رشتے زہریلے نہیں۔۔۔۔

رشتے زہریلے نہیں۔۔۔۔


تمہیں اس سے تعلق ختم کر دینا چاہیے۔
سارہ نے کوفی کا مگ میز پر رکھتے ہوئے کہا۔
کیوں؟
کیونکہ وہ ٹاکسک ہے۔
عائشہ مسکرا دی۔
امریکہ آئے اسے پندرہ برس ہو چکے تھے۔ اب وہ اس لفظ کی عادی ہو چکی تھی۔
ٹاکسک شوہر۔
ٹاکسک ساس۔
ٹاکسک دوست۔
ٹاکسک باس۔
ٹاکسک والدین۔
کبھی کبھی اسے لگتا کہ اگر یہ لفظ نکال دیا جائے تو آدھی گفتگو ہی ختم ہو جائے۔
تم ہنس کیوں رہی ہو؟
سارہ نے حیرت سے پوچھا۔
میں سوچ رہی ہوں کہ اگر دنیا واقعی اتنے ٹاکسک لوگوں سے بھری ہے تو پھر ہم سب اس زہر سے بچے ہوئے کیسے ہیں؟
سارہ خاموش ہو گئی۔
کھڑکی کے باہر جون کی دھوپ واشنگٹن کی گلیوں میں براجمان تھی۔
سڑک پر لوگ اپنے اپنے راستوں پر رواں تھے۔
عائشہ کی نگاہیں کہیں دور چلی گئیں۔
اسے اپنا بچپن یاد آ گیا۔
پاکستان کا ایک چھوٹا سا گھر۔
امی کا سخت لہجہ۔
ابو کی خاموش طبیعت۔
بجلی کی لوڈشیڈنگ۔
مالی تنگی۔
اور وہ دن جب امی نے اپنی نئی انگوٹھی بیچ کر اس کی فیس جمع کروائی تھی۔
بچپن میں اسے اپنی ماں بہت سخت لگتی تھیں۔
اتنی سخت کہ کئی بار وہ روتے ہوئے سوچتی:
امی مجھ سے محبت ہی نہیں کرتیں۔
پھر۔۔۔۔ وقت دبے پاؤں گزر گیا۔
وہ ماں بنی۔
اور پہلی بار اسے معلوم ہوا کہ محبت ہمیشہ نرم آواز نہیں ہوتی۔
کبھی کبھی محبت لہجے کی سختی اوڑھ لیتی ہے۔
کبھی فکر غصے کا روپ دھار لیتی ہے۔
اور کبھی قربانی اتنی طویل ہو جاتی ہے کہ چہرے کی مسکراہٹیں کھا جاتی ہے۔
لیکن کچھ لوگ واقعی نقصان پہنچاتے ہیں۔
سارہ نے کہا۔
ہاں، پہنچاتے ہیں۔
عائشہ نے فوراً جواب دیا۔
اور ایسے لوگوں سے حدود قائم کرنا ضروری ہے۔ اسلام بھی ظلم برداشت کرنے کا حکم نہیں دیتا۔
پھر؟
پھر یہ کہ ہر مشکل انسان ظالم نہیں ہوتا اور ہر کڑوا لہجہ زہریلا نہیں ہوتا۔
اسی شام عائشہ مسجد کے ایک پروگرام میں گئی۔
وہاں ایک خاتون سے ملاقات ہوئی۔
سارہ بولی۔۔ لوگ کہتے تھے:
بہت تلخ مزاج ہیں۔
ہر بات میں اعتراض کرتی ہیں۔
ان کے قریب نہ جانا۔
مگر گفتگو کے دوران عائشہ کو معلوم ہوا کہ پچھلے دس برسوں میں وہ اپنے شوہر، ایک بیٹے اور ایک بیٹی کو دفن کر چکی ہیں۔
اب تنہا رہتی ہیں۔
گھٹنوں میں شدید درد ہے۔
رات کو نیند کی گولیاں کھانی پڑتی ہیں۔
اور اس کے باوجود ہر جمعے مسجد میں نئے مسلمان خاندانوں کے لیے کھانا بنا کر لاتی ہیں۔
واپسی پر عائشہ کے دل میں عجیب سی خاموشی تھی۔
اسے محسوس ہوا کہ ہم لوگوں کے رویے دیکھتے ہیں، ان کی کہانیاں نہیں۔
ہم ان کے جملے سنتے ہیں، ان کے زخم نہیں سنتے۔
ہم فیصلے سناتے ہیں، مقدمہ نہیں سنتے۔
آج انسان نفسیات کی زبان تو سیکھ گیا ہے مگر ہمدردی کی زبان بھولتا جا رہا ہے۔
ذرا سا اختلاف ہو تو رشتہ ختم۔
ذرا سی تلخی ہو تو بلاک۔
ذرا سی ناراضی ہو تو رابطہ منقطع۔
بعض لفظوں کا استعمال ہم اتنا زیادہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی قیمت کھو دیتے ہیں یا زبان زد عام ہو جاتے ہیں۔
اگر ہم کہیں فلاں فرد بہت مشکل ہے تو بات واضح ہو رہی ہے۔
لیکن جب ہم کہتے ہیں فلاں ٹاکسک ہے تو ہم نے اس پر تہمت لگا دی کہ وہ زہریلا ہے۔۔
ایک عورت جو (کسی کے لیے) زہریلی ہے وہ اپنی بہو کے لیے زہریلی، بیٹی کے لیے وہ مہربان ہے۔ ساس بھی ماں ہے، کیسے ہو سکتا ہے ماں زہریلی ہو۔ ایک دوست اپنے دوسرے دوست کے لیے جان دیتا ہے جبکہ تیسرا دوست اس کو ٹاکسک کہتا ہے۔۔
جس سے ہماری انڈرسٹینڈنگ نہ ہو یا ہمارے مفاد کو ٹھیس پہنچے ہم اس کے لیے اتنا شدید لفظ زہریلا کیسے کہہ سکتے ہیں۔۔
وہ بھی اپنے سے جڑے رشتوں کو۔
گویا انسان نہیں، موبائل ایپلی کیشنز ہوں جنہیں پسند نہ آئے تو ڈیلیٹ کر دیا جائے۔
حالانکہ زندگی اس قدر سادہ نہیں۔
کچھ لوگ واقعی نقصان دہ ہوتے ہیں۔
ان سے فاصلہ ضروری ہوتا ہے۔
مگر بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دراصل زخم خوردہ ہوتے ہیں۔
ان کی روح پر محرومیوں کی گرد جمی ہوتی ہے۔
ان کے دل میں ایسے دکھ دفن ہوتے ہیں جن کا ہمیں اندازہ تک نہیں ہوتا۔
قرآن انسان کو ایک مختلف راستہ دکھاتا ہے۔
وہ نفرت کے جواب میں نفرت بڑھانے کا نہیں کہتا۔
وہ دلوں کے درمیان پل بنانے کی تعلیم دیتا ہے۔
وہ کہتا ہے:
برائی کو اس بھلائی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔
شاید اسی لیے مسلمان کا کام صرف لوگوں کو جانچنا نہیں، انہیں سمجھنا بھی ہے۔
صرف اپنے زخم گننا نہیں، دوسروں کے زخم محسوس کرنا بھی ہے۔
اور کبھی کبھی اپنے آپ سے یہ سوال کرنا بھی ہے:
جسے میں ٹاکسک سمجھ رہی ہوں، کیا میں اسے جانتی ہوں؟
اور اس سے بھی بڑا سوال:
کیا کسی اور کے نزدیک ٹاکسک میں خود تو نہیں؟