آٹزم

آٹزم

سونیا کنول – پاکستان

مىں نے آٹزم کى دنیا مىں 19 سال خود گزارے ہیں۔ اس لىے مىں جانتى ہوں کہ اىک اسپىشل نىڈز بچےکى ماں ہى اس دنىا مىں بنىادى نگہداشت کرنے والى ہوتى ہے، اور اس کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے۔ اىک اسپىشل نىڈزبچےکى ماں ہونے کے ناطے مىں ان تمام احساسات اور مشکلات کو سمجھ سکتى ہوں جن سے ہم سب گزرتى ہىں، کىونکہ مىں بھى انہى راستوں سے گزرى ہوں اور آج بھى گزر رہى ہوں۔

ىہ اىک اىسا سفر ہے جس کى مشکلات کبھى ختم نہىں ہوتىں ہاں کم ضرور ہو سکتى ہىں اىک اىسا راستہ جس پر آپ کو اکثر اکىلے ہى چلنا پڑتا ہے۔ اىک اىسا سفر جو بعض اوقات اندھىرے، گھٹن، تنہائى اور بے بسى سے بھر جاتا ہے۔

ہم ہمىشہ اس بارے مىں بات کرتے ہىں کہ آٹزم ىا دىگر خصوصى ضرورىات رکھنے والے بچے کن مشکلات سے گزرتے ہىں، لىکن ہم بہت کم اس بارے مىں بات کرتے ہىں کہ ان بچوں کى مائىں کن آزمائشوں سے گزرتى ہىں۔

مىں پچھلے پندرہ سالوں سے اس سفر کے بارے مىں لکھ رہى ہوں اور مجھے اسپىشل نىڈز بچوں ماؤں کے بہت پىغامات ملتے ہىں۔۔

ىہ چند عام خىالات اور احساسات ہىں جو آٹزم اور دىگر خصوصى ضرورىات رکھنے والے بچوں کى ماؤں نے مىرے ساتھ شىئر کىے۔ مىں ان کا نام ظاہر کىے بغىر ان کو آپ کے ساتھ شىئر کرنا چاہتى ہوں ان کا مقصد عام لوگوں کو صرف ىہ احساس دلانا ہے کہ اىک ماں کى ذہنى اور جسمانى صحت کس حد تک متاثر ہو سکتى ہے۔

اىک ماں نے مجھ سے کہا:

مىرى خواہش ہے کہ مىرى اور مىرے آٹسٹک بىٹے کى موت اىک ساتھ اور فطرى طور پر ہو جائے، کىونکہ مىں اس مسلسل خوف کے ساتھ نہىں جى سکتى کہ اىک دن مىں اسے اس بے رحم دنىا مىں اکىلا چھوڑ جاؤں گى۔ اىک اىسى دنىا جہاں جانور، درخت، پودے اور فطرت مىرے آٹسٹک بىٹے کے ساتھ ان لوگوں سے زىادہ مہربان ہىں جنہىں اس کا اپنا کہنا چاہىے۔

اىک اور ماں نے کہا:

مىرے اعصاب سن ہو چکے ہىں، مىرے جسم پر نىل پڑے ہوئے ہىں، اور جب مىرے بچے کو غصہ آتا ہے تو مىرا پورا جسم درد سے بھر جاتا ہے۔ وہ اٹھارہ سال کا ہے۔ مىرے پاس باہر سے مدد لىنے کے وسائل نہىں ہىں۔ وہ جوں جوں بڑا ہو رہا ہے، جسمانى طور پر مجھ سے زىادہ طاقتور ہوتا جا رہا ہے، جبکہ مىرا جسم کمزور ہو رہا ہے۔ مىں تھک چکى ہوں، ٹوٹ چکى ہوں اور تنہائى کا شکار ہوں۔

اىک اور ماں نے کہا:

کبھى کبھى مجھے لگتا ہے کہ مىں اپنے بچے کے آٹزم سے زىادہ اپنى ذہنى صحت سے لڑ رہى ہوں۔ لوگ ہمىشہ مجھ سے مىرے بىٹے کے آٹزم کے بارے مىں بات کرتے ہىں، لىکن کوئى مجھ سے ىہ نہىں پوچھتا کہ مىں کىسى ہوں۔ چودہ سال ہو گئے ہىں مجھے رات بھر سکون سے سوئے ہوئے، کىونکہ مىرے بىٹے کو نىند کے شدىد مسائل ہىں۔ اب پہلے کى طرح اس کا خىال نہ رکھنے کا احساسِ جرم مجھے اندر ہى اندر کھا رہا ہے۔

جب مىں اسپىشل نىڈز بچوں کے والدىن سے درخواست کرتى ہوں کہ وہ اپنى شرىکِ حىات کے لىے زىادہ معاون اور ہمدرد بنىں، تو اس کى وجہ ىہى تلخ حقىقت ہے۔ اىک مرد کے لىے بعض اوقات بىوى اور بچے کو چھوڑ کر نئى زندگى شروع کرنا آسان ہو سکتا ہے، لىکن اىک ماں کے لىے اىسا کرنا ممکن نہىں ہوتا۔

اسے موردِ الزام مت ٹھہرائىے، کىونکہ 

 

ىہ اس کى غلطى نہىں ہے۔

ىہ آپ دونوں کا امتحان ہے، اور جس طرح ىہ بچہ اس کا ہے، اسى طرح آپ کا بھى ہے۔

اىک سنگل مدر جسے بچے کى تشخىص کے بعد اس کے شوہر نے چھوڑ دىا، اس نے مجھ سے کہا:

اکىلى ماں ہونے کے ناطے مالى خودمختارى حاصل کرنا بھى اىک جدوجہد ہے۔ کئى سالوں سے مىرى نىند صرف دو ىا تىن گھنٹے تک محدود ہے۔ جب مىرا بىٹا سوتا ہے تو مىں کام کرتى ہوں، اور جب وہ جاگتا ہے تو مىں اس کے ساتھ ہوتى ہوں۔ آہستہ آہستہ اىسا محسوس ہوتا ہے جىسے اندھىرا مجھے اپنے اندر نگل رہا ہو۔ مجھے روشنى کہىں نظر نہىں آتى، صرف اندھىرا دکھائى دىتا ہے۔

اىک اور ماں نے کہا:

مىں ىہ سب کسى سے نہىں کہتى۔ لوگ مجھ سے توقع کرتے ہىں کہ مىں اىک مضبوط اور ناقابلِ شکست عورت بنوں، لىکن حقىقت ىہ ہے کہ مىں بھى کمزور پڑ جاتى ہوں۔ مىں بھى انسان ہوں۔ جب مىرا بچہ مسلسل چھ گھنٹے تک بغىر رکے شدىد غصے مىں رہتا ہے تو مىں بالکل نڈھال ہو جاتى ہوں۔ کوئى نہىں سمجھتا کہ ہم کس کرب سے گزرتے ہىں۔

اىک ماں نے کہا:

مىں ہر رات اللہ تعالىٰ سے دعا کرتى ہوں کہ مىرے لىے آسانى پىدا فرما دے۔ مىں خود کو تنہا، جذباتى طور پر ٹوٹا ہوا اور جسمانى طور پر بے حد تھکا ہوا محسوس کرتى ہوں۔ مىرے جسم کا اىک اىک حصہ درد کرتا ہے۔ مىرے بىٹے کى پىدائش کے بعد سے مجھے رات کى نىند نصىب نہىں ہوئى۔ کبھى دل چاہتا ہے سب کچھ چھوڑ کر کہىں بھاگ جاؤں، لىکن انسان اپنے ہى بچے سے بھلا کہاں بھاگ سکتا ہے؟ کوئى اىسا نہىں جو بغىر کسى فىصلے اور تنقىد کے ہمارى بات سن لے۔

اىک اور ماں نے کہا:

مىں چوبىس گھنٹے مسلسل فکرمندى اور الرٹ رہنے کى حالت مىں رہتى ہوں۔ مىں ذہنى اور جسمانى طور پر ہر وقت تىار رہتے رہتے تھک چکى ہوں۔ مىرا بچہ بہت معصوم ہے، اسے خطرے کا احساس نہىں۔ وہ مىرے بغىر کھا پى بھى نہىں سکتا۔ وہ کبھى اسکول نہىں جا سکا۔ مىں تھراپىز کا خرچ بھى برداشت نہىں کر سکتى۔ مىں اس کے ساتھ کام کرنا چاہتى ہوں لىکن بعض اوقات ذہنى طور پر اتنى تھک جاتى ہوں کہ کچھ کرنے کى ہمت نہىں رہتى۔ پھر مجھے احساسِ جرم گھىر لىتا ہے کہ شاىد مىں اچھى ماں نہىں ہوں ىا مىں اپنے بچے کو بہترىن سہولىات فراہم نہىں کر سکى۔

اىک اور ماں نے کہا:

مىرا بىٹا سولہ سال کا ہے۔ وہ مجھ سے لمبا اور زىادہ طاقتور ہو چکا ہے جبکہ مىں کمزور ہوتى جا رہى ہوں۔ بعض اوقات مىں خود سے سوال کرتى ہوں: آخر کىوں؟ کىوں مىں؟ کىوں مجھے اىک عام اور صحت مند بچہ نصىب نہىں ہوا جىسے مىرے اردگرد کے لوگوں کو ہوا؟ آٹزم کوئى تحفہ نہىں ہے۔ اس نے مىرے بىٹے کى زندگى کو مشکل بناىا ہے اور ہمارے پورے خاندان کى زندگى کو بھى متاثر کىا ہے۔ مىرا بىٹا نہ اپنى بات بىان کر سکتا ہے، نہ اپنے جذبات کا اظہار کر سکتا ہے، نہ اسکول جا سکا، کىونکہ اُس وقت آٹزم اور دىگر معذورىوں کے بارے مىں نہ آگاہى تھى اور نہ مواقع۔

اور ىہ فہرست ختم ہونے والى نہىں۔

ىہ صرف چند احساسات ہىں جو مىں ىہاں بىان کر سکى ہوں۔ بہت سے اىسے درد اور خىالات بھى ہىں جنہىں الفاظ مىں بىان کرنا ممکن نہىں۔

ىہ تمام خىالات اس حقىقت کى نشاندہى کرتے ہىں کہ آٹزم اور دىگر خصوصى ضرورىات رکھنے والے بچوں کى ماؤں کى ذہنى صحت کس حد تک متاثر ہو سکتى ہے۔

سوشل مىڈىا کا مثبت استعمال کرتے ہوئے ىہ ضرورى ہے کہ ہم انہىں سنىں، سمجھىں اور ان کے ساتھ مہربانى اور ہمدردى کا روىہ اختىار کرىں۔

براہِ کرم انہىں صرف ىہ مت کہىے کہ مضبوط بنو، مثبت سوچو، اپنى نعمتوں کو دىکھو ىا دوسروں کے حالات تم سے زىادہ خراب ہىں۔

تکلىفوں کا موازنہ نہىں کىا جا سکتا۔

ہر انسان اپنى جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔

آٹزم اور دىگر خصوصى ضرورىات رکھنے والے بچوں کى مائىں اىک اىسى جنگ لڑتى ہىں جو اکثر دوسروں کو نظر نہىں آتى۔ اىک اىسى جدوجہد جو مسلسل جارى رہتى ہے، جو زندگى بھر ساتھ چلتى ہے، اور جس کے بہت سے پہلوؤں کا کوئى آسان حل موجود نہىں ہوتا۔

مىرى پىارى اسپىشل نىڈز ماؤں!

آپ اہم ہىں۔

آپ کى جدوجہد اگرچہ دوسروں کو نظر نہىں آتى، لىکن وہ حقىقى ہے۔

آپ کى تھکن حقىقى ہے۔

آپ کے آنسو حقىقى ہىں۔

آپ کى قربانىاں حقىقى ہىں۔

اور ىقىن کىجىے، آپ اپنے بچے کے لىے اپنى پورى کوشش کر رہى ہىں۔

اور ىہى سب سے زىادہ اہم بات ہے۔

سب سے زىادہ اہم۔