دھند کےاُس پار

 

شام کی زرد روشنی کھڑکی کے پردوں سے چھن چھن کر کمرے میں اتر رہی تھی۔کمرے کے ایک کونے میں رکھی پرانی جھولنے والی کرسی پر اماں بیٹھی تھیں۔ ان کی گود میں نیلے رنگ کی اونی شال رکھی تھی اور نگاہیں کھڑکی سے باہر نیم کے درخت پر جمی تھیں۔
درخت پر بیٹھے پرندے اپنے اپنے گھونسلوں کو لوٹ رہے تھے مگر اماں شاید کسی اور زمانے کے پرندوں کو دیکھ رہی تھیں۔
کسی اور آسمان کو۔
کسی اور شام کو۔
صدف!” انہوں نے اچانک پکارا۔
باورچی خانے میں چائے بناتی شفا چونک گئی۔
جی اماں؟
امی ابھی تک کھیتوں سے واپس نہیں آئیں؟

شفا نے آنکھیں بند کر لیں۔وہ جانتی تھی، یہ سوال آج کا نہیں تھا۔ستر برس پرانا تھا۔
وہ ماں جس کا انتظار اماں کر رہی تھیں، انہیں قبر کی مٹی میں سوئے ہوئے نصف صدی گزر چکی تھی۔مگر ڈیمینشیا نے وقت کی کتاب کے سارے ورق بکھیر دیے تھے۔اب اماں کے لیے ماضی حال تھا اور حال کسی انجانی دھند میں کھو چکا تھا۔شفا ان کے پاس آئی اور فرش پر بیٹھ گئی۔
آ جائیں گی اماں۔
اماں مطمئن ہو گئیں۔جیسے بچپن کی کسی دہلیز پر بیٹھا ایک ننھا دل ماں کے قدموں کی چاپ سننے لگا ہو۔شفا نے ان کے چہرے کو دیکھا۔یہی چہرہ کبھی اس کے لیے پوری کائنات ہوا کرتا تھا۔
یہی آنکھیں رات بھر جاگ کر اس کے بخار پر پہرے دیتی تھیں۔یہی ہاتھ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے دعائیں دیتے تھے۔
اور آج۔۔،
آج وہی آنکھیں اسے پہچاننے سے قاصر تھیں۔
وقت کتنا بے رحم مصور ہے۔وہ چہروں کے خدوخال ہی نہیں، یادوں کے نقش بھی مٹا دیتا ہے۔
رات گہری ہوئی تو اماں اپنے کمرے سے نکل آئیں۔ہاتھ میں پرانا سا پرس تھا۔
مجھے جانا ہے۔
کہاں؟
میرے بچے گھر میں اکیلے ہیں۔
شفا کے ہونٹ کانپ گئے۔وہ بچے، جن کی فکر اماں کو تھی، اب خود بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑے تھے۔مگر ان کے ذہن میں وہ اب بھی چھوٹے چھوٹے وجود تھے۔شفا نے نرمی سے ان کا ہاتھ تھام لیا۔
سب ٹھیک ہیں اماں۔
اماں نے حیرت سے اسے دیکھا۔
تمہیں کیسے پتا؟
شفا کے اندر کہیں کوئی چیز ٹوٹ کر بکھر گئی۔لیکن وہ مسکرا دی۔کبھی کبھی محبت کا دوسرا نام خاموشی ہوتا ہے۔اور تیسرا قربانی۔
اس رات بارش ہوئی بہت دیر تک ۔کھڑکیوں کے شیشوں پر پانی کی بوندیں یوں پھسل رہی تھیں جیسے آسمان کسی ان دیکھے غم پر رو رہا ہو۔شفا اماں کے سرہانے بیٹھی تھی۔اماں سو رہی تھیں۔نیند میں بھی ان کے ہونٹ ہل رہے تھے۔شاید کسی کا نام لے رہی تھیں۔
شاید اپنی ماں کا۔
شاید اپنے باپ کا۔
شاید ان لوگوں کا جو اس دنیا سے جا چکے تھے مگر ان کی یادوں کی بستی میں آج بھی آباد تھے۔
اچانک اماں کی آنکھ کھل گئی۔انہوں نے شفا کو بہت غور سے دیکھا۔اس طرح جیسے دھند میں لپٹے کسی راستے پر اچانک سورج کی ایک کرن اتر آئی ہو۔
شفا؟
شفا کا دل زور سے دھڑکا۔مہینوں بعد اماں نے اس کا نام لیا تھا۔اصلی اور درست نام۔وہ نام جو شاید اب ان کے حافظے کے کسی آخری کونے میں چراغ کی طرح جل رہا تھا۔
جی اماں۔۔
اس کی آواز لرز گئی۔اماں کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
“اللہ تم سے راضی ہو۔”
بس اتنا ہی کہا اورپھر منہ دوسری طرف کر لیا۔
شفاکا دل بھر آیا۔اس نے محسوس کیا جیسے ساری عمر کی خدمت کا صلہ ایک جملے میں مل گیا ہو۔
بس اتنے سے جملے نے برسوں کا بند توڑ دیا۔شفا نے سر ان کی گود میں رکھ دیا۔آنسو خاموشی سے بہتے رہے۔اماں اس کے بال سہلاتی رہیں۔بالکل ویسے ہی جیسے برسوں پہلے سہلایا کرتی تھیں۔چند لمحوں کے لیے وقت رک گیا۔بیماری ہار گئی۔دھند چھٹ گئی اور محبت جیت گئی۔پھر اچانک اماں کی نظریں بدل گئیں۔چہرے پر اجنبیت اتر آئی۔
بیٹی۔۔
انہوں نے دھیرے سے پوچھا۔
تم کون ہو؟
شفا نے سر اٹھایا۔ اس کی پلکیں بھیگی ہوئی تھیں۔مگر لبوں پر مسکراہٹ تھی۔ایک ایسی مسکراہٹ جو صرف محبت کرنے والوں کے ہونٹوں پر ہوتی ہے۔
میں شفا ہوں اماں۔
اور اس لمحے اسے یوں محسوس ہوا جیسے زمین و آسمان کے درمیان کوئی پوشیدہ راز اس پر منکشف ہو گیا ہو۔انسان یادداشت سے نہیں جیتا۔محبت سے جیتا ہے۔ورنہ دماغ تو ایک دن مٹی ہو جاتا ہے۔محبت نہیں۔اس رات اسے ایک عجیب بات سمجھ آئی۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے بوڑھے والدین کا سہارا بنتے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔وہ اپنی کمزور سانسوں، لرزتے ہاتھوں اور بھولی ہوئی یادوں کے باوجود ہمیں صبر سکھا رہے ہوتے ہیں۔محبت سکھا رہے ہوتے ہیں۔رضا سکھا رہے ہوتے ہیں۔

چند ہفتوں بعد اماں اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔اماں جب دنیا سے رخصت ہوئیں تو شفا کو یوں لگا جیسے گھر کا ایک کمرہ خالی نہیں ہوا، ایک زمانہ ختم ہو گیا ہے مگر پھر اسے خیال آیا۔۔
اللہ کے ہاں شاید کوئی یادداشت نہیں کھوتا۔
وہاں نہ کوئی ماں اپنی بیٹی کو بھولتی ہے، نہ کوئی بیٹی اپنی ماں کو۔وہاں سب نام محفوظ رہتے ہیں۔سب محبتیں بھی۔اور شاید جنت اسی جگہ کا نام ہے جہاں کوئی اپنے پیاروں سے دوبارہ پوچھنے پر مجبور نہ ہوکہ آپ کون ہیں؟
اس روز اسے پہلی بار سمجھ آیا کہ ڈیمینشیا یادوں کو تو چھین سکتا ہے، محبت کو نہیں۔کیونکہ محبت دماغ میں نہیں روح میں رہتی ہے اور روحیں کبھی بھولتی نہیں۔