سیدہ اُم عمار

سیدہ سمّیہ ام عمار


اسلام میں مسلمانوں کو ایک بلند اور مضبوط دیوار سے تشبیہ دی گئی ہے جس کی اینٹ دراصل امت کے افراد مرد اور عورتیں ہیں ظاہر ہے کہ دیوار کی مضبوطی اور پائیداری کے لیے ہر اینٹ کو مضبوط اور باہم مربوط ہونا چاہیے دوسری صورت میں وہ کمزور ہوگی تو کسی وقت بھی زمین بوس ہو جائے گی امت کو بھی اسی طرح مضبوط روحانی رشتے سے مربوط ہونا چاہیے تاکہ کوئی واقعہ اس کو ہلا نہ سکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمثیل کی زبان میں امت مسلمہ کو وحدت اور باہمی تعلقات اور ارتباط کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔

المؤمن للمؤمن کالبنیان یشد بعضہ بعضا
(صیح بخاری کتاب الآداب )
مومن مرد اور عورتیں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ہیں ان سے ہر ایک کو دوسرے سے تقویت پہنچتی ہے
سرکار دو عالم کے جہاں بے شمار صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ اسلام کی خدمت کے لیے اور دین سیکھنے کے لیے ہر وقت آپ کے ہم نشین رہتے تھے مومنہ خواتین بھی ان صحابہ سے پیچھے نہیں رہتیں ان کے اندر بھی وہی جذبے تھے یعنی دین کی خدمت کا جذبہ اسلامی تعلیمات حاصل کرنے کا شوق جہاد کا شوق یعنی وہ کسی طرح بھی صحابہ سے پیچھے نہیں رہنا چاہتی تھیں ان مومن خواتین کو صحابیات کا درجہ ملا اس لیے کہ انہوں نے بھی سرکار دو عالم کی زندگی میں ہی مشرف با اسلام ہونے کا اعزاز حاصل کیا اور دین کی تعلیمات بھی سرکار سے ہی حاصل کیں ان صحابیات میں سے کچھ عظیم مومنات کو ام المومنین کا درجہ حاصل ہوا جو ہمارے لیے مشعل راہ ہیں لیکن صحابیات کے کارنامے اور ان کی پوری عملی زندگی جن کا مقصد اسلام کو فروغ دینا شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنا یہاں تک کہ صحابہ کے ساتھ جنگوں میں بھی شریک ہونا اور اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر دشمن سے مقابلہ کرنا اور جنت حاصل کرنے کا شوق ہونا یہ سب ہمارے لیے بیش بہا خزانے ہیں ،مشعل راہ ہیں انہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن کی آیات کے مطابق گزاری سورہ نحل آیت نمبر 97 میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے ۔
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیثوں میں ان صحابیات کے نام ان کی خدمات کے ساتھ ذکر کیے گئے ہیں ۔
سیدہ سمیہ ام عمار پہلی شہید اسلام
اسلام قبول کرنے میں سبقت کرنے والی مومنات صالحات میں ایک سیدہ سمیّہ ام عمار بھی تھیں یہ اپنی بیٹے حضرت عماررضی اللہ تعالی عنہ اور اپنے خاوند سیدنا یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کی طرح قسم قسم کی تکلیفیں اور مشقت برداشت کرتی تھیں مگر اسلام کی سچی محبت جو دل میں گھر کر چکی تھی اس میں ذرا بھی فرق نہ آتا تھا ان کو دوپہر کی چل چلاتی دھوپ میں جب حرارت اپنی انتہا پر ہوتی اور گرم ریت کی آندھیاں چل رہی ہوتیں اس وقت ان کو اور ان کے صاحبزادے عمار رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے شوہر سیدنا یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کو بنو مخزوم باہر دھوپ میں لے جاتے اور ان پر گرم گرم ریت کے پتھر ڈالتے اس ناقابل برداشت اذیت رسانی کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا جب تک ان کے شوہر اور ان کے صاحبزادے تکلیف سے بلبلا کر مشرکین کے ہاں میں ہاں نہ ملاتے اور ظاہر ہے یہ بات ناپسندیدگی کے باوجود تکلیف کی تاب نہ لانے کی وجہ سے ان کی زبان سے نکلتی تھی اس لیے اللہ تعالی نے ان کے بارے میں اور ان جیسے مومنین کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی جس میں اللہ تعالی نے حالت اضطراب میں کلمہ کفر منہ سے نکل جانے پر مواخذہ نہ کرنے کی یقین دہانی فرمائی
مَن كَفَرَ بِاللَّهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ وَلَٰكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
(سورہ نحل آیت نمبر106 )
ترجمہ : جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور دل اس کا ایمان پر مطمئن ہو (تب تو خیر) مگر جس نے دل کی رضا مندی سے کفر کو قبول کر لیا اس پر اللہ کا غضب ہے اور ایسے سب لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے

لیکن حضرت سمیّہ ام عمار نے بے مثال صبر کا مظاہرہ کیا اور اس بات کو منہ سے نکالنے سے انکار کر دیا جو مشرکین سننا چاہتے تھے ایک دن اسی طرح گرمی کی سخت دوپہر میں انہیں لوہے کی زرہ پہنا کر دھوپ میں کھڑا کیا گیا تاکہ دھوپ سے لوہا تپنے لگے اور اس کی گرمی سے تکلیف میں زیادتی ہو ادھر سے ابوجہل کا گزر ہوا اس نے حضرت ام عمار کو برا بھلا کہا اور غصے میں نیزے سے حملہ کیا اور ان کی روح پرواز کر گئی تاریخ نے ہمیشہ کے لیے ان کا نام سنہرے حرفوں میں پہلی شہید اسلام کی حیثیت سے اپنے اوراق میں محفوظ کر لیا ۔
سیدہ سمّیہ رضی اللہ تعالی عنہا ان بہادر صحابیات میں سے ہیں جن کے کارنامے ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں جنہوں نے مشرف با اسلام ہونے کے بعد اپنی پوری زندگی زمانہ کفر میں رہتے ہوئے بھی بے انتہا صبر و تحمل اور بڑی جرات و بہادری اور استقامت کے ساتھ گزاری اور اللہ کی خوشنودی اور اس کا کلمہ بلند کرنے کے لیے نہایت خوشدلی سے ساری تکلیفیں برداشت کیں اور اپنی زندگی کی حفاظت کے لیے زبان سے کفریہ کلمات نہیں نکالے ان کا دینی شعور پختہ اور وسیع تھا آج بھی مسلم خواتین ان واقعات میں اپنے لیے قابل قدر نمونہ اور تقلید اور عمدہ مثالیں ڈھونڈ سکتی ہیں جن کی روشنی میں وہ ایک مثالی اسلامی عورت کا کردار ادا کر سکتی ہیں اور اپنی شناخت قائم کر سکتی ہیں اللہ کے دین کی تبلیغ اور ترقی میں جو بھی مشکلات پیش آتی ہیں ان پر جرات کے ساتھ صبر کرنا ہی مومنوں اور مومنات کی شان ہے۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ ہمارے ایمان کو ہمیشہ مضبوط رکھے اور ہمیں بھی ان بہادر صحابیات کی انمول زندگی سے کچھ جواہرات اور موتی سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔