آج کی تربیت کل کا مستقبل
تربیتِ اولاد (پانچ سے 10 سال)
آمنہ وقار -شکاگو
ماں کى گود بچے کى پہلى درسگاہ ہوتى ہے۔ اس درسگاہ کے بعد باقاعدہ طور پر امرىکى سسٹم کے مطابق پانچ سال سے کنڈرگارڈن کى عمر شروع ہوتى ہے۔
اىک چھوٹا بچہ تقرىباً ڈھائى گھنٹے ىعنى پرى اسکول سے ہاف ڈے ىا فل ڈے کنڈرگارڈن جوائن کرتا ہے۔ صبح سوىرے اٹھ کر تىار ہو کر اسکول جاتا ہے، ىعنى علمى مىدان کا سفر شروع کرتا ہے۔
بدقسمتى سے ہم اسى اسکول کو اس کى تربىت کا
سمجھ کر مکمل طور پر اسکول پر ہى انحصار کر لىتے ہىں۔ ىہ بچہ جس کو کل قوم کا معمار بننا ہے، وہ زىادہ تر پرائىوىٹ ىا پبلک اسکول سے فى زمانہ علوم سىکھنے کے لىے اپنى زندگى کے بہترىن سال ىعنى پانچ سے دس سال اسکول مىں گزارتا ہے۔
ىہ وہ عمر ہے جب زىادہ تر والدىن اپنے بچوں کو ناظرہ قرآن پڑھانے کے لىے باقاعدہ طور پر کسى قارى ىا مسجد/مدرسے بھىجنا شروع کرتے ہىں۔ بچوں پر اسکول کے بعد اىک اور ذمہ دارى بھى آجاتى ہے۔
اىک اندازے کے مطابق اىک بچے کى بہترىن عمر وہ ہوتى ہے جس مىں اس کى توجہ مکمل طور پر تخلىقى صلاحىتوں (Creativity) اور (language ) ىعنى زبان دانى پر ہوتى ہے۔ اپنےاطراف کے ماحول کو سىکھنے، اپنے دىن کو سمجھنے، اخلاقىات سىکھنے، بہن بھائىوں اور دوستوں کے ساتھ کھىل کے ذرىعے تعلق بنانے کے بجائے وہ غىر ضرورى سرگرمىوں مثلاً زىادہ اسکرىن ٹائم،وىڈىو گىمز، بغىر نگرانى کے کارٹونز اور غىر معىارى مواد دىکھنے جىسے مشاغل مىں لگ جاتا ہے۔
اىک بچہ کو بڑا ہوکر اىک بہترىن انسان بننا ہے اور اپنے سماج مىں دىن کى صحىح نمائندگى کرنے کے ساتھ ساتھ عصرى علوم کا ماہر بھى بننا ہے۔اس کے ذہن مىں ىہ بات بھى ہونى چاہىئے کہ اس کى زندگى کا مقصد اللہ کى رضا حاصل کرنا ہے کىوں کہ اس کى تخلىق کا اصل مقصد بھى ىہى ہے۔اس لىے ىہ بہت ضرورى ہے کہ والدىن ىہ بات اچھى طرح سمجھ لىں کہ بچے کى تربىت چار اہم عناصر پر مشتمل ہے دىنى تربىت ،شخصى تربىت، سماجى تربىت اور ذہنى ارتقاءاىک بچہ مستقبل کا معمار ہے اور اس کى صحىح تربىت کے لىے والدىن کو انہى چار جہتوں پر کام کرنا ہوگا۔
دىنى تربىت
جب بچہ پىدا ہوتا ہے اور اس کے کان مىں اذان دى جاتى ہے توگوىا اس کے شعور کى پہلى دہلىز پر توحىد کى صدا ثبت کردى جاتى ہے۔پھر پانچ سال کى عمر تک وہ اپنے ماں باپ، بہن بھائى، دادا دادى اور نانا نانى کو نماز ادا کرتے اور روزہ رکھتے دىکھتا ہے۔ خود بھى ان کے ساتھ مصلے پر کھڑا ہوتا ہے۔ چار سال کى عمر کے بعد باقاعدہ ناظرہ قرآن پڑھنے کا عمل بھى شروع ہو جاتا ہے۔
دىنى تربىت کے لىے کچھ اہم نکات درج ذىل ہىں۔
بچے کو ناظرہ قرآن سے پہلے وضو کے بارے مىں بتانا اور اس کى پرىکٹس کروانا۔
وضو کى حکمتوں اور نماز کى طرف توجہ کے لىے اس کى اہمىت کو وضو کے ذرىعے سمجھانا۔
دىنى آگاہى کے معاملے مىں بے جا سختى سے گرىز کرنا۔
نماز کى ادائىگى اور پابندى کے لىے خود کو رول ماڈل بنانا۔
پاکى اور ناپاکى کا فرق آسان الفاظ مىں بتانا۔
سىدھے ہاتھ کا استعمال اور چھوٹى چھوٹى دعاؤں کو ىاد کروانا۔
حلال اور حرام کا فرق سمجھانا
کم عمرى مىں ہى قرآن کى چھوٹى چھوٹى سورتىں ىاد کروانا شروع کر دىنا۔
ہر اچھے کام کے آغاز مىں “بسم اللہ” اور اختتام پر “الحمدللہ” کہنے کا اہتمام کرنا اور کروانا۔
سوتے وقت دعائىں، نماز کے بعد آىت الکرسى اور معوذتىن پڑھانا، ىاد کروانا ىا کم از کم سنوانا۔
دىن کا تعارف دىنا وقت کا تقاضا ہے۔ خاص طور پر اس بات کو مدنظر رکھنا کہ ىہ بچے کى دلچسپى کا باعث ہو۔ انبىاء کے قصوں سے سبق حاصل کرنے کے لىے چھوٹے چھوٹے سوالات کرنا مفىد ہے۔
تقرىرى ىا تحرىرى مقابلوں کے لىے MCNA کے پروگرامزمىں شرکت کروانا ىا اپنى مقامى مسجد مىں ہونے والے پروگرامز مىں شرکت کروانا ۔
اس عمر مىں بچوں کا رجحان کھىل کود کى طرف ہوتا ہےتو والدىن کو کوشش کرنى چاہىئے کہ اس شوق کو مثبت رخ دىتے ہوۓ انہىں Gym مىں مثبت اورتعمىرى سرگرمىوں مىں شرکت کروائىں۔ ىہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ىہ عمر فزىکل ڈىوىلپمنٹ اور ہىلتھ ڈىوىلپمنٹ کا بہترىن دور ہے۔
شخصى تربىت
بچے کى ظاہرى ىا جسمانى نشوونما (Physical Development) کے لىے والدىن کا کردار نہاىت اہم ہے۔ والدىن کو چاہىے کہ وہ بچے کو بھرپور توجہ دىں ۔ غذائى نگہداشت اور بہترىن تربىت فراہم کرىں۔
دىن کا فہم اور ابتدائى تعلىم کے لىے بھى ىہى دور انتہائى اہم ہوتا ہے، کىونکہ دىن ہى بچے کى اخلاقىات اور ذہنى تشکىل (ذہن سازى) کا ذرىعہ بنتا ہے۔
چند اہم نکات جن کا پہلے بھى ذکر ہو چکا ہے، ىہ ہىں کہ:
غذائى اور جسمانى ضرورىات کا خاص خىال رکھا جائے
بچے مىں محنت، احترام اور اچھے اخلاق پىدا کىے جائىں
اس کے ذہنى اور جذباتى پہلوؤں کو سمجھا جائے
اس عمر مىں بے جا سختى، ضرورت سے زىادہ نظم وضبط، ڈانٹ ڈپٹ اور مارپىٹ بچے کو ذہنى مرىض بنا سکتى ہے۔ وہ ذہنى طور پر مفلوج ہو سکتا ہے اور بظاہر نارمل نظر آنے کے باوجود نوعمرى مىں مختلف مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔
اس عمر مىں بعض بچوں مىں ADHD, ADD کے علاوہ کسى اىک چىز پر حد سے زىادہ فوکس جىسے مسائل بھى سامنے آ سکتے ہىں۔ اگر ممکن ہو تو کسى ماہرِ نفسىات (Psychologist ) ىا اسکول کے معالج (Physician) سے بھى مشورہ لىنا چاہىے۔
کچھ اہم Red Flags درج ذىل ہىں:
کسى ضد کا پىدا ہونا اور مسلسل اسى کىفىت مىں رہنا
ماں باپ ىا کسى بھى بڑے کى بات، نرمى سے سمجھانے کے باوجود نہ ماننابلکہ اس کے خلاف مسلسل عمل کرنا
غصہ کر کے چىزوں کو پھىنکنا۔
مقررہ وقت کى حدود کو توڑنا ىا بار بار رونا۔
ىہ سب بچے کى نفسىات سے متعلق اہم باتىں ہىں۔ چونکہ بچے عمومى طور پر کھىل کود مىں مگن رہتے ہىں اس لىے ضرورى ہے کہ انہىں کھىل کا مناسب وقت دىا جائے تاکہ وہ جسمانى اور ذہنى طور پر مضبوط ہو سکىں بلکہ خود بھى ان کے ساتھ مل کر کھىلنا چاہىے۔ خاص طور پر ان کى توجہ گھر کے اندر اور گھر کے باہر ۔۔ دونوں طرح کے کھىلوں کى طرف کروائى جائے۔
بچوں کو غىر ضرورى اسکول کے کاموں ،امتحان مىں زىادہ نمبرىا اچھے گرىڈ کى فکر مىں مشغول کرنے کے بجائے انہىں سمجھانے کا عمل آسان بناىا جائے۔ ىہى وہ مرحلہ ہے جہاں سے ذہنى ارتقاء(Mental Development) کا آغاز ہوتا ہے۔
ذہنى ارتقاء ىا Conscious Development مىں ماں باپ کا کردار بہت اہم ہے۔ والدىن کے لىے ضرورى ہے کہ پانچ سال کے بچے کو Good اور Bad choices کے بارے مىں بتائىں۔ اس عمر کے بچوں کو اپنے گھر کا اىڈرىس نہ صرف لکھنا بلکہ زبانى ىاد ہونا چاہىے۔ اپنے گھر، شہر (City)، ملک (Country) اور رہائش (Living space) کا تصور دىنا بھى ضرورى ہے۔
ذہنى نشوونما کے لىے بنىادى Mathematical concepts جىسے اشىاء کى تعداد، مقدار، Measurement، سائز اور Space کو دلچسپى کے ساتھ عملى زندگى (Real life) مىں سکھانا چاہىے۔
رنگوں کو مکس کر کے پىنٹنگ کروانا، چھوٹے ماربلز کے ذرىعے جمع اور تفرىق سکھانا، اور بچوں کے ساتھ شفقت کا برتاؤ کرنا نہاىت ضرورى ہے تاکہ وہ محبت اور نرمى سىکھ سکىں۔
ىہى وہ عمر ہے جس مىں بچے جو کچھ سىکھتے ہىں، وہ ان کے ذہن اور شعور کا حصہ بن جاتا ہے، اور ىہى بنىاد آگے چل کر ان کى تربىت اور گرومنگ مىں نکھار پىدا کرتى ہے۔
سماجى تربىت
بچوں کے ارد گرد کا ماحول بہترىن بنانے کے لىے کچھ تجاوىز درج ذىل ہىں:
والدىن غىر ضرورى طور پر اپنے لہجے کو سخت نہ بنائىں۔ کسى بات کو سمجھانے کے لىے نرم اور مسکراتے ہوئے مختصر انداز اختىار کرىں۔ اگر کوئى بات منع کرنى ہو تو حکىمانہ انداز اپنائىں۔ مثلاً اگر على کو باہر جانے سے روکنا ہو تو اس طرح کہىں:
على! ہم ابھى گھر مىں کھىلتے ہىں اس کے بعد شام کوباہر جائىں گے۔
سماجى تربىت مىں بچوں کے بہن بھائىوں اور دوستوں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ اس لئىے والدىن کو چاہىئے کہ وہ ان کے بہن بھائىوں کے ساتھ تعلقات اور دوستوں پہ نگاہ رکھىں اور اچھى صحبت کى طرف رہنمائ کرىں ۔
بچوں کو ىہ بھى سکھاىا جائے کہ:
بڑوں کى عزت کىسے کرنى ہے (دادا، دادى، نانا، نانى اور دىگر رشتہ داروں سے بات کرنے کا طرىقہ)
چھوٹوں سے محبت اورانکا خىال کىسے رکھنا ہے
والدىن سے بات کرتے وقت ادب اور احترام کا خىال رکھنا ہے، خاص طور پران سے گفتگو کرتے ہوۓ کس طرح ادب سے بات کرنى ہے۔
بچوں کو گھر مىں داخل ہوتے وقت سلام کرنا سکھانا چاہئے۔
محلے اور ہمساىوں کے حقوق کا شعور بھى دىا جائے۔ بچوں کے ذرىعے ہمساىوں کو تحفے، جىسے پھل ىا پھول بھجوانا اىک اچھى عادت ہے، خاص طور پر رمضان اور عىدىن کے مواقع پر۔
بچوں کى شخصىت پر ابتدائى پانچ سے دس سالوں مىں گہرا اثر پڑتا ہے۔ اس لىے سخت ڈانٹ ڈپٹ ىا مارپىٹ سے گرىز کىا جائے، کىونکہ اس سے بچے کى شخصىت متاثر ہوتى ہے اور اس مىں اعتماد کى کمى پىدا ہو سکتى ہے۔
پانچ سے دس سال کے بچوں کى ضرورىات کو سمجھنا بہت اہم ہے۔ کىوں کہ ىہى وہ عمر ہے جہاں ان کى شخصىت،عادات اور روىے تشکىل پاتے ہىں۔اگر والدىن محبت،صبر اور حکمت کے ساتھ انکى راہ نمائى کرىں تو وہ اىک پراعتماد اور باکردار نسل کى بنىاد رکھ سکتے ہىں۔