سرمایہ دارانہ نظام کے سماجی اثرات۔۔
تحرىر: افشاں نوىد۔(کىنبرا،آسٹرىلىا)
انسانى تارىخ مىں ہر دور کا اىک غالب فکرى نظام رہا ہے جو انسان کے سوچنے، سمجھنے اور عمل کے انداز کو تشکىل دىتا رہا ہےموجودہ دور مىں ىہ کردار سرماىہ دارانہ نظام (Capitalism) ادا کر رہا ہے۔ اگرچہ ىہ نظام اپنے ماننے والوں کے نزدىک معاشى ترقى اور سہولت کا ضامن ہے، لىکن قرآن و حدىث کى روشنى مىں دىکھا جائے تو ىہ نظام انسان کے قلب اور اس کى ذہنى سلامتى پر گہرے منفى اثرات مرتب کر رہا ہے۔ اسلام انسان کو صرف معاشى وجود نہىں سمجھتا بلکہ اسے روح، عقل اور دل کا مجموعہ قرار دىتا ہے۔ جب کوئى نظام انسان کو محض دولت کمانے والى مشىن بنا دے تو اس کا لازمى نتىجہ اضطراب، بے سکونى اور ذہنى بىمارى کى صورت مىں نکلتا ہے۔
حرصِ دنىا، ذہنى اضطراب کى جڑ
سرماىہ دارانہ نظام کى بنىاد حرص، بڑھتى ہوئى خواہش اور لامحدود حصول مادہ پر ہے۔ قرآن اس ذہنىت کو انسان کى بنىادى اخلاقى کمزورى قرار دىتا ہے۔ وَتُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا اور تم مال سے حد سے زىادہ محبت کرتے ہو (سورۃ الفجر: 20) ىہ حبًّا جَمًّا دراصل وہى نفسىاتى کىفىت ہے جسے آج obsession اور compulsive behavior کہا جاتا ہے۔ جب انسان کى خوشى، عزت اور شناخت دولت سے وابستہ ہو جائے تو اس کا دل کبھى مطمئن نہىں رہتا۔ نبى کرىم ﷺ نے فرماىا: ”اگر ابنِ آدم کے پاس سونے کى اىک وادى ہو تو وہ دوسرى چاہے گا، اور اس کے پىٹ کو مٹى کے سوا کوئى چىز نہىں بھر سکتى“ (صحىح بخارى) ىہ حدىث سرماىہ دارانہ سوچ کى نفسىاتى تشرىح ہے۔ خواہش کا نہ رکنے والا سلسلہ جو ذہنى بے چىنى کو جنم دىتا ہے۔
تکاثر اور احساسِ ناکافى
ہونا سرماىہ دارانہ معاشرے مىں انسان اپنى قدر کا تعىن موازنہ (comparison) سے کرتا ہے۔ قرآن اس روىے کو “تکاثر” کہتا ہے۔ اَلْهٰكُمُ التَّكَاثُرُ ۙ حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ تمہىں اىک دوسرے پر سبقت لے جانے کى حرص نے غافل کر دىا، ىہاں تک کہ تم قبروں تک جا پہنچے (سورۃ التکاثر: ۱-۲) ىہ آىات واضح کرتى ہىں کہ مسلسل مقابلہ انسان کو غفلت، بے سکونى اور انجام سے لاپروہ کر دىتا ہے۔ ذہنى صحت کے تناظر مىں ىہ کىفىت chronic dissatisfaction پىدا کرتى ہے ىعنى کچھ بھى کافى نہ لگنا۔
دولت کى ناہموارى اور ذہنى اذىت
سرماىہ دارانہ نظام دولت کو چند افراد کے ہاتھوں مىں مرکوز کر دىتا ہے، جس کے نتىجے مىں اکثرىت احساسِ محرومى کا شکار ہو جاتى ہے۔ قرآن اس معاشى عدم توازن کو سماجى فساد کى جڑ قرار دىتا ہے۔ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَآءِ مِنْكُمْ تاکہ دولت تمہارے مالداروں ہى کے درمىان گردش نہ کرتى رہے (سورۃ الحشر: 7) ىہ صرف معاشى ہداىت ہى نہىں بلکہ نفسىاتى تحفظ بھى ہے۔ جب دولت چند ہاتھوں تک محدود ہو تو باقى معاشرہ حسد،محرومى ،غصہ اور احساسِ بے وقعتى کا شکار ہو جاتا ہےجو ذہنى امراض کو جنم دىتا ہے۔
انسان بطور مشىن
سرماىہ دارانہ نظام انسان سے مسلسل پىداوار اور کارکردگى کا مطالبہ کرتا ہےجبکہ اسلام انسان کو امانت سمجھتا ہے۔ نبى ﷺ نے فرماىا تمہارے رب کا تم پر حق ہے، تمہارے نفس کا تم پر حق ہے، اور تمہارے اہلِ خانہ کا تم پر حق ہے (صحىح بخارى) ىہ حدىث واضح کرتى ہے کہ انسان کو محض کام کرنے والى مشىن بنانا اس پر ظلم ہے۔ جب انسان کو آرام، عبادت اور تعلقات کا وقت نہ ملے تو ذہنى تھکن (burnout) پىدا ہوتى ہے۔
دنىا کى محبت اور دل کى بىمارى
اسلام مىں دل کو مرکزى حىثىت حاصل ہے۔ نبى ﷺ نے فرماىا آگاہ ہو جاؤ! جسم مىں اىک گوشت کا ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے، اور اگر وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے، وہ دل ہے(صحىح بخارى، صحىح مسلم) سرماىہ دارانہ نظام دل کو دنىا سے اس قدر باندھ دىتا ہے کہ وہ خوفِ مستقبل،لالچ وعدمِ اطمىنان مىں مبتلا ہو جاتا ہے۔ قرآن خبردار کرتا ہے: وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ دنىا کى زندگى تو محض دھوکے کا سامان ہے (سورۃ آلِ عمران: 185)۔
قناعت۔
نبى کرىم ﷺ نے فرماىا: امىرى مال کى زىادتى کا نام نہىں، بلکہ امىرى دل کى امىرى کا نام ہے (صحىح مسلم) قناعت وہ نفسىاتى کىفىت ہے جو انسان کو موازنہ سے آزاد،خوف سے محفوظ اورذہنى سکون سے قرىب کرتى ہے۔ لہذا ىہ نظام محض اىک معاشى مسئلہ نہىں بلکہ روحانى اور ذہنى بحران ہے۔ ىہ نظام انسان کوحرص سکھاتا ہے،بے سکونى کو معمول بناتا ہے دل کو دنىا کا غلام بنا دىتا ہے اسلام اس کے مقابلے مىں اعتدال قناعت،سماجى ذمہ دارى اور قلبى سکون کا نظام پىش کرتا ہے۔ آج انسان کو سب سے زىادہ جس شفا کى ضرورت ہے، وہ نئى دواؤں ىا زىادہ دولت کى نہىں، بلکہ دل کى اصلاح کى ہے ۔
مالى خود مختارى اىک چىلنج
سرماىہ دارانہ نظام مىں خواتىن کو تعلىم اور ملازمت کے زىادہ مواقع ملے ہىں۔ ىہ آزادى فىصلہ سازى کى صلاحىت بڑھاتى ہے خوداعتمادى اور خودمختارى مىں اضافہ کرتى ہے خاندان اور معاشرت مىں مثبت کردار ادا کرنے کى طاقت دىتى ہے لىکن ساتھ ہى ىہ نظام خواتىن کو ىہ چىلنج بھى دىتا ہے کہ وہ مالى خودمختارى کے ساتھ اخلاق اور احسان کو مرکز رکھىں۔ قرآن فرماتا ہے وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ اور زمىن مىں فساد نہ پھىلاؤ، اور اللہ کے بندوں کے ساتھ احسان کرو (القصص: 77) ىہ ہمىں ىاد دلاتا ہے کہ دولت کا مقصد صرف ذاتى فائدہ نہىں بلکہ معاشرتى بھلائى بھى ہے۔
خاندان پر منفى اثرات
سرماىہ دارانہ نظام مىں اکثر خاندانوں مىں دباؤ بڑھتا ہے۔ مثال کے طور پر طوىل اوقاتِ کار، اىک سے زىادہ ملازمتىں ىا لمبا سفر اس کا سبب بنتے ہىں ۔ والدىن بچوں کے ساتھ بہت کم وقت گزارتے ہىں فىملىزکو کم ہى ساتھ بىٹھ کر اکٹھے ہوئے کےکھانےکا مواقع ملتے ہىں اس طرح وقت کے ساتھ جذباتى رشتے نہ چاہتے ہوئے بھى کمزور ہو جاتے ہىں ۔
خاندان کے اندر مىاں بىوى کے درمىان جھگڑے کى وجہ اکثر ىوٹىلٹى بلز، کرائے ىا تعلىم کے اخراجات بنتے ہىں۔ کىلىفورنىا مىں قىام کے دوران مىرى ملاقات اىک خاتون سے ہوئى جنہوں نے اپنے شوہر کو اس لىے چھوڑ دىا کہ وہ مالى معاملات مىں ففٹى ففٹى کرتا تھا ىعنى کافى شاپ پر بىوى اپنا بل خود دے گى، ىوٹىلٹى بل نصف تقسىم ہوں گے۔ خاتون کا خىال تھا کہ جب وہ مىرے اوپر کچھ خرچ ہى نہىں کرتا تو مىں اس کى وفادارى کو کىسے ناپوں، لہذا انہوں نے خلع کے لىے عدالت سے رجوع کر لىا۔۔
سرماىہ دارانہ نظام اىسا ذہنى دباؤ دىتا ہے جو پرورش اور رشتوں پر اثر انداز ہوتا ہے چونکہ اس نظام مىں والدىن فل ٹائم کام کرنے پر مجبور ہوتے ہىں لہٰذا اولاد ىا بزرگوں کى دىکھ بھال کے لىے کم وقت دستىاب ہوتا ہے نتىجے کے طور پر ڈے کىئر،اولڈ اىج ہومز ىعنى بىرونى نگہداشت پر زىادہ انحصار کرنا پڑتا ہے۔
معاشى دباؤ کے باعث شادى مىں تاخىر ہوتى ہے نىز تنازعات اور طلاق کى شرح مىں اضافہ رىکارڈ کىا گىا ہے۔ افسوس کى بات ىہ کہ رشتوں کو زىادہ لىن دىن ىا آمدنى سے ناپا جاتا ہے۔
سماجى زندگى پر اثرات
سرماىہ دارانہ نظام اکثر ذاتى کامىابى پر زور دىتا ہے، جس سے سماجى تعلقات کمزور ہو سکتے ہىں نىز باہمى محبت وتعاون کے بجائے مقابلہ کى فضا بڑہتى ہے۔ لوگ دوسروں کے درمىان رہتے ہوئے بھى تنہائى محسوس کرتے ہىں اور دوسروں کى قدر جذباتى تعلق کے بجائے پىشہ ورانہ فائدہ، سماجى حىثىت ىا نىٹ ورکنگ کى وجہ سے کرتے ہىں۔ کام کى بے پناہ زىادتى اور مصروف زندگى کے باعث سماجى روابط کم ہو جاتے ہىں،دوستىاں اور تعلقات کمزور پڑتے ہىں خاص طور پر بزرگوں مىں تنہائى بڑھتى ہے شاپنگ اور تفرىح کو ذہنى سکون کے لىے سہارا بناىا جاتا ہے ۔ سماجى زندگى خرچ کرنے کے گرد گھومنے لگتى ہے۔ مادى آسائش کے باوجود اندرونى خالى پن محسوس ہو سکتا ہے۔ الغرض۔۔۔۔ جب کام اور منافع زندگى پر حاوى ہو جائىں تو خاندان، معاشرہ اور روحانىت پىچھے رہ جاتے ہىں۔ اس کے نتىجے مىں تنہائى ،خاندانى رشتوں کى کمزورى مشترکہ اقدار اور رواىات کا زوال لازم ہو جاتا ہے۔ تاہم وہ معاشرے جو سرماىہ دارانہ نظام مىں رہتے ہوئے اس کے مضر اثرات سے بچتے ہوئے خاندانى رشتوں کى اہمىت،ثقافتى اور مذہبى اقدارکا توازن قائم رکھتے ہىں، وہ سماجى اور خاندانى زندگى کو بہتر طور پر محفوظ رکھتے ہىں۔
سکونِ قلب کا اسلامى تصور
جدىد دنىا ذہنى سکون کو دولت کامىابى،مادى حىثىت مىں تلاش کرتى ہے، جبکہ قرآن اسے دوسرى جگہ رکھتا ہے: اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ خبردار! دلوں کا اطمىنان اللہ کے ذکر مىں ہے (سورۃ الرعد: 28) ىہ آىت سرماىہ دارانہ تصورِ خوشى کى مکمل نفى ہے۔
سرماىہ دارانہ نظام اور خواتىن۔
اس وقت خواتىن تعلىم، ملازمت اور کاروبار مىں فعال ہو رہى ہىں۔ اىک طرف ىہ نظام خودمختارى اور نئے مواقع فراہم کرتا ہے، وہىں دوسرى طرف غىر ضرورى مقابلہ، ذہنى دباؤ اور سماجى توقعات بھى بڑھاتا ہے۔ آج کل سوشل مىڈىا، اشتہارات اور فىشن کى وجہ سے خواتىن پر دباؤ بڑھ گىا ہے۔ مثال کے طور پر اکثر خواتىن خود کا دوسروں سے موازنہ کرنے لگتى ہىں وہ جتنى خوبصورت نظر آتى ہے، مىں کىوں نہىں۔اشتہارات مىں دکھائے گئے معىار زندگى اور کپڑوں کے برانڈز سے ذہنى دباؤ پىدا ہوتا ہے۔
اخلاقى رہنمائى اور تقوىٰ
تقوىٰ کا مطلب صرف عبادت ىا خوف خدا نہىں، بلکہ اىک باطنى شعور ہے جو ہر فىصلہ اور عمل مىں اثر ڈالے۔ خواتىن جب معاشى اور سماجى آزادى حاصل کرتى ہىں، تو تقوىٰ انہىں دوسروں کے حقوق کا خىال رکھنے،وسائل کا صحىح استعمال کرنے،خاندان اور معاشرت مىں توازن قائم رکھنے مىں مدد دىتا ہے۔ نبى ﷺ نے فرماىا: تم مىں سب سے بہتر وہ ہے جو دوسروں کے لىے زىادہ فائدہ مند ہو (مسلم، 184) ىہ خواتىن کے لىے ىاد دہانى ہے کہ مال، علم اور وقت صرف ذاتى فائدے کے لىے نہىں بلکہ دوسروں کى بھلائى کے لىے بھى استعمال ہوں۔ اسلامى تعلىمات ہمىں ىاد دلاتى ہىں کہ خانگى سکون اور تقوىٰ کے ساتھ اس نظام کے چىلنجز آسان ہو سکتے ہىں۔ جىسے قرآن مىں کہا گىا۔۔إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ ٱللَّهِ أَتْقَىٰكُمْ اللہ کے نزدىک سب سے زىادہ معزز وہ ہے جو سب سے زىادہ متقى ہے (الحجرات: 13) ىہ اصول حوصلہ دىتا ہے کہ مالى ترقى اور سماجى مقام کے ساتھ اخلاقى معىار بھى برقرار رکھىں مالى آزادى کے باوجود گھر اور خاندان کے لىے وقت نکالنا توازن کى علامت ہے۔ سرماىہ دارانہ نظام خواتىن کے لىے مواقع اور چىلنجز دونوں لے کر آىا ہے۔ خواتىن کے لىے ضرورى ہے کہ وہ اپنى مالى آزادى اور تعلىم کے ساتھ اخلاق، تقوىٰ اور انصاف کو بھى ملحوظ رکھىں خود اعتمادى اور وقار کو دوسروں سے موازنہ کر کے متاثر نہ ہونے دىں۔ وسائل اور وقت کو معاشرتى بھلائى کے لىے بھى استعمال کرىں قرآن اور سنت کى روشنى مىں ىہ ممکن ہے کہ خواتىن نہ صرف مالى اور سماجى طور پر مضبوط ہوں بلکہ خاندان، معاشرہ اور روحانىت مىں بھى توازن قائم رکھىں۔ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا اور جو اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے لىے نکلنے کا راستہ پىدا کر دے گا (الطلاق:2)۔
ىہ نصىحت رہنمائى ہے کہ مال و دولت کے ساتھ اخلاق اور تقوىٰ کو برقرار رکھنا ممکن ہے، اور اسى مىں حقىقى خوشى اور سکون مضمر ہے۔