دھند کےاُس پار

دھند کےاُس پار

شاہدہ ذبىع اللہ – ہىوسٹن

شام کى زرد روشنى کھڑکى کے پردوں سے چھن چھن کر کمرے مىں اتر رہى تھى۔کمرے کے اىک کونے مىں رکھى پرانى جھولنے والى کرسى پر اماں بىٹھى تھىں۔ ان کى گود مىں نىلے رنگ کى اونى شال رکھى تھى اور نگاہىں کھڑکى سے باہر نىم کے درخت پر جمى تھىں۔

درخت پر بىٹھے پرندے اپنے اپنے گھونسلوں کو لوٹ رہے تھے مگر اماں شاىد کسى اور زمانے کے پرندوں کو دىکھ رہى تھىں۔

کسى اور آسمان کو۔

کسى اور شام کو۔

    صدف!” انہوں نے اچانک پکارا۔

باورچى خانے مىں چائے بناتى شفا چونک گئى۔

   جى اماں؟

امى ابھى تک کھىتوں سے واپس نہىں آئىں؟

 

     شفا نے آنکھىں بند کر لىں۔وہ جانتى تھى، ىہ سوال آج کا نہىں تھا۔ستر برس پرانا تھا۔

وہ ماں جس کا انتظار اماں کر رہى تھىں، انہىں قبر کى مٹى مىں سوئے ہوئے نصف صدى گزر چکى تھى۔مگر ڈىمىنشىا نے وقت کى کتاب کے سارے ورق بکھىر دىے تھے۔اب اماں کے لىے ماضى حال تھا اور حال کسى انجانى دھند مىں کھو چکا تھا۔شفا ان کے پاس آئى اور فرش پر بىٹھ گئى۔

    آ جائىں گى اماں۔

اماں مطمئن ہو گئىں۔جىسے بچپن کى کسى دہلىز پر بىٹھا اىک ننھا دل ماں کے قدموں کى چاپ سننے لگا ہو۔شفا نے ان کے چہرے کو دىکھا۔ىہى چہرہ کبھى اس کے لىے پورى کائنات ہوا کرتا تھا۔

ىہى آنکھىں رات بھر جاگ کر اس کے بخار پر پہرے دىتى تھىں۔ىہى ہاتھ اس کے بالوں مىں انگلىاں پھىرتے ہوئے دعائىں دىتے تھے۔

اور آج۔۔،

آج وہى آنکھىں اسے پہچاننے سے قاصر تھىں۔

وقت کتنا بے رحم مصور ہے۔وہ چہروں کے خدوخال ہى نہىں، ىادوں کے نقش بھى مٹا دىتا ہے۔

رات گہرى ہوئى تو اماں اپنے کمرے سے نکل آئىں۔ہاتھ مىں پرانا سا پرس تھا۔

    مجھے جانا ہے۔

        کہاں؟

   مىرے بچے گھر مىں اکىلے ہىں۔

شفا کے ہونٹ کانپ گئے۔وہ بچے، جن کى فکر اماں کو تھى، اب خود بڑھاپے کى دہلىز پر کھڑے تھے۔مگر ان کے ذہن مىں وہ اب بھى چھوٹے چھوٹے وجود تھے۔شفا نے نرمى سے ان کا ہاتھ تھام لىا۔

    سب ٹھىک ہىں اماں۔

اماں نے حىرت سے اسے دىکھا۔

   تمہىں کىسے پتا؟

شفا کے اندر کہىں کوئى چىز ٹوٹ کر بکھر گئى۔لىکن وہ مسکرا دى۔کبھى کبھى محبت کا دوسرا نام خاموشى ہوتا ہے۔اور تىسرا قربانى۔

       اس رات بارش ہوئى بہت دىر تک  ۔کھڑکىوں کے شىشوں پر پانى کى بوندىں ىوں پھسل رہى تھىں جىسے آسمان کسى ان دىکھے غم پر رو رہا ہو۔شفا اماں کے سرہانے بىٹھى تھى۔اماں سو رہى تھىں۔نىند مىں بھى ان کے ہونٹ ہل رہے تھے۔شاىد کسى کا نام لے رہى تھىں۔

شاىد اپنى ماں کا۔

شاىد اپنے باپ کا۔

شاىد ان لوگوں کا جو اس دنىا سے جا چکے تھے مگر ان کى ىادوں کى بستى مىں آج بھى آباد تھے۔

اچانک اماں کى آنکھ کھل گئى۔انہوں نے شفا کو بہت غور سے دىکھا۔اس طرح جىسے دھند مىں لپٹے کسى راستے پر اچانک سورج کى اىک کرن اتر آئى ہو۔

   شفا؟

شفا کا دل زور سے دھڑکا۔مہىنوں بعد اماں نے اس کا نام لىا تھا۔اصلى اور  درست نام۔وہ نام جو شاىد اب ان کے حافظے کے کسى آخرى کونے مىں چراغ کى طرح جل رہا تھا۔

جى اماں۔۔

اس کى آواز لرز گئى۔اماں کى آنکھوں مىں نمى تىرنے لگى۔

“اللہ تم سے راضى ہو۔”

بس اتنا ہى کہا اورپھر منہ دوسرى طرف کر لىا۔

شفاکا دل بھر آىا۔اس نے محسوس کىا جىسے سارى عمر کى خدمت کا صلہ اىک جملے مىں مل گىا ہو۔

         بس اتنے سے جملے نے برسوں کا بند توڑ دىا۔شفا نے سر ان کى گود مىں رکھ دىا۔آنسو خاموشى سے بہتے رہے۔اماں اس کے بال سہلاتى رہىں۔بالکل وىسے ہى جىسے برسوں پہلے سہلاىا کرتى تھىں۔چند لمحوں کے لىے وقت رک گىا۔بىمارى ہار گئى۔دھند چھٹ گئى  اور محبت جىت گئى۔پھر اچانک اماں کى نظرىں بدل گئىں۔چہرے پر اجنبىت اتر آئى۔

   بىٹى۔۔

انہوں نے دھىرے سے پوچھا۔

     تم کون ہو؟

شفا نے سر اٹھاىا۔ اس کى پلکىں بھىگى ہوئى تھىں۔مگر لبوں پر مسکراہٹ تھى۔اىک اىسى مسکراہٹ جو صرف محبت کرنے والوں کے ہونٹوں پر ہوتى ہے۔

  مىں شفا ہوں اماں۔

اور اس لمحے اسے ىوں محسوس ہوا جىسے زمىن و آسمان کے درمىان کوئى پوشىدہ راز اس پر منکشف ہو گىا ہو۔انسان ىادداشت سے نہىں جىتا۔محبت سے جىتا ہے۔ورنہ دماغ تو اىک دن مٹى ہو جاتا ہے۔محبت نہىں۔اس رات اسے اىک عجىب بات سمجھ آئى۔ہم سمجھتے ہىں کہ ہم اپنے بوڑھے والدىن کا سہارا بنتے ہىں حالانکہ حقىقت اس کے برعکس ہے۔وہ اپنى کمزور سانسوں، لرزتے ہاتھوں اور بھولى ہوئى ىادوں کے باوجود ہمىں صبر سکھا رہے ہوتے ہىں۔محبت سکھا رہے ہوتے ہىں۔رضا سکھا رہے ہوتے ہىں۔

 

        چند ہفتوں بعد اماں اس دنىا سے رخصت ہو گئىں۔اماں جب دنىا سے رخصت ہوئىں تو شفا کو ىوں لگا جىسے گھر کا اىک کمرہ خالى نہىں ہوا، اىک زمانہ ختم ہو گىا ہے مگر پھر اسے خىال آىا۔۔

اللہ کے ہاں شاىد کوئى ىادداشت نہىں کھوتا۔

وہاں نہ کوئى ماں اپنى بىٹى کو بھولتى ہے، نہ کوئى بىٹى اپنى ماں کو۔وہاں سب نام محفوظ رہتے ہىں۔سب محبتىں بھى۔اور شاىد جنت اسى جگہ کا نام ہے جہاں کوئى اپنے پىاروں سے دوبارہ پوچھنے پر مجبور نہ ہوکہ    آپ کون ہىں؟

اس روز اسے پہلى بار سمجھ آىا کہ ڈىمىنشىا ىادوں کو تو چھىن سکتا ہے، محبت کو نہىں۔کىونکہ محبت دماغ مىں نہىں  روح مىں رہتى ہے  اور روحىں کبھى بھولتى نہىں۔