صاحب انقلاب ﷺ طاہرہ فاروقى ۔ نىوىارک

صاحب انقلاب ﷺ


دنیا میں اب تک صرف ایک ہی مکمل انقلاب برپا ہو سکا ہے جس نے حیاتِ انسانی کے تمام دائروں چاہے وہ انفرادی ہو یا اجتماعی خلوت ہو یا جلوت سب کو زیر و زبر کر دیا۔ یہ واحد انقلاب تھا اوروہ اس کے بانی تھے فخرِ انسانیت وجہِ تخلیقِ کائنات حبیبِ رب العالمین سرورِ کائنات محمد مصطفیٰ ﷺ۔ آپ کا ظہور ایسے وقت میں ہوا جب پوری انسانیت تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی ظلم کا دور دورہ تھا ہر بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھا جاتی تھی کہیں شرک اور بت پرستی کی کالی آندھی چل رہی تھی تو کہیں بادشاہت میں جاگیردار تاجر اور نظامِ سلطنت کو چلانے والے اس ظلم کے معاون تھے دین کے ٹھیکیدار نصرانی اور یہودی مذہب کے نام پر کہیں بدعات کے متعفن گھونٹ پلا رہے تھے تو کہیں مجوسی آتش پرستی کے پرچارک تھے ایسے حالات میں جو ان چیزوں سے نفرت کرتے تھے وہ کبھی اپنی جان کو بچانے کے لیے بھاگ کھڑے ہوئے تو کبھی جوگی اور راہب بن گئے لیکن ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالی نے تباہی کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں دبی ہوئی انسانیت کے علاج اور سدھار کے لیے بھیجا تھا۔
آپؐ نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بدی کے ہلاکت خیز گردابوں سے لڑ کر ساری اولادِ آدم کے لیے نجات کا راستہ کھولا تمدن کی کشتی کی پتوار سنبھالی اور اسے ساحلِ مراد کی طرف گامزن کر دیا نبیِ امیؐ کے گرد و پیش کے آثار و واقعات، حالات کی رفتار کو تیز کرنے میں معاون ثابت ہوئے پہلے مبعوث ہونے والے انبیاء کے آثار بھی موجود تھےشمال میں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت نوحؑ کا علاقہ تھااس کے قریب لوط علیہ السلام کا علاقہ پھر مدائن صالح پھر فلسطین اور یروشلم جہاں بنی اسرائیل کے عروج اور زوال کے آثار موجود تھے اسی طرف حضرت عیسی علیہ السلام نے سچائی اور نیکی کا پیغام سنایا تھا جنوب میں عاد اور ثمود کی بستیاں تھیں۔ سمندر پار مصر کی سرزمین تھی جہاں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام نے طاعت اور عبودیت کی بے مثال تاریخ رقم کی تھی دعوتِ حق کے اٹھنے سے یہ دھندلے نقوش بآسانی تازہ ہو سکتے تھے۔

اسی طرح میرے حضورؐ کو بہترین انسانی مواد مہیا کیا گیا تھا جس کی سب سے بڑی خوبی اس کا خام ہونا تھا جو اب تک استعمال میں نہ آنے کی وجہ سے اس کی قوتوں اور صلاحیتوں کے خزانے محفوظ پڑے ہوئے تھے یہ سادہ فطرت انسان ان تکلفات و تصنعات سے پاک تھے جنہوں نے متمدن سلطنتوں روم اور ایران کے لوگوں کو گھن کی طرح چاٹ لیا تھا۔ فطرت کے مزاج شناس تھے سخت جان اور محنتی تھے شب و روز کی قتل و غارت نے انہیں جری اور شجاع بنا دیا تھا اور ایک عالمی تحریک کو لے کر اٹھنے کے لیے شجاعت اور بے خوفی سب سے پہلی ضرورت تھی۔ وہ لوگ بے حد سخی اور فیاض تھے۔ کنجوس اور تنگ دل نہیں تھے اعلی ظرفی ان کی شان تھی بخیلی ،تنگ ظرفی، چھچھورا پن ان کے لیے گالی تھا۔

غضب کا حافظہ رکھتے تھے، جس کی ضرورت کلامِ الہی کو محفوظ رکھنے اور اس کی ترسیل کے لیے تھی۔ علم الانساب کے ماہر تھے اور اس پر فخر بھی کرتے تھے حتی کہ اپنے جانوروں تک کا شجرہ یاد رکھتے تھے اور اس چیز کی ضرورت تحفیظ و تحقیقِ کلامِ نبویؐ کے لیے بدرجہ اتم تھی۔ وہ جوہرِ خودی کا تحفظ کرنا جانتے تھے کیونکہ غلامی کی ذلت سے ہمیشہ محفوظ رہے تھے۔ اس کے علاوہ ایک سب سے بڑا وصف یہ تھا کہ ان کی زبان دنیا کی بہترین اور بلیغ زبان تھی اور اس پر وہ بجا طور پر نازاں بھی تھے بایں سبب وہ خود کو اہل زبان اور دوسروں کو گونگا بھی کہتے تھے عزم کے اتنے پکے تھے کہ ان کو ایک بار راہِ راست پر ڈال دیں تو پھر کبھی بھی ان کے قدم نہ ڈگمگائیں۔ اور پھر یہ انسانی مجموعہ ہر طرح سے ارتقا کا قدم بڑھانے کے لیے بے چین تھا یہاں تک کہ مذہبی مزاج رکھنے والے ذہین اور مخلص افراد میں ہیجان اور اضطراب تک شروع ہو چکا تھا۔۔۔ یہی وہ بہترین موقع تھا جب انسانیت کو تاریخ کی سب سے کامیاب اور بابرکت کروٹ بدلنی تھی۔ کرۂ ارضی کے اس بہترین انسانی گروہ کے سامنے بظاہر اندھیرا تھا، لیکن آئندہ منظرنامے میں ایک زندگی سے بھرپور اجالا ان کا منتظر تھا جس کی گواہیاں ان کے وجود کے اندر موجود تھیں۔

وہ اجالا صرف اس انقلابی کلمے کا منتظر تھا کہ اس کائنات کا صرف ایک خدا ہے وہی انسان کا معبود ہے اور انسان صرف اسی ایک ہستی کا عبد ہے باقی تمام کائنات اس کے زیرِ نگیں ہے یہی کلمہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شجرِ انقلاب کا بیج تھا جس کی مثال سورہ ابراہیم آیت نمبر 24 اور 25 میں دی گئی ہے
یہ انتہائی انقلابی کلمہ تھا لا الہ الا اللہ۔ الہ کہتے ہیں معبود کو جس کی پرستش کی جائے اسی کی غلامی کی جائے اسی پر فدا ہوا جائے اسی کی تقدیس کی جائے اسی پر بھروسہ کیا جائے اسی کی مناجات کی جائے اسی کے آگے نذر پیش کی جائے اس سے ہمیشہ بھلائی کی امید رکھی جائے اسی سے خوف کھایا جائے اسی کے مطابق تمام نظامِ حیات تشکیل دیا جائے۔ اس کے پسندیدہ لوگوں کی عزت کی جائے، احترام کیا جائے، اس کے معتوب لوگوں سے کنارہ کشی کی جائے۔ اس کے حامیوں کی حمایت کی جائے مخالفوں کی مخالفت کی جائے اسی کے آگے رویا جائے گڑگڑایا جائے، اسی کی رضا کو اپنا نصب العین قرار دیا جائے۔

اسی کلمے کے اثرات و نتائج میں انسان کی سچی آزادی پوشیدہ تھی اور اس کلمے کا دوسرا حصہ اس بات کا اعلان تھا کہ اس کی اطاعت و جاں نثاری کا واحد طریقہ وہی ہے جو اس نے خود اپنے رسولؐ محمد مصطفیٰ ﷺ کے ذریعے سے بھیجا ہے گویا یہ حدِ فاصل تھی جو انسان کے اختیارات و غیر اختیارات کے درمیان کھینچ دی گئی۔
اب مرحلہ تھا انسان کے اختیارات کو محدود کرنے کا، جس کے لیے وہ حتی الامکان تیار نہیں تھا۔ اس کو اس مقام تک لانا کہ وہ خود اپنے اختیار سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہو جائے یہ کام میرے حضورؐ کا تھا جس کو اللہ نے اپنی مدد سے آسان بنا دیا۔۔۔ اور یہ کام اس وقت لوگوں کے لیے آسان ہوا جب ان کی نگاہ آخرت کی کامیابی پر مرکوز ہو گئی سعید روحوں کو مقصدِ دین سمجھایا گیا مقصدِ زیست سمجھایا گیا کہ اللہ ہے جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت دے کر، ضابطہ حیات دے کر، دینِ حق دے کر اسی غرض سے بھیجا ہے کہ ہر دین کے مقابلے میں اسے پوری انسانی زندگی پر غالب کر دے خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔

یعنی مدعا یہ کہ قریش اور تمام مشرکینِ عرب تو جاہلی نظامِ حیات کو بچانے کے لیے زور لگائیں گے اور جاہلیت کے خلاف جو بھی آواز اٹھے گی اسے دبانے کی کوشش کریں گے مگر ان ناگواریوں کی پرواہ کیے بغیر ان کے محاذِ مخالفت کو توڑ کر حضور کو اقامتِ دین کرنا ہے اور خدا کے ضابطہ حیات کو عملاً جاری کرنا ہے اور اسی لیے کہا گیا کہ کونوا انصار اللہ یہ دعوت تھی کہ اللہ کے قانون کو اللہ کی زمین پر نافذ کرنے کے لیے آپ کی خدمات کی ضرورت ہے۔

ان خدمات کو رسول اللہ ﷺ نے کس طرح انجام دیا سب سے پہلے ضیافت کے ذریعے خاندانِ بنو ہاشم جو قریب ترین حلقہ تھا دعوت دی گئی پھر پہاڑ سے دعوت دے کر مجمع جمع کیا گیا پھر انفرادی اور اجتماعی ہر سطح سے خطاب کیا گیا میلوں ٹھیلوں جلسے جلوسوں تقریبوں تہواروں غرض ہر موقع کو استعمال کیا گیا کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا گیا بنو عامر کا کردار بحیرہ بن فراس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان والہانہ سرگرمیوں سے نیزآپ کے پیغام اور آپ کی شخصیت سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے کہا کہ اگر یہ نوجوان میرے ہاتھ آ جائے تو میں سارے عرب کو کھا جاؤں اس کی نگاہیں اس دعوت کی منتہا اور کام کے نتائج تک پہنچ گئی تھیں اسی بنا پر اس نے اقتدار کا سودا بھی کرنا چاہا لیکن اقتدار کے لیے اللہ کے رسول نے صاف انکار کر دیا یہ تو اللہ جس کو چاہے گا سونپے گا اس کے ساتھ تعاون کی بہترین حکمتِ عملی تیار فرمائی گئی جہاں ہمہ گیر تربیت ہو انفرادی روحانی ارتقا کی منزلیں طے ہوں وہاں بہترین اجتماعی تعاون و تمدن کی فضا قائم ہو جاتی ہے اور ایک ترقی یافتہ اجتماعی زندگی اور پرشکوہ سلطنت کا دبدبہ بھی نظر آتا ہے۔

جب عدی بن حاتم مدنی دور میں حاضرِ خدمت ہو کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کا جائزہ لیتا ہے دعوت کی نوعیت سمجھنا چاہتا ہے ناقدانہ انداز سے حضور کے اطوار کی جانچ کرتا ہے حضور اس کے طرزِ فکر کا لحاظ کر کے اسے جہاں یہ بتاتے ہیں کہ عنقریب بابل کے سفید محلات اسلام کے تسلط میں ہوں گے وہیں نظامِ عدل کی اس شان سے بھی آگاہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت قادسیہ سے تنہا اونٹ پر مسجدِ حرام آنے کے لیے نکلے گی اور بخیریت واپس پہنچے گی ۔سراقہ کے ہاتھوں میں کنگن دیکھنے والی آنکھ کے بارے میں یہ کیسے سوچا جا سکتا ہے کہ اسلامی ریاست بطور مقصد اس کے پیشِ نظر نہ تھی اس کے لیے تیاریاں نہیں کی گئی تھیں بس بیٹھے بٹھائے اچانک ہی انعام کے طور پر وہ ہاتھ آ گئی درحقیقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیشِ نظر جہاں اعتقادی اور اخلاقی انقلاب تھا وہیں پوری اہمیت کے ساتھ سیاسی انقلاب بھی تھا جہاں فرد کی اصلاح مطلوب تھی وہیں تمدن کی درستگی بھی مقصود تھی بہ الفاظ دیگر حضورؐ نے انسان کو ایک اجتماعی وجود کی حیثیت سے سامنے رکھا اور اس کی اصلاح اس کے جملہ تمدنی رابطوں سمیت کی۔۔۔۔!!!

والدین و اولاد کے حقوق، بہن بھائیوں، استاد اور اہلِ محلہ کے حقوق، میاں بیوی اور میکہ و سسرال کے حقوق وغیرہ سے شروع کر کے ریاست اور اس کے قوانین کے حقوق سے ہوتے ہوئے بین الاقوامی تعلقات میں حقوق و فرائض تک دائرہ اختیار میں لے لیا اور اس کو اسلام کے حصار میں محفوظ کر دیا یہ حقیقت سامنے رکھیں اور حضورؐ کے پورے نصب العین کی وسعت کو ذہن نشین کر لیں تب واقعاتِ سیرت میں تسلسل پوری طرح دکھائی دے گا اور ہر واقعہ اور اقدام کی تعبیر و توجیہ ہوتی جائے گی۔

ورنہ نہ تو سیرتِ پاک کے اسرار کھلیں گے
نہ ہی قرآن کے مقدس نکات واضح ہوں گے

نبیِ برحق صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریک نے انقلاب لا کر جو نظامِ زندگی قائم کیا اس کی امتیازی شان یہ تھی کہ اساسی کلمے کی روح تمام شعبہ ہائے زندگی میں یکساں طور پر سرایت کیے ہوئے تھی پورے تمدن میں ہم آہنگی تھی سارے ادارے یک رنگ تھے جس خدا کی عبادت مسجد میں ہوتی تھی اسی کی اطاعت ایوانوں، اداروں، کھیت اور بازار میں، حتی کہ تفریحات اور تعلقاتِ زن و شوہر تک میں تھی (نکاح و طلاق ولیمہ و مہر کے احکامات) نماز میں جس قرآن کی تلاوت تھی عدالت و انتظامیہ کے فیصلے اسی کے مطابق ہوتے تھے جو اصول و قوانین گھر کی زندگی خوشگوار بنانے کے لیے تھے وہی تمام بین الاقوامی تعلقات میں جاری و ساری تھے جو رضائے الہی خشوع و خضوع نماز میں معمول تھا وہی کافر دشمن کے مقابلے پر تیر و تلوار چلانے میں موجود تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ کا واقعہ جس میں ایک کافر نے زیر ہونے پر ان کے چہرے پر تھوک دیا تھا اور حضرت علی انس رضی اللہ عنہ کا سر قلم کیے بغیر اس کے سینے پر سے اتر آئے تھے یہ ساری دنیا کو معلوم ہے دنیا کے سب سے بڑے مصلح نے جو انقلاب برپا کیا اس میں تشدد کی روح نہ تھی، خیرخواہی کی روح تھی اپنی دعوت کی نوعیت کو رسول اللہ ﷺ نے یہ مثالیں دے کر سمجھایا کہ تم لوگ آگ سے بھرے ہوئے گڑھے کی طرف پروانوں کی طرح لپکتے ہو اور میں کمر سے پکڑ پکڑ کر تم لوگوں کو بچانے کی کوشش کر رہا ہوں اس مثال کے ثبوت میں پوری زندگی کو پیش کیا بلکہ محیرالعقول ایثار کا مظاہرہ کیا اپنی تجارت قربان کی۔ اپنا کوئی حصہ دولت کے ڈھیر میں نہ رکھا بلکہ اپنے لیے فقر و فاقہ کو پسند کیا حتی کہ فے وغیرہ کی املاک کو بھی اپنے پسماندگان میں ترکے کے طور پر تقسیم نہ کیا۔

محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ مقدس انقلاب تھا جس کے ہم پاسبان بنائے گئے تھے اور اس مقدس پیغام کو پہنچانے کے لیے شہداء علی الناس اور امتِ وسط کے بلند مقام پر ہم کو فائز کیا گیا تھا اس کلمۂ حق کی امانت قیامت تک کے لیے تفویض کی گئی تھی تاکہ انسانیت کے نجات دہندہ بنیں اور جب بھی زندگی اپنے مسائل میں الجھ جائے تمدن بحران میں گھر جائے تو ہم اس کے لیے سہارا بنیں۔
مگر ہم نے اپنے فرائض سے کوتاہی کی اور نظامِ حق کا ستیاناس کر دیانتیجتاً جب قافلۂ فکر بھٹک کر غلط موڑ پر پڑا تو ہم اپنا فرض ادا کرنے کے اہل نہ تھے اور یہ ہماری ہی کوتاہیوں کا نتیجہ ہے کہ آج پوری حیاتِ انسانی بحران کا شکار ہے پوری تاریخ ایک ہولناک ڈرامے میں بدل گئی ہے انسانوں میں بھائی چارگی کے بجائے چیتے اور بھیڑیے والا رشتہ ہے۔

مختلف ازم اور مختلف براعظموں میں خوفناک کشاکش ہے۔ سائنس اور آلات کی بے بہا ترقی کے باوجود انسان شیطانی استبداد کے پنجوں میں بالکل بے بس ہے ذرا کسی ایسے کاروان کا تصور کیجیے جو پہاڑ کی چوٹی پر زربفت کے خیموں میں دنیا جہان کے سامانِ تعیش اور دولت و اسلحہ کے انبار کے ساتھ لہو و لعب میں مشغول ہو اور زمین کے نیچے آتش فشاں ابل رہا ہو۔۔۔۔ اور کوئی گھڑی آتی ہو کہ پھٹ پڑے گا تو کیا خیال ہے ہمارا کاروانِ تاریخ کے پڑاؤ پر اس سے کچھ مختلف ہے؟؟؟ اس پہاڑی کے سینے میں ہولناک ترین بحران کا لاوا کھول رہا ہے اس وقت انسانیت ٹھیک اسی دور سے گزر رہی ہے جو صاحبِ انقلاب رسول اللہ ﷺ کی تحریک کے وقت تھا۔
ہمارے نزدیک سیرتِ پاک کے مطالعے کا ایک ہی مقصد ہے کہ حضورؐ کے پیغام کی مشعل اٹھائیں اور دہر میں اجالا پھیلائیں اگر ہم دنیا کے منظرنامے کو دیکھیں تو نظر آئے گا کہ وہی علاقائی صورتحال ہے پاکستان اور دیگر آس پاس کے علاقوں میں اسلامی تحریکیں بھی موجود ہیں۔
اور فعال ہیں افغانستان بنگلہ دیش سوڈان یمن تیونس وغیرہ حتی کہ یورپی ممالک تک میں اسلامی آگاہی کے ذریعے اسلام سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب بن چکا ہے بہترین انسانی مواد موجود ہے اللہ کے دین پر جان قربان کرنے والے مجاہد کشمیر، فلسطین، ایران، لبنان، یمن، شام، بنگلہ دیش، اور پاکستان سب جگہ نظر آتے ہیں چاروں موسموں والا ملک ہے جنوب میں سمندر ہے اسلام کی لہر زوروں پر ہے حالات ہر لحاظ سے تیار ہیں مخلص افراد میں اضطراب بھی موجود ہے ہمارے پاس ایسا لٹریچر ہے جو قرآن کے مطالب سمجھانے اور موجودہ دور میں اس پر عمل کرنے کے طریقوں کو آسان بنانے کی بہترین صلاحیت رکھتا ہے بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اس انقلابی کلمے کو پوری طاقت سے بلند کریں اور وہی ایثار اور ہمدردی اور جانسوزی کے ہتھیار لے کر خودغرضی نفس پرستی بے حسی اور کاہلی کے عفریتوں کو موت کے گھاٹ اتار دیں اور دنیا جس سکون اور امن کی متلاشی ہے اسے مہیا کرنے کے لیے اپنا سکون چین سب بھول جائیں اللہ کے انعامات کی طرف اپنی نظریں مرکوز کر دیں۔

سیرت النبیؐ کے مطالعہ کا ایک ہی مقصد ہونا چاہیے کہ ہر قدم پر اس راہ کے نشان ڈھونڈیں جو ہمیں عالمگیر اسلامی انقلاب تک لے جاتی ہے جس کے سرے پر سکون،امن، خوشحالی بھائی چارہ، عزت و احترام اور رب کی رضا سب ہی کچھ موجود ہے۔

اللہ تعالی ہمیں سچا داعیِ حق بنائے آمین۔ ہمیں باہم پیوست کر کے بنیانِ مرصوص بنا دے ہمیں بارش کے قطرے بنا دے جو سوکھی زمین کو سیراب کر دیں اور زندگی برگ و بار لانے لگے اور جب ہم سرخرو ہو کر رب کے پاس پہنچیں تو وہ ہمیں دیکھ کے مسکرائے اور قافلۂ مفلحون میں شامل فرمائے اور یہی ہمارا منتہائے مقصود ہے۔ آمین