہمىں ہمارے اوصاف اور معىار سے پہچانىں۔ اگر ہم اس ملک مىں رہتے ہوئے تھوڑے بہت انداز ان لوگوں کے بھى اپنائىں تو شاىد ہم ستائے نہ جائىں۔ ثمىنہ نے وضاحتى انداز مىں کہا۔
ستائے نہ جانے کا نسخہ تو اللہ تعالىٰ نے قرآن مىں ہمىں دے ہى دىا ہے:۔
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا
اے نبىؐ! اپنى بىوىوں اور بىٹىوں اور اہلِ اىمان کى عورتوں سے کہہ دىجىے کہ اپنےاوپر اپنى چادروں کے پلو لٹکا لىا کرىں، ىہ زىادہ مناسب طرىقہ ہے تاکہ وہ پہچان لى جائىں اور نہ ستائى جائىں۔ اللہ تعالىٰ غفور و رحىم ہے۔
(٥٩ الأحزاب)
فرح نے بہت پىار سے ثمىنہ کو دىکھا اور کہا، “مجھے تمہارے گھر آ کر بہت اچھا لگ رہا ہے اور سب سے زىادہ خوشى مجھے اس بات کى ہے کہ تم نے اپنے گھر اور بچوں کو بہت اچھى طرح رکھا ہے۔ اور تمہارا ىہ سوال تمہارى ذہانت کى نشاندہى کر رہا ہے کہ تم زمانے سے الگ تھلگ ہو کر نہىں رہنا چاہتى ہو بلکہ اس سسٹم مىں رہ کر اس سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتى ہو۔
” اور تمہارے سوال کے جواب مىں ىہ بھى کہوں گى کہ اب جب کہ دنىا کو نظر آ ہى گىا ہےکہ مسلمان کون ہوتے ہىں اور کىا کرتے ہىں، تو اىسے مىں اگر ہم اپنى شناخت کومضبوط کرىں، اپنى اقدار اور رواىات پر قائم رہىں تو ىہ زىادہ فائدہ مند ہوگا۔
اگرچہ معاشى اور سىاسى طور پر ہم ابھى بھى بہت مضبوط نہىں ہىں، مگر نظرىاتى حوالے سے ہم کمزور نہىں۔ فلسطىن کى ماؤں اور بىٹىوں نے دنىا کو بتا دىا ہے کہ اىک مسلمان عورت کى کىا شان ہے اور اس مىں کتنى ہمت ہے۔
اىسے مىں اگر مسلمان لڑکى باوقار انداز مىں رہ کر پروٹىسٹ مىں جائے، اپنے لباس، حال حلىے، عبادات اور اپنى body language کا بھى خىال رکھے، اور ہر قدم پر تقوىٰ اور عملِ صالح کو ذہن مىں رکھے، تو پھر دنىا مىں جو بھى مسئلے چل رہے ہىں وہ اگر ہمارى زندگىوں مىں حل نہ بھى ہوں، تب بھى ہم اپنے اپنے طور پر کامىاب ہوجائىں گے۔
ثمىنہ نے اٹھ کر فرح کو گلے لگاىا اور کہا، “آپا، آپ نے مىرى بچىوں کى زندگى اور آخرت کى کامىابى کے لىے بہت اہم باتىں بتائىں۔ مجھے بہت خوشى ہے کہ آپ ہمارے گھر آئىں۔ آپ مجھے اور مىرى بچىوں کو ہمىشہ اپنى دعاؤں مىں ىاد رکھىے گا۔”
دور کھڑے اصغر صاحب ىہ منظر دىکھ کر مسکرا دىے۔ ثمىنہ بھى انہىں دىکھ کر مسکرائىں، اور وہ اپنے کمرے مىں چلے گئے۔