ظلم بے نشاں ہوگا

فوزىہ ظہىر – واشنگٹن

 

آج موسم بڑا حسىن تھا۔ دھوپ اور چھاؤں کے امتزاج اور پھولوں کى خوشبو سے لدى بہار کى گنگناتى ،سرسراتى، گدگداتى ہوا مجھے مدہوش کئے جا رہى تھى ۔حسن ،خوشبو اور رنگ مجھے بہت متاثر کرتے ہىں شاىد اسى لىے مىں اىک  مصّورہ اور بہترىن فوٹوگرافر کے طور پر اىک مقامى کالج مىں جاب کر رہى  ہوں -اس وقت فرى پىرىڈمىں، مىں کالج کے خوبصورت لان مىں بىٹھى موسم کى دلکشى کو اپنے وجود مىں اتار رہى تھى۔ دل چاہتا تھا اس وقت کوئى کال آئے  نہ کوئى کلاس ہواور نہ ہى  کوئى مجھے ڈسٹرب  کرے لىکن جىسا سوچا وىسا نہ ہوا – مىرى کالج کى دوست  کىتھرىن کى آواز نے مجھے چونکا دىا اچھا توموسم کو انجوائے کر رہى ہو ؟ اس نے ہنس کر کہا۔ مىں نے بھى خوش دلى سے کہاارے بھئى اىسى قسمت کہاں؟ ابھى تو مجھے اپنى بچىوں کو اسکول سے پک کرنے جانا ہے۔کىتھرىن نے حىرانى سے پوچھا  تمہارے بچے بھى ہىں ؟

مىں نے فخر سے کہا ہاں مىرى دو بىٹىاں ہىں اىک آٹھ سال کى اور دوسرى چھ سال کى… اور تمہارے کتنے بچے ہىں؟ اس نے ناک سکىٹرتے ہوئے منہ بنا کر کہا مىں نے ىہ بکھىڑا نہىں پالا۔ وىسے تم بہت ىنگ لگتى ہو اسکول مىں پڑھنے والے بچوں کى ماں نہىں لگتىں  مىں نے بتاىا مىرى شادى ذرا کم عمرى مىں ہو گئى تھى اس لىے بچے بھى جلدى ہو گئے۔ اس نے تمسخر سے کہا کىا 16 سال کى عمر مىں؟ مىں نے کہا نہىں 20 سال کى عمر مىں — جب مىں پىدا ہوئى تو مىرى ماں کى عمر 18 سال تھى اور مىرى ماں اس وقت پىدا ہوئى جب ان کى ماں کى عمر 15 سال کى تھى۔

 کىتھرىن  نے حىرت سے آنکھىں نکالىں اور کہا Oh really? that’s crazy! تم جہاں سے تعلق رکھتى ہو وہاں اسى طرح ہوتا ہے؟ کىھترىن نے کہا مىں نے ذرا غصىلے لہجے مىں کہا کىا مطلب ہے مىں کہاں سے تعلق رکھتى ہوں؟ مىں امرىکن ہوں – مىں بروکلىن مىں پىدا ہوئى تھى اور وہىں پرورش پائى اس نے شرمندہ ہو کر کہا مىرا مطلب تھا کہ جس ملک سے تمہارى فىملى تعلق رکھتى ہے مىں نے افسردگى سے کہا وہ ملک جس کا اب وجود ہى نہىں۔۔ اِس نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھا اس کا کىا مطلب ہے ؟ مىں نے آہ بھر کر کہا مىرى فىملى فلسطىن سے تعلق رکھتى ہے، 14 مئى 1947 مىں امن کے ادارہ  نے فلسطىن کو دو لخت کرنے کا فىصلہ کىا اور اس پر عمل درآمد 1948 مىں کىا گىا فلسطىن کے دو ٹکڑے کر کے اىک حصہ ىہودىوں کو دے دىا گىا لىکن اس فىصلے کو فلسطىنىوں نے قبول نہىں کىا جس کے نتىجے مىں ىہودىوں اور فلسطىنىوں کے درمىان جنگ چھڑگئ۔

اىک دن مىں اپنى ماما سے ملنے نىوىارک گئى کىونکہ وہ بہت بىمار تھىں ۔اس دن جب انکى طبىعت قدرے بہتر تھى۔۔وہ کچن مىں کھانا بناتے بناتےصہىونى اور فلسطىن کے درمىان جنگ کى کہانى بھى سنانے لگىں ۔ ” جب صہىونى جہازوں نے زىتون کے درختوں پر بمبارى کى تو ہمارے سپاہىوں نے اعلان کىا کہ 30 منٹ مىں فلسطىن خالى کر دو۔ اس وقت مىرى عمر سات سے آٹھ سال تھى لىکن مجھ مىں اتنى سمجھ بوجھ تھى کہ اس وقت کى ہولناکى کو اچھى طرح  سمجھ سکوں بلکہ اس وقت کى دہشت تو مىرے ذہن سے آکٹوپس کى طرح چپک گئى ۔۔اىسا لگتا ہے جىسے کل کى بات ہو۔۔ مىں، مىرى ماں ىعنى تمہارى نانى نے فوراًجلتا ہوا چولہا بند کىا بچوں کو بغل مىں دباىا اور چلنے کے لىے تىار ہو گئے۔ مىرے بابا نے گھر کے بىرونى دروازے کو تالا لگاىا اور چابى احتىاطً اندرونى جىب مىں رکھ لى گوىا پھر وآپس آئىں گے۔ ىہ بات کتنى تکلىف دہ تھى کہ کوئى ہمارے وطن مىں زبردستى گھس آئے اور وہ سرزمىن  جس پر ہم نسلوں سے آباد تھے خالى کرنے پرمجبور کر دے۔۔ “ ىہ کہتے ہوئے ان کى آواز بھرا نے لگى ۔ اس سے آگے کى دردناک کہانى ناقابل برداشت تھى جو مىں بے شمار دفعہ سن چکى تھى۔  مىں نے بات کا رخ تبدىل کرنے کى کوشش کى لىکن انہوں نے کچھ سنا ہى نہىں اور کچھ سوچتے ہوئے اندر گئىں جب واپس آئىں تو اُن کے ہاتھ مىں اىک زنگ آلود لوہے کى چابى تھى۔ انہوں نے آہستہ سے وہ چابى مىرى ہتھىلى پر رکھ دى اس کى ٹھنڈک مىرے پورے جسم مىں سراىت کر گئى۔ مىں نے حىرت سے پوچھا” ىہ کىا ہے؟ “ انہوں نے بتاىا ىہ ہمارے گھر کى چابى ہے، مىرے بابا نے مرتے وقت ىہ چابى مىرى ماں کو سنبھالنے کے لىے دى تھى اور مىرى ماں نے مرتے وقت مجھےدے دى تھى اور آج ىہ امانت مىں تمہىں دے رہى ہوں کىونکہ مىرے پاس وقت کم ہےاور اب تم اس کى محافظ ہو۔

پھر اُنہوں نے جوش سے کہا”ہم اس اُمىد مىں اس چابى کى حفاظت کر رہے ہىں کہ اىک دن انشاءاللہ فلسطىن آزاد ہوگا اور ہم اپنے گھروں کو واپس لوٹىں گے۔ مسجد اقصى کا سبز گنبد دوبارہ ہمارى نگاہوں کا مرکز ہوگا “ ۔ کىمپوں کى بدحال اور تکلىف دہ زندگى  سے تنگ آکر چند سالوں بعد ہم ہجرت کر کے امرىکہ آگئے  اور ىہاں کى رہائش اختىار کرلى۔ ىہاں مىرى شادى ہوئى، بچے ہوئے لىکن ہم اپنى  roots سے جدا نہىں ہوئے کىوں کہ  ہمىں واپس لوٹنا ہے کچھ دن بعد مىرى ماما کا انتقال ہو گىا۔  ہم ان چابىوں سے اپنے گھر کے تالے تو نہىں کھول سکتے البتہ  ملبوں کے ڈھىر صاف کر کے نئے فلسطىن کى تعمىر ضرور کرسکتے ہىں  انشاءاللہ ۔وىسے جب لوگ مىرے خاندانى پس منظر کے بارے مىں سوال کرتے ہىں تو  مجھے اىسا لگتا ہے جىسے I have an imported stamp on my forehead 

  کىتھرىن نےشرمندگى سے مجھے سورى کہا اور پھر مىں بچىوں کو اسکول سے لىکر گھر آگئ

اگلے دن جب مىں کالج پہنچى تو مىں نے نوٹس بورڈ کے گرد اسٹاف  ممبرزکا ہجوم دىکھا تو مىں بھى تجسس سے آگے بڑھى تو co-worker  اىمنڈا  سے ٹکرا گئى۔ مىں نے جلدى سے پوچھا ىہ کىسا مجمع ہے ؟ تو وہ مسکرا کر بولى خود ہى دىکھ لو، خوشى سے اچھل پڑو گى  مىں نے متلاشى نظروں سے نوٹس بورڈ پہ نظر ڈالى، اس پر اىک مىمو لىٹر چسپاں تھا جس کا مضمون ىہ تھا ۔

فىکلٹى اور اسٹاف ممبرز کو مطلع کىا جاتا ہے کہ ہمىں کچھ volunteers  کى ضرورت ہے جن کو گائىڈ کے طور پر 25 طلبہ کے ساتھ educational adventure trip پر جانا ہوگا ۔ىہ 12 دن کا ٹرپ ہوگا جہاں طالب علم شاندار Viking history کا مطالعہ کرىنگے اس کے علاوہ وہ ناروے، ڈنمارک ،سوئىڈن، فن لىنڈ آئس لىنڈ کى شاندار اور حىرت انگىز تعمىرات کا مشاہدہ بھى کرىنگے

مىرا دل  تو خوشى سے دھڑکنا ہى بھول گىا O my God ىہ ٹرپ کتنا حىرت انگىز ہوگا ىہ تو  مىرا دىرىنہ خواب ہے کہ ان حىرت انگىز جگہوں کى سىر کروں اور اپنى فوٹوگرافى کا شوق پورا کروں لىکن بابا سے اجازت لىنا تو جوئے شىر لانے کے برابر تھا۔ ان کے ذہن مىں تو فلسطىن جانے کے علاوہ اور کہىں جانے کا تصور ہى نہىں تھا۔ البتہ ہادى تنگ نظر نہىں ہىں وہ ضرور مجھے اجازت دے دىنگے۔ مىں ابھى انہىں سوچوں مىں  گم تھى کہ اىمنڈا کى آواز مىرے کانوں سے ٹکرائى وہ کہہ رہى تھى” مىں بچپن مىں ناروے گئى تھى it absolutely heart breaking ۔۔ کىا تم گئى ہو؟ “ مىں نے کہا مىں نے ناروے کى تصوىرىں دىکھى ہىں انسٹاگرام پر۔ مىں تو فلسطىن سے آگے کہىں نہىں گئى ۔اىمنڈا نے حىرت سے مجھے دىکھا اور کہا”? are you serious  اس قدىم جگہ مىں کىا رکھا ہے؟اوسلو جانا مىرا  خواب ہے I love to see it “

اىمنڈانے کہا”پھر تو تمہىں ضرور apply کرنا چاہىے۔ ىورپ کا فرى ٹکٹ توخوش نصىبوں کو ملتا ہے “رات کو حسب معمول بچىوں  کو سُلانے کے بعد مىں اور ہادى کھانے کى پلىٹىں لىے لونگ روم مىں صوفے پر جا بىٹھے اور ٹى وى پرمزاحىہ پروگرام دىکھنے لگے اور ساتھ مىں  کھانا بھى کھاتے رہے۔ مىں کچھ چپ چپ سى تھى اور ہادى کى باتوں پہ زىادہ توجہ بھى نہىں دے رہى تھى۔ ہادى نے مجھے غور سے دىکھا اور پوچھا کىا بات ہے؟

  مىں نے ہمت کر کےآہستہ سے کہا آج کالج نے بہت ہى دلچسپ اور حىرت انگىز پروگرام کا اعلان کىا ہے ۔ہادى نے دلچسپى لىتے ہوئے کہا اچھا کس سلسلے مىں؟ مىں  نےجھجکتے ہوئے پروگرام کى تفصىل بتائى اور بتاىا کہ ان کو کچھ volunteers کى ضرورت ہے جو طالب علموں کے ساتھ محافظوں کے طور پر جائىں گے مىں سوچ رہى ہوں کہ مىں بھى  apply کردوں۔

 ہادى نے حىرت سے سر اٹھا کر مجھے دىکھا اور بولے تم اتنے لمبے سفر پر تنہا جاؤ گى تو بچىوں کى دىکھ بھال کون کرے گا؟ مىں نے دبى زبان سے کہا مىرا خىال تھا کہ آپ ان کا خىال رکھ سکتے ہىں تووہ بولے تم اچھى طرح جانتى ہو کہ مىں اپنے کام سے غافل نہىں ہو سکتا بہت محنت کرکے بزنس کواس مقام پر پہنچاىا ہے

 مىں نے کہا”آپ کچھ دن ملازمىن کو ىہ ذمہ دارى دے دىجئے وہ سنبھال لىنگے، صرف 12 دن ہى کى تو بات ہے۔ “ انہوں نے  جھنجھلاتے ہوئے کہا”توتم چاہتى ہو مىں سارا کام ملازمىن کے حوالے کر کے خود گھر پہ بىٹھ کر بچىوں کى دىکھ بھال کروں؟ تم آجکل کے حالات کو اچھى طرح جانتى ہو۔۔ان حالات مىں تمھارا اس طرح جانا بالکل مناسب نہىں ہے۔اور بچىوں کو اکىلا سنبھالنا مىرے لئىے آسان نہىں ہوگا۔ بہتر ہے کہ تم ىہ خىال دل سے نکال دو مىں نے غصے مىں کہاکىا ىہ آپ کى بىٹىاں نہىں ہىں ؟ صرف مىرى ہىں۔؟  وہ بھى غصہ سے بولےمىں نے تمہىں کام کرنے کى اجازت دى ہے ۔۔ضرور کرو لىکن ان حالات مىں تمھارا جانا بالکل مناسب نہىں ہے۔کسى وقت بھى فضائى حدود بند ہوسکتى ہىں۔۔ اگر اىسا ہواتو صورت حال بہت غىر ىقىنى ہوجاۓ گى اور مىں اتنے دن ملازمىن پر کام چھوڑ کر گھر پہ نہىں بىٹھ سکتا۔ تم سمجھنے کى کوشش کرو پلىز اتنا کہہ کر ہادى سونے کے لئىے چلے گئے ۔

ٹرپ کى رجسٹرىشن کروانے کا آخرى دن بھى آگىا۔  اس دن  کالج مىں اىک مىٹنگ تھى مىں فىکلٹى ممبرزاوردىگرلوگوں  سے دور الگ تھلگ اىک کرسى پر بىٹھى سىل فون پر مصروف ہونے کى اىکٹنگ کر رہى تھى ۔اىمنڈا نے ہال مىں بىٹھے ہوئے لوگوں پر اىک نظر ڈالى اور کہا”مىں امىد کرتى ہوں کہ آپ لوگوں نے ٹرپ پر جانے کے لىے خود کو رجسٹر کرا لىا ہوگا کىونکہ آج apply کرنے کا آخرى دن ہے۔ “ اىک ٹىچر نے کہا” ىورپ کے فرى ٹرپ کے لىے تو لوگ مرےجاتے ہىں۔۔ کون اسے چھوڑ سکتا ہے؟ “ اىمنڈا نے مىرى طرف  سوالىہ نظروں سے دىکھا اور پوچھا کىا تم نے اپلائ کر دىا ہے؟  مىں  نے فون سے نظرىں ہٹائے بغىر کہانہىں

 اىمنڈا نے سن کر طنزىہ انداز مىں کہا ہائے تمھارا تو دل ٹوٹ گىا ہوگا مىں نے نظرىں اٹھا کر اىمنڈا کو دىکھا اور غصے سے کہا”؟excuse me “

اىمنڈانے مسکرا کر کہا پلىز برا مت ماننا ىہ کوئ ڈھکى چھپى بات نہىں ہے کہ تمہارے ملک کى خواتىن  severe sexism  اور  misogyny مىں رہتى ہىں مىرا چہرہ غصے سے سرخ ہو گىااور مىں نے تنک کر کہا کىا کہا ؟ مىرے ملک مىں؟ 

 اىمنڈا بولى” ہاں مىرا مطلب ہے  کہ عرب عورتىں زىادہ تر گھر مىں رہنا اور بچے پالنا بہتر سمجھتى ہىں۔ اور اس حال مىں خوش رہتى ہىں۔ “

مىں تىزى سے کرسى کو دھکا دىکر اٹھى ، اپنا پرس اور کىمرہ کندھے پر ڈالا اور غصىلى آواز مىں چىخ کر بولى مىں امرىکن ہوں، بروکلىن نىوىارک مىں پىدا ہوئى ہوں۔۔ you crazy racist 

 اور طوفانى انداز مىں ہال سے باہر نکل گئى۔فل اسپىڈ پہ گاڑى دوڑاتى ہوئ مىں نجانے کس طرح گھر پہنچى۔مىرى کنپٹىاں سلگ رہى تھىں اور مىرے کانوں مىں اىمنڈا کے الفاظ گونج رہے تھے۔۔گھر جاکر مىں نے منہ پر ٹھنڈے پانى کے چھىنٹے مارے اور بمشکل خود کو نارمل کىا۔

رات کو جب ہادى اورمىں کھانا کھاتے ہوۓٹى وى پر اىک مزاحىہ پروگرام دىکھ رہے تھے  تو اىک مزاحىہ سىن پر ہادى بہت زور سے ہنسےاور  مجھ سے  کہا”  isn’t it hilarious “

 مىں نے چڑتےہوئے کہا ىہ سىن مىں پہلے بھى درجنوں بار دىکھ چکى ہوں، کوئى نئى بات نہىں ہے۔ ہادى نے غور سے مجھے دىکھا اور پوچھا”what’s your problem  مىں  نے ٹالتے ہوئے کہا کوئى مسئلہ نہىں ہے اور صوفے کى پشت سے سر ٹکا کر آنکھىں بند کر لىں ہادى کھانے کى پلىٹ رکھ کر مىرى  طرف متوجہ ہوۓ اور بولے اگر کوئى بات ہے تو مجھے بتاؤ۔

 مىں تو بھرى بىٹھى تھى۔۔ مىں نے بھرائى ہوئى آواز مىں آج ہونے والا واقعہ ہادى کے گوش گزار کردىا۔”

تم نے سب کے سامنے اسےracist کہا۔۔ تمہىں اپنے جذبات پر کنٹرول رکھنا چاہىے تھا ۔مجھے اب احساس ہورہا ہے۔۔مىں نے پرىشانى سے کہا اور اىک اور بات ہے جو مجھے فکر مند کر رہى ہےکہ پرنسپل کى اى مىل آئى ہے اورانھوں نے مجھے کل اپنے آفس مىں طلب کىا ہے مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جاب سے فائر نہ کر دىں  ۔ 

 ہادى نے مجھے تسلى دى اور کہا کچھ نہىں ہوگا ابھى تم سکون سے سو جاؤ۔ 

اگلے دن مىں نے پرنسپل کے آفس  کے باہر کھڑے ہوکر دروازے پر دستک دى اور اندر آنے کى اجازت چاہى۔ وہ مجھے اندر آنے کا کہہ کر ، بىٹھنے کا اشارہ کر کے دوبارہ لىپ ٹاپ پر مصروف ہو گئے۔ کچھ دىر انتظار کے بعد مىں نے پوچھا” آپ نے مجھے بلاىا تھا “

وہ تنک کر بولے” مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے اپنى اىک کولىگ کو racist کہا ہے “

مىں نے”ہاں “کہہ کر اپنے دفاع مىں کچھ بولنا چاہا لىکن مىرے کچھ کہنے سے پہلے ہى انہوں نے کہا کہ آپ کو کوئى حق نہىں پہنچتا کہ آپ ہمارى کمىونٹى کے کسى فرد کو racist کہىں۔ صرف ىہى نہىں بلکہ اس کے علاوہ بھى آپ کے خلاف بہت سى شکاىتىں ہىں۔ مىں نے  پوچھا وہ کىا ؟ تو وہ اُکھڑے ہوۓ  انداز مىں بولے نمبر اىک ىہ کہ آپ ڈىپارٹمنٹ کى مىٹنگ سے ہمىشہ غائب رہتى ہىں۔ مىں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا ”لىکن سر، وہ تو لازمى نہىں ہوتى “

 وہ تادىبى  انداز مىں بولے” لىکن ىہ تعلىمى شعبے کى ترقى کے لىے ضرورى ہوتى ہىں -آپ کالج کے کسى فنکشن مىں شرکت نہىں کرتىں اورنہ ہى رضاکارانہ طور پہ کوئ ذمہ دارى قبول کرتى ہىں۔ اس کے علاوہ آپ اپنى بچىوں  کو اسکول سے پک کرنے کے لىے کالج سے جلدى چلى جاتى ہىں۔  آپکا اکثر کسى نہ کسى سے جھگڑا بھى رہتا ہے ان حالات کو دىکھتے ہوئے مىراخىال ہے آپ کو counseling  کى ضرورت ہے۔ “

پھر انہوں نے مىز کى دراز سے اىک لفافہ نکالا اور مجھے  دىتے ہوئے کہا”مجھے افسوس ہے محترمہ۔۔ ہمىں آپ کى ضرورت نہىں۔ کالج کے طالب علموں کو اىک صحت مند دماغ اور dedication سے بھرپور استاد کى ضرورت ہے۔ اب آپ جا سکتى ہىں “

 کالج سے نکلتے ہوئے مىں خود کو سمجھا رہى تھى کہ اس سے کوئ فرق نہىں پڑتا کہ مىں اس ملک مىں پىدا ہوئى ، ىہاں پرورش پائى، ىہىں  تعلىم حاصل کى اور ىہاں کے ماحول مىں ڈھل گئى ۔۔ مىں صرف اىک امرىکى شہرى ہوں  لىکن مىرے والدىن تو immigrants ہى ہىں ناں  مىرا وطن ۔۔ مىرى مىراث۔۔ مىرى پہچان وہى  ملک ہے جہاں مىرے  آبا و آجداد دفن ہىں ۔۔مىں فلسطىنى عرب ہوں اور ىہى مىرى پہچان ہے۔۔۔ گاڑى مىں بىٹھنے کے بعد مىں نے آخرى بار کالج کى عمارت کى طرف دىکھا۔ مىرى آنکھوں مىں نمى تھى اور دل سے اىک آہ دعا بن کر مىرے  ہونٹوں پر آ گئ۔

اے کائنات کے مالک! جس طرح تو نے فرعون کے مقابلے کے لىے موسىٰؑ کو بھىجا تھا، اسى طرح فلسطىن کے مسلمانوں کے لىے بھى اىک موسىٰ بھىج دے“ رَبِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ اے مىرے رب، مجھے ظالموں سے بچا …(سورہ القصص 21)

اے ربِ کائنات! جس طرح تو نے حضرت موسىٰؑ کى دعا قبول فرمائى تھى، اسى طرح مىرى دعا بھى قبول فرما…تاکہ ہم اور ہمارى آنے والى نسلىں ، آزادى اور سکون کے ساتھ اىک پُر امن زندگى گزار سکىں آمىن