آٹزم

 

میں نے آٹزم کی دنیا میں 19 سال خود گزارے ہیں، اس لیے میں جانتی ہوں کہ ایک اسپیشل نیڈز بچےکی ماں ہی اس دنیا میں بنیادی نگہداشت کرنے والی ہوتی ہے، اور اس کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے۔ ایک اسپیشل نیڈزبچےکی ماں ہونے کے ناطے میں ان تمام احساسات اور مشکلات کو سمجھ سکتی ہوں جن سے ہم سب گزرتی ہیں، کیونکہ میں بھی انہی راستوں سے گزری ہوں اور آج بھی گزر رہی ہوں۔
یہ ایک ایسا سفر ہے جس کی مشکلات کبھی ختم نہیں ہوتیں ہاں کم ضرور ہو سکتی ہیں ایک ایسا راستہ جس پر آپ کو اکثر اکیلے ہی چلنا پڑتا ہے۔ ایک ایسا سفر جو بعض اوقات اندھیرے، گھٹن، تنہائی اور بے بسی سے بھر جاتا ہے۔
ہم ہمیشہ اس بارے میں بات کرتے ہیں کہ آٹزم یا دیگر خصوصی ضروریات رکھنے والے بچے کن مشکلات سے گزرتے ہیں، لیکن ہم بہت کم اس بارے میں بات کرتے ہیں کہ ان بچوں کی مائیں کن آزمائشوں سے گزرتی ہیں۔
میں پچھلے پندرہ سالوں سے اس سفر کے بارے میں لکھ رہی ہوں اور مجھے اسپیشل نیڈز بچوں ماؤں کے بہت پیغامات ملتے ہیں۔۔
یہ چند عام خیالات اور احساسات ہیں جو آٹزم اور دیگر خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کی ماؤں نے میرے ساتھ شیئر کیے۔ میں ان کا نام ظاہر کیے بغیر ان کو آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتی ہوں ان کا مقصد عام لوگوں کو صرف یہ احساس دلانا ہے کہ ایک ماں کی ذہنی اور جسمانی صحت کس حد تک متاثر ہو سکتی ہے۔
ایک ماں نے مجھ سے کہا:
میری خواہش ہے کہ میری اور میرے آٹسٹک بیٹے کی موت ایک ساتھ اور فطری طور پر ہو جائے، کیونکہ میں اس مسلسل خوف کے ساتھ نہیں جی سکتی کہ ایک دن میں اسے اس بے رحم دنیا میں اکیلا چھوڑ جاؤں گی۔ ایک ایسی دنیا جہاں جانور، درخت، پودے اور فطرت میرے آٹسٹک بیٹے کے ساتھ ان لوگوں سے زیادہ مہربان ہیں جنہیں اس کا اپنا کہنا چاہیے۔
ایک اور ماں نے کہا:
میرے اعصاب سن ہو چکے ہیں، میرے جسم پر نیل پڑے ہوئے ہیں، اور جب میرے بچے کو غصہ آتا ہے تو میرا پورا جسم درد سے بھر جاتا ہے۔ وہ اٹھارہ سال کا ہے۔ میرے پاس باہر سے مدد لینے کے وسائل نہیں ہیں۔ وہ جوں جوں بڑا ہو رہا ہے، جسمانی طور پر مجھ سے زیادہ طاقتور ہوتا جا رہا ہے، جبکہ میرا جسم کمزور ہو رہا ہے۔ میں تھک چکی ہوں، ٹوٹ چکی ہوں اور تنہائی کا شکار ہوں۔
ایک اور ماں نے کہا:
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میں اپنے بچے کے آٹزم سے زیادہ اپنی ذہنی صحت سے لڑ رہی ہوں۔ لوگ ہمیشہ مجھ سے میرے بیٹے کے آٹزم کے بارے میں بات کرتے ہیں، لیکن کوئی مجھ سے یہ نہیں پوچھتا کہ میں کیسی ہوں۔ چودہ سال ہو گئے ہیں مجھے رات بھر سکون سے سوئے ہوئے، کیونکہ میرے بیٹے کو نیند کے شدید مسائل ہیں۔ اب پہلے کی طرح اس کا خیال نہ رکھنے کا احساسِ جرم مجھے اندر ہی اندر کھا رہا ہے۔
جب میں اسپیشل نیڈز بچوں کے والدین سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ اپنی شریکِ حیات کے لیے زیادہ معاون اور ہمدرد بنیں، تو اس کی وجہ یہی تلخ حقیقت ہے۔ ایک مرد کے لیے بعض اوقات بیوی اور بچے کو چھوڑ کر نئی زندگی شروع کرنا آسان ہو سکتا ہے، لیکن ایک ماں کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
اسے موردِ الزام مت ٹھہرائیے، کیونکہ

یہ اس کی غلطی نہیں ہے۔
یہ آپ دونوں کا امتحان ہے، اور جس طرح یہ بچہ اس کا ہے، اسی طرح آپ کا بھی ہے۔
ایک سنگل مدر جسے بچے کی تشخیص کے بعد اس کے شوہر نے چھوڑ دیا، اس نے مجھ سے کہا:
اکیلی ماں ہونے کے ناطے مالی خودمختاری حاصل کرنا بھی ایک جدوجہد ہے۔ کئی سالوں سے میری نیند صرف دو یا تین گھنٹے تک محدود ہے۔ جب میرا بیٹا سوتا ہے تو میں کام کرتی ہوں، اور جب وہ جاگتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتی ہوں۔ آہستہ آہستہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اندھیرا مجھے اپنے اندر نگل رہا ہو۔ مجھے روشنی کہیں نظر نہیں آتی، صرف اندھیرا دکھائی دیتا ہے۔
ایک اور ماں نے کہا:
میں یہ سب کسی سے نہیں کہتی۔ لوگ مجھ سے توقع کرتے ہیں کہ میں ایک مضبوط اور ناقابلِ شکست عورت بنوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں بھی کمزور پڑ جاتی ہوں۔ میں بھی انسان ہوں۔ جب میرا بچہ مسلسل چھ گھنٹے تک بغیر رکے شدید غصے میں رہتا ہے تو میں بالکل نڈھال ہو جاتی ہوں۔ کوئی نہیں سمجھتا کہ ہم کس کرب سے گزرتے ہیں۔
ایک ماں نے کہا:
میں ہر رات اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہوں کہ میرے لیے آسانی پیدا فرما دے۔ میں خود کو تنہا، جذباتی طور پر ٹوٹا ہوا اور جسمانی طور پر بے حد تھکا ہوا محسوس کرتی ہوں۔ میرے جسم کا ایک ایک حصہ درد کرتا ہے۔ میرے بیٹے کی پیدائش کے بعد سے مجھے رات کی نیند نصیب نہیں ہوئی۔ کبھی دل چاہتا ہے سب کچھ چھوڑ کر کہیں بھاگ جاؤں، لیکن انسان اپنے ہی بچے سے بھلا کہاں بھاگ سکتا ہے؟ کوئی ایسا نہیں جو بغیر کسی فیصلے اور تنقید کے ہماری بات سن لے۔
ایک اور ماں نے کہا:
میں چوبیس گھنٹے مسلسل فکرمندی اور الرٹ رہنے کی حالت میں رہتی ہوں۔ میں ذہنی اور جسمانی طور پر ہر وقت تیار رہتے رہتے تھک چکی ہوں۔ میرا بچہ بہت معصوم ہے، اسے خطرے کا احساس نہیں۔ وہ میرے بغیر کھا پی بھی نہیں سکتا۔ وہ کبھی اسکول نہیں جا سکا۔ میں تھراپیز کا خرچ بھی برداشت نہیں کر سکتی۔ میں اس کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہوں لیکن بعض اوقات ذہنی طور پر اتنی تھک جاتی ہوں کہ کچھ کرنے کی ہمت نہیں رہتی۔ پھر مجھے احساسِ جرم گھیر لیتا ہے کہ شاید میں اچھی ماں نہیں ہوں یا میں اپنے بچے کو بہترین سہولیات فراہم نہیں کر سکی۔
ایک اور ماں نے کہا:
میرا بیٹا سولہ سال کا ہے۔ وہ مجھ سے لمبا اور زیادہ طاقتور ہو چکا ہے جبکہ میں کمزور ہوتی جا رہی ہوں۔ بعض اوقات میں خود سے سوال کرتی ہوں: آخر کیوں؟ کیوں میں؟ کیوں مجھے ایک عام اور صحت مند بچہ نصیب نہیں ہوا جیسے میرے اردگرد کے لوگوں کو ہوا؟ آٹزم کوئی تحفہ نہیں ہے۔ اس نے میرے بیٹے کی زندگی کو مشکل بنایا ہے اور ہمارے پورے خاندان کی زندگی کو بھی متاثر کیا ہے۔ میرا بیٹا نہ اپنی بات بیان کر سکتا ہے، نہ اپنے جذبات کا اظہار کر سکتا ہے، نہ اسکول جا سکا، کیونکہ اُس وقت آٹزم اور دیگر معذوریوں کے بارے میں نہ آگاہی تھی اور نہ مواقع۔
اور یہ فہرست ختم ہونے والی نہیں۔
یہ صرف چند احساسات ہیں جو میں یہاں بیان کر سکی ہوں۔ بہت سے ایسے درد اور خیالات بھی ہیں جنہیں الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
یہ تمام خیالات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آٹزم اور دیگر خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کی ماؤں کی ذہنی صحت کس حد تک متاثر ہو سکتی ہے۔
سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کرتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ ہم انہیں سنیں، سمجھیں اور ان کے ساتھ مہربانی اور ہمدردی کا رویہ اختیار کریں۔
براہِ کرم انہیں صرف یہ مت کہیے کہ مضبوط بنو، مثبت سوچو، اپنی نعمتوں کو دیکھو یا دوسروں کے حالات تم سے زیادہ خراب ہیں۔
تکلیفوں کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔
ہر انسان اپنی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔
آٹزم اور دیگر خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کی مائیں ایک ایسی جنگ لڑتی ہیں جو اکثر دوسروں کو نظر نہیں آتی۔ ایک ایسی جدوجہد جو مسلسل جاری رہتی ہے، جو زندگی بھر ساتھ چلتی ہے، اور جس کے بہت سے پہلوؤں کا کوئی آسان حل موجود نہیں ہوتا۔
میری پیاری اسپیشل نیڈز ماؤں!
آپ اہم ہیں۔
آپ کی جدوجہد اگرچہ دوسروں کو نظر نہیں آتی، لیکن وہ حقیقی ہے۔
آپ کی تھکن حقیقی ہے۔
آپ کے آنسو حقیقی ہیں۔
آپ کی قربانیاں حقیقی ہیں۔
اور یقین کیجیے، آپ اپنے بچے کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہی ہیں۔
اور یہی سب سے زیادہ اہم بات ہے۔
سب سے زیادہ اہم۔