موج موج صدف صدف

 

چمن والو! بہارِ جاں فزا کی رُت میں ڈھل جاؤ

 

خزاں ہے ، ہر طرف صیّاد ہیں ، سازش کے جالے ہیں

سبھی ہیں منتظر ، اے پنچھیو !تم کب پھسل جاؤ

 

کرشمے بجلیوں کے ، عکس اور آواز کے جادو

کہ چھوڑو شہ سواری ، بس کھلونوں سے بہل جاؤ

 

زماں بدلا ، زمیں بدلی ، مکاں بدلے قریں، بدلے

مرے دل کے مکینو! یہ نہ ہو تم بھی بدل جاؤ

 

اندھیرا چھا گیا اک مغربی برقاب سے مَن میں

بڑھا دو ذِکر کی لو ، نور کی رہ پر نکل جاؤ

 

اگر شفاف ہے آئینہ دل پھر فتن کیسے ؟

زمیں سے باعمل گزرو ، فلک کو بااَمل جاؤ

 

جو خود گرداب ہیں وہ کشتیاں کو کیا ترائیں گے ؟

کہ موجِ صدق بن کر ساحلوں پر تم اچھل جاؤ

 احسن عزیز   

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *