حجاب مسلمان عورت کی پہچان ہے۔

ورلڈ حجاب ڈے ایک سالانہ ایونٹ ہے امریکہ میں جس کی بنیاد بنگلہ دیش کی ناظمہ خان نے 2013 میں رکھی، جو ہر سال  پہلی فروری کو امریکہ میں اور تمام اسلامی ممالک میں سمتبر میں منایا جاتا ہے۔  حجاب ڈے کے ذریعے اس تحریک کو منظم کیا، جاتا ہے جس کے ذریعہ  پوری دنیا کے  پچاس ممالک کی مسلمان عورت کے حجاب کا مقصد کو واضح کیا جاتا ہے اور غیر مسلم خواتین بھی اس سے متاثر ہوتی ہیں اس کا مقصد مسلمان خواتین کی حجاب پہننے کے لیے ہمت افزائی کرنا اور  انہیں ایجوکیٹ کرنا ہے کہ حجاب پہننے کی کتنی اہمیت ہے ۔

پہلی فروری کو انٹرنیشنل ورلڈ حجاب ڈے کے موقع پر آن لائن سیشن میں مختلف اسلامی ممالک کی خواتین نے حصہ لیا۔ اکنا سسٹرز نے اپنے تجربات، مشاہدات اور کہانیاں بیان کیں اور حجاب کی افادیت پر روشنی ڈالی۔ یہ ایک بڑی خوش آئند بات ہے کہ اس سے جو خواتین حجاب لینے سے ہچکچاتی تھیں، ان کی ہمت افزائی ہوئی اور شوق پیدا ہواُ ہمیں اس طرح کے پروگرام کرتے رہنے چاہیے۔ 

اسلام دین فطرت ہے اور مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلام ایک باوقار زندگی گزارنے کا درس دیتا ہے، جس کے لیے کچھ احکامات عائد کیے ہیں۔ ان میں ایک حکم پردے کا ہے، جو اسلام نے مسلمان عورتوں پر فرض کیا ہے۔ پردہ ایک شرعی حکم اور دینی ہدایت ہے، جس کا ثبوت قرآن میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ 

اسلام نے پردے کے احکامات کے ذریعے عورت کی عفت و عصمت کی حفاظت کی ہے۔ حجاب ایک اسلامی پردہ ہے جو عورت کے مقدس جسم کو نامحرم مردوں کی نگاہوں سے ڈھانپتا ہے۔ 

سورۃ النور، آیت 31 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں

وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ

اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنے آرائش  کے مقامات ظاہرنہ ہونے دیں۔

اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ عورت کے لباس میں اوڑھنی اور چادر شامل تھی۔ چادر اس وقت پہن کر نکلتی تھیں جب گھر سے باہر جاتی تھیں ۔ عرب میں چہرے کا پردہ نہیں تھا، حتیٰ کہ مرد بھی بغیر چادر کے باہر نہیں نکلتے تھے۔ چادر سے ہی فرد کا رتبہ متعین ہوتا تھا۔ جس کے پاس شاندار چادر ہوتی، وہ معزز کہلاتا، اور جس کے پاس معمولی چادر، وہ ادنی درجے کا مرد یا عورت کہلاتا۔ اس سے چادر کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ 

سورۃ الاحزاب، آیت 59 میں اللہ تعالی فرماتے ہیں

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا

اے پیغمبر! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مسلمان عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے منہ پر چادر لٹاکر نکلیں  تاکہ وہ پہچانی جائیں اور انہیں تکلیف نہ دیجائے۔ اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔  

اس آیت میں جلباب کا ذکر ہے، جو حجاب کی جمع ہے، یعنی ایسی بڑی چادر جس سے پورا بدن ڈھک جائے۔  اپنے منہ پر چادر لٹکائے سے مراد اپنے کہ  چہرے کا بیشتر حصہ چھپ جائے اور  نظر جھکا کر چلنے سے  راستہ بھی نظر آئے۔ 

بہر حال، پردے کے لیے چاہے چادر ہو یا حجاب، تقاضے پورے ہونے چاہئیں۔ اس آیت  سے واضح ہو جاتا ہے کہ پردے کا حکم شرعی اور دینی ہے۔علماء کا ایجاد کردہ نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، جو قرآن وحدیث سے ثابت ہے، اور اس سے انکار یا بے پردگی پر اصرار کفر تک پہنچا سکتا ہے۔

حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ اس آیت کے اترنے کے بعد انصار کی عورتیں جب باہر نکلتی تھیں تو اس طرح چھپی چلتی تھیں جیسے ان کے سروں پر پرندے ہوں۔

حجاب کے بے پناہ فوائد ہیں یہ ہمیں دوسروں کے مقابلے میں عزت و وقار بخشتا ہے، اور اس سے حرمت اور پاکیزگی کا اظہار ہوتا ہے۔ 

  حتیٰ کہ مغربی ممالک میں بھی باحجاب عورتوں کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ ایسی عورتوں سے کسی کو چھیڑ چھاڑ کی جرات نہیں ہوتی۔حقیقت یہ ہے کہ حجاب پہننے کے بے شمار فوائد ہیں۔ اسلامی ممالک میں رہائش پذیر ہونے والوں کے لیے حجاب کی پابندی اتنا بڑا مسئلہ نہیں، لیکن مغربی ممالک میں جہاں کی تہذیب ہماری تہذیب سے بالکل مختلف ہے، حجاب کی پابندی اختیار کرنا انتہائی مشکل ہے۔

بعض جگہ بری فطرت رکھنے والے متعصب لوگ ہوتے ہیں جو نسل پرست (racism) ہوتے ہیں اور حجاب لینے والی عورت کو پسماندہ قوم کا فرد سمجھتے ہیں اور تمسخر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ میری نظر سے بہت سے ایسے واقعات گزرے ہیں جس میں مسلمان خواتین کے لیے حجاب لینا بہت دشوار ہو گیا۔

خاص طور پر فرانس میں، 18 ستمبر 1989 کو مسلمان عورتوں کو حجاب پہننے پر انتہائی سنجیدہ مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ جب فرانس کی حکومت نے مسلمان لڑکیوں پر اسکول میں حجاب پہننے پر پابندی لگائی، تو تین لڑکیوں نے حجاب اتارنے سے انکار کر دیا۔ پریس میں اس واقعے کو خوب اچھالا گیا، نتیجتاً معاملہ خراب ہو گیا، اور ان لڑکیوں کو اسکول سے معطل کر دیا گیا۔

اس کے بعد 1994 سے 2003 تک مزید متعدد طالب علم لڑکیوں کو، جو مڈل اور ہائی سکول کی طالبات تھیں، سسپینڈ کر دیا گیا۔ صرف اتنے پر ہی اتفاق نہیں کیا گیا، بلکہ ساحل سمندر پر آنے والی حجابی عورتوں، اسپورٹس میں حصہ لینے والی مسلمان لڑکیوں، اور سیاست میں حصہ لینے والی خواتین پر بھی حجاب پہننے کی پابندی لگا دی گئی۔

حالانکہ مسلمان عورتوں کا حجاب پہننا نہ صرف ان کا مذہبی فریضہ ہے بلکہ اس پر پابندی ان کی شخصی آزادی کے بھی منافی ہے۔ جب کسی مغربی ملک نے یہودی مردوں کو چھوٹی ٹوپی پہننے یا کرسچن عورتوں کو کراس پہننے سے کبھی نہیں روکا، یہ دونوں مذہبی علامات ہیں۔ اگر یہ علامات قابل احترام ہیں، تو پھر صرف حجاب پر پابندی کیوں؟

اسے بھی قابل احترام سمجھنا چاہیے۔ بہرحال فرانس کی حکومت نے اسلام کو فرنیچ  سوسائٹی کے لیے اسلامو فوبک اور اسلامک تھریٹ قرار دے دیا اور معاملہ کورٹ تک پہنچ گیا، لیکن مسلمان عورتوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے فیصلے پر ڈٹی رہیں۔ ان کی جدوجہد رنگ لائی اور 2004 میں فرانس کی حکومت نے حجاب پر سے پابندی نرم کر دی۔ 

یہ وہ خواتین تھیں جنہوں نے حجاب کی پابندی کی سختی اور مشکلات جھیلیں اور اپنے حوصلے اور استقامت میں جنبیش نہیں آنے دی بہت سی  نو مسلم  خواتین بھی اس میدان میں اُتریں اور اُنہیں بھی حجاب اختیار کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 

مثلاً ایک مسیحی خاتون نائلہ مورلی سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کیتھولک مذہب سے تعلق رکھتی تھیں، لیکن کبھی اس بات پر دل نہیں چاہتا کہ یسوع کو خدا مانیں۔ ان کے دل میں حضرت کنواری مریم کا بہت احترام تھا اور وہ چرچ بھی جاتی تھیں۔ انہیں کم عمری سے ہی دین کے معاملات میں تجسس رہا اور وہ تحقیق کرتی رہیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ میں نے انجیل بھی پڑھی اور قرآن بھی پڑھا۔ دونوں میں حضرت عیسیٰ، حضرت موسیٰ، حضرت ابراہیم اور حضرت سلیمان کے واقعات کم و بیش ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ دونوں کتابیں اللہ نے اپنے پیغمبروں پر نازل کیں، تو ظاہر ہے کہ آخری کتاب جو آخری نبی پر نازل ہوئی، وہی مستند ہو سکتی ہے۔ 

چنانچہ میں نے اپنے دل کے اطمینان کے لیے، دماغ میں اٹھتے ہوئے سوالات کے جوابات حاصل کرنے کے لیے، گھر کے قریب ایک مسجد کا رخ کیا۔ شیخ نے میرے سوالات کے جواب اتنی وضاحت سے دیے کہ میرا دل مطمئن اور پرسکون ہو گیا۔ میں نے اسلام قبول کر لیا۔ 

میری ایک دوست نے تحفے میں ایک حجاب دیا تھا، جسے میں باقاعدہ پہننے لگی۔ مسلمان ہونے کے بعد جب میں نیویارک سے جہاں میں حجاب کرتی تھی، لاس اینجلس گئی، جہاں میرا خاندان تھا۔

میں نے بند گلے کی پوری استینوں والی قمیض اور جینز پہن رکھی تھی اور سر پر حجاب تھا۔ یہ اگست کا مہینہ تھا، اور گرمی شباب پر تھی۔ مجھے دیکھ کر میرے گھر والے بہت حیران ہوئے اور سوچنے لگے کہ شاید میں پاگل ہو گئی ہوں۔ انہوں نے حیرانی سے پوچھا: اتنی گرمی کے موسم میں تم نے ایسا مسخروں والالباس کیوں پہن رکھا ہے؟

میں نے کہا: میں مسلمان ہو گئی ہوں، میرے لیے ضروری ہے کہ میں جسم ڈھانپ کر رکھوں۔

میری بہن نے یہ سنتے ہی میرے حجاب کو عقب سے نوچ کر پھینک دیا اور کہا: تم عرب نہیں ہو اور نہ ہی کبھی عرب بن سکتی ہو!

میں نے کہا: حضرت مریم تو سر ڈھانپتی تھیں، یہ حجاب ان کی تقلید ہے، تو پھر تمہیں کیوں اعتراض ہے؟

اس کا کوئی جواب نہ بن سکا، لیکن انہوں نے مجھے زوردار تھپڑ مارا اور گھر سے باہر نکال دیا، اور کہا: اب کبھی اپنی شکل نہ دکھانا! وہ بڑی کٹر کیتھولک تھی۔

حضرت مریم کی ایک بڑی تصویر بھی گھر میں لگی ہوئی تھی۔ میری والدہ میری طرف بڑی، لیکن میری بہن نے انہیں روک لیا۔

میں وہاں سے نکل کر روتی ہوئی نانی کے گھر گئی جو قریب ہی   رہتی تھیں۔ وہ بھی حضرت مریم کی طرح سر ڈھانپتی تھیں۔ انہوں نے میرے گھر والوں کو سمجھایا کہ نائلہ نہ شراب پیتی ہے، نہ سگریٹ پیتی ہے، نہ کوئی غلط کام کرتی ہے۔ جہاں تک لباس کا معاملہ ہے، یہ اس کی چوائس ہے، تو پھر کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

لیکن میری بہن کی نفرت کبھی ختم نہیں ہوئی اور نہ مجھے کبھی اپنایا۔

میں واپس نیویارک آ گئی، لیکن میں اپنے دین اور حجاب پر آج تک استقامت سے قائم ہوں۔ میں نے دین کے لیے اپنے خاندان کو چھوڑ دیا، اس سے بڑی کیا قربانی ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ آسٹریلیا کی تقریباً 30 آسٹریلوی خواتین نے میڈو ہائٹس مسجد، ملبورن میں حال ہی میں اسلام قبول کیا اور حجاب کو اپنے لباس کا حصہ بنایا، کیونکہ وہ اسلام کے ذریعے غزہ کی فلسطینی بہنوں کے قریب ہونا چاہتی تھیں، ان سے ہمدردی رکھنا چاہتی تھیں اور ان کے مقصد  کے لیے ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتی تھیں۔

وہ اسرائیلی جارہیت  اور مسلمانوں کے قتلِ عام پر پُرزور احتجاج کر رہی تھیں۔ ان کا دل اسرائیلی جارہیت اور دہشت گردی پر خون کے آنسو رو رہا تھا۔ ان کے پاس اسلام ہی ایک ہتھیار تھا جسے اختیار کر کے وہ فلسطینی مسلمانوں کی مدد کر سکتی تھیں۔

آخر میں بہنوں سے التماس ہے: اپنی اپنی قیمت پہچانو، حجاب کو قید نہ سمجھو۔ بظاہر حجاب کپڑے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے، لیکن یہ چیخ چیخ کر اعلان کرتا ہے کہ میں مسلمان ہوں، اسلام میرا دین ہے، میرا ہتھیار ہے جو میری حفاظت کرتا ہے، مجھے طاقت بخشتا ہے اور مسلسل یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی فرماں بردار اور اطاعت گزار بندی ہوں۔

اسے ایمان کا جز بنا لو اور وعدہ کرو کہ اسلام کی آواز بنو گی اور بتاؤ گی کہ یہی سچائی ہے۔ دنیا گناہوں کا ڈھیر ہے، لیکن حجاب اور اسلام ہماری پناہ گاہ ہے۔

حجاب میرا تاج ہے ا میں ایک ملکہ ہوں، اور مجھے کوئی میری اجازت کے بغیر نہیں دیکھ سکتا۔ میں آزاد ہوں، اپنی مرضی کی مختار ہوں،حجاب مسلمان عورت کا غرور ہے۔

 

اللہ ہمیں دینِ اسلام کا سفیر بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔