سیدہ اُم عمار

سیدہ اُم عمار 

رضوانہ صدىقى  – مىرى لىنڈ 

 

اسلام مىں مسلمانوں کو اىک بلند اور مضبوط دىوار سے تشبىہ دى گئى ہے جس کى اىنٹ دراصل امت کے افراد مرد اور عورتىں ہىں ظاہر ہے کہ دىوار کى مضبوطى اور پائىدارى کے لىے ہر اىنٹ کو مضبوط اور باہم مربوط ہونا چاہىے دوسرى صورت مىں وہ کمزور ہوگى تو کسى وقت بھى زمىن بوس ہو جائے گى امت کو بھى اسى طرح مضبوط روحانى رشتے سے مربوط ہونا چاہىے تاکہ کوئى واقعہ اس کو ہلا نہ سکے رسول صلى اللہ علىہ وسلم نے تمثىل کى زبان مىں امت مسلمہ کو وحدت اور باہمى تعلقات اور ارتباط کو ان الفاظ مىں بىان فرماىا ہے۔

 المؤمن للمؤمن کالبنىان ىشد بعضہ بعضا 
(صىح بخارى کتاب الآداب )

مومن مرد اور عورتىں سىسہ پلائى ہوئى دىوار کى مانند ہىں ان سے ہر اىک کو دوسرے سے تقوىت پہنچتى ہے

 سرکار دو عالم کے جہاں بے شمار صحابہ رضى اللہ تعالى عنہ اسلام کى خدمت کے لىے اور دىن سىکھنے کے لىے ہر وقت آپ کے ہم نشىن رہتے تھے مومنہ خواتىن بھى ان صحابہ سے پىچھے نہىں رہتىں ان کے اندر بھى وہى جذبے تھے ىعنى دىن کى خدمت کا جذبہ اسلامى تعلىمات حاصل کرنے کا شوق جہاد کا شوق ىعنى وہ کسى طرح بھى صحابہ سے پىچھے نہىں رہنا چاہتى تھىں ان مومن خواتىن کو صحابىات کا درجہ ملا اس لىے کہ انہوں نے بھى سرکار دو عالم کى زندگى مىں ہى مشرف با اسلام ہونے کا اعزاز حاصل کىا اور دىن کى تعلىمات بھى سرکار سے ہى حاصل کىں ان صحابىات مىں سے کچھ عظىم مومنات کو ام المومنىن کا درجہ حاصل ہوا جو ہمارے لىے مشعل راہ ہىں لىکن صحابىات کے کارنامے اور ان کى پورى عملى زندگى جن کا مقصد اسلام کو فروغ دىنا شرىعت کے مطابق زندگى بسر کرنا ىہاں تک کہ صحابہ کے ساتھ جنگوں مىں بھى شرىک ہونا اور اپنى جان کى پرواہ کىے بغىر دشمن سے مقابلہ کرنا اور جنت حاصل کرنے کا شوق ہونا ىہ سب ہمارے لىے بىش بہا خزانے ہىں ،مشعل راہ ہىں انہوں نے اپنى پورى زندگى قرآن کى آىات کے مطابق گزارى سورہ نحل آىت نمبر 97 مىں اللہ تعالى کا ارشاد ہے  ۔
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ 

جو شخص نىک عمل کرے مرد ہو ىا عورت، لىکن بااىمان ہو تو ہم اسے ىقىناً نہاىت بہتر زندگى عطا فرمائىں گے۔ اور ان کے نىک اعمال کا بہتر بدلہ بھى انہىں ضرور ضرور دىں گے

صحىح بخارى اور صحىح مسلم کى حدىثوں مىں ان صحابىات کے نام ان کى خدمات کے ساتھ ذکر کىے گئے ہىں ۔

سىدہ سمىہ ام عمار پہلى شہىد اسلام 

اسلام قبول کرنے مىں سبقت کرنے والى مومنات صالحات مىں اىک سىدہ سمىّہ ام عمار بھى تھىں ىہ اپنى بىٹے حضرت عماررضى اللہ تعالى عنہ اور اپنے خاوند سىدنا ىاسر رضى اللہ تعالى عنہ کى طرح قسم قسم کى تکلىفىں اور مشقت برداشت کرتى تھىں مگر اسلام کى سچى محبت جو دل مىں گھر کر چکى تھى اس مىں ذرا بھى فرق نہ آتا تھا ان کو دوپہر کى چل چلاتى دھوپ مىں جب حرارت اپنى انتہا پر ہوتى اور گرم رىت کى آندھىاں چل رہى ہوتىں اس وقت ان کو اور ان کے صاحبزادے عمار رضى اللہ تعالى عنہ اور ان کے شوہر سىدنا ىاسر رضى اللہ تعالى عنہ کو بنو مخزوم باہر دھوپ مىں لے جاتے اور ان پر گرم گرم رىت کے پتھر ڈالتے اس ناقابل برداشت اذىت رسانى کا سلسلہ اس وقت تک جارى رہتا جب تک ان کے شوہر اور ان کے صاحبزادے تکلىف سے بلبلا کر مشرکىن کے ہاں مىں ہاں نہ ملاتے اور ظاہر ہے ىہ بات ناپسندىدگى کے باوجود تکلىف کى تاب نہ لانے کى وجہ سے ان کى زبان سے نکلتى تھى اس لىے اللہ تعالى نے ان کے بارے مىں اور ان جىسے مومنىن کے بارے مىں ىہ آىت نازل فرمائى جس مىں اللہ تعالى نے حالت اضطراب مىں کلمہ کفر منہ سے نکل جانے پر مواخذہ نہ کرنے کى ىقىن دہانى فرمائى 

مَن كَفَرَ بِاللَّهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ وَلَٰكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
  (سورہ نحل آىت نمبر106 )

ترجمہ : جو شخص اىمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کىا گىا ہو اور دل اس کا اىمان پر مطمئن ہو (تب تو خىر) مگر جس نے دل کى رضا مندى سے کفر کو قبول کر لىا اس پر اللہ کا غضب ہے اور اىسے سب لوگوں کے لىے بڑا عذاب ہے

 

لىکن حضرت سمىّہ ام عمار نے بے مثال صبر کا مظاہرہ کىا اور اس بات کو منہ سے نکالنے سے انکار کر دىا جو مشرکىن سننا چاہتے تھے اىک دن اسى طرح گرمى کى سخت دوپہر مىں انہىں لوہے کى زرہ پہنا کر دھوپ مىں کھڑا کىا گىا تاکہ دھوپ سے لوہا تپنے لگے اور اس کى گرمى سے تکلىف مىں زىادتى ہو ادھر سے ابوجہل کا گزر ہوا اس نے حضرت ام عمار کو برا بھلا کہا اور غصے مىں نىزے سے حملہ کىا اور ان کى روح پرواز کر گئى تارىخ نے ہمىشہ کے لىے ان کا نام سنہرے حرفوں مىں پہلى شہىد اسلام کى حىثىت سے اپنے اوراق مىں محفوظ کر لىا ۔

سىدہ سمّىہ رضى اللہ تعالى عنہا ان بہادر صحابىات مىں سے ہىں جن کے کارنامے ہمارے لىے بہترىن نمونہ ہىں جنہوں نے مشرف با اسلام ہونے کے بعد اپنى پورى زندگى زمانہ کفر مىں رہتے ہوئے بھى بے انتہا صبر و تحمل اور بڑى جرات و بہادرى اور استقامت کے ساتھ گزارى اور اللہ کى خوشنودى اور اس کا کلمہ بلند کرنے کے لىے نہاىت خوشدلى سے سارى تکلىفىں برداشت کىں اور اپنى زندگى کى حفاظت کے لىے زبان سے کفرىہ کلمات نہىں نکالے ان کا دىنى شعور پختہ اور وسىع تھا آج بھى مسلم خواتىن ان واقعات مىں اپنے لىے قابل قدر نمونہ اور تقلىد اور عمدہ مثالىں ڈھونڈ سکتى ہىں جن کى روشنى مىں وہ اىک مثالى اسلامى عورت کا کردار ادا کر سکتى ہىں اور اپنى شناخت قائم کر سکتى ہىں اللہ کے دىن کى تبلىغ اور ترقى مىں جو بھى مشکلات پىش آتى ہىں ان پر جرات کے ساتھ صبر کرنا ہى مومنوں اور مومنات کى شان ہے۔

 اللہ تعالى سے دعا ہے کہ اللہ ہمارے اىمان کو ہمىشہ مضبوط رکھے اور ہمىں بھى ان بہادر صحابىات کى انمول زندگى سے کچھ جواہرات اور موتى سمىٹنے کى توفىق عطا فرمائے آمىن۔