فتنوں کا دور اور امت مسلمہ پر اسکے اثرات

فتنوں کا دور اور امت مسلمہ پر اسکے اثرات

نمىرہ خان –    ورجىنىا

 

رسول اللہ صلى علىہ وسلم نے جىسے عبادات، معاملات، اخلاقىات اور حسنِ معاشرت سے متعلق تعلىم دى اسى طرح اپنى امت کو فتنوں سے بھى آگاہ فرماىا۔

 

فتنہ کسے کہتے ہىں :

کثرتِ مال، علم، اولاد اور آزمائش کو فتن کہتے ہىں۔ گمراہ کرنا اور گمراہ ہو جانا بھى فتنہ ہے۔  فتنوں سے مراد وہ حالات ہىں جن مىں دىن پر قائم رہنا مشکل ہو جائے، حق و باطل کا فرق دھندلا ہو جائے اور گناہ عام ہو جائىں، اىسے وقت مىں ہمارے پىارے نبى صلى اللہ علىہ وسلم نے اپنى امت کو واضح ہداىات فرمائى ہىں۔ ابو ہرىرہ رضى اللہ عنہ سے رواىت ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علىہ وسلم نے فرماىا” تارىک رات کے ٹکڑوں کى طرح فتنوں کے واقع ہونے سے پہلے تم نىک اعمال مىں جلدى کرو، جب صبح کو آدمى اىمان دار ہوگا اور شام کو کافر ہو جائے گا، شام کو اىمان دار ہوگا اور صبح کو کافر “  لوگ دىن کو دنىا کى خاطر فروخت کردىنگے۔

 

قرآن مجىد مىں فتنوں کے بارے مىں کئى آىات موجود ہىں

وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ

ترجمہ : فتنہ قتل سے بھى بڑا گناه ہے۔ (سورہ البقرہ  217)

وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَّا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنكُمْ خَاصَّةً ۖ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ‎

ترجمہ: اور اس فتنے سے بچو جو تم مىں سے صرف ظالموں ہى کو نہىں پہنچے گا۔ (سورہ انفال:25)

إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ

ترجمہ:  اور جان لو کہ تمہارے مال اور اولاد فتنہ (آزمائش) ہىں ۔

 (سورة التغابن:15)

إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا

ترجمہ : بىشک ہم نے زمىن کى چىزوں کو اسکے لىے زىنت بناىا تاکہ ہم انہىں آزمائىں کہ کون اچھے عمل کرتا ہے۔ (سورہ الکہف:7)

زمانہ آخىر کے فتنوں کے بارے مىں بہت سى احا دىث ہىں  ان مىں سے چند احادىث ىہ ہىں۔

رسول اللہ صلى اللہ علىہ وسلم نے فرماىا:  

قىامت کى نشانىوں مىں سے چند ىہ ہىں 

۱- علم اٹھا لىا جائے گا، جہالت پھىل جائے گى، شراب پى جائے گى اور زنا عام ہو جائے گا۔(صحىح البخارى 80)

 آدم علىہ اسلام سے لىکر قىامت تک دجال سے بڑا کوئى فتنہ نہىں(صحىح مسلم 29:46)

آپ صلى اللہ علىہ وسلم نے فرماىا: قىامت قائم نہ ہوگى جب تک ہرج نہ بڑھ جائے۔

صحابہ نے پوچھا ىا رسول اللہ ہرج کىا ہے؟ آپ نے فرماىا قتل قتل قتل۔ (صحىح البخارى 70)

موجودہ دور مىں انسان جن بڑے فتنوں کا سامنا کررہا ہے ان مىں اىمان، مال، علم اور اقتدار کے فتنے نماىاں ہىں جوکہ ہمارے اىمان، اخلاق اور معاشرے کو متاثر کررہے ہىں۔ 

 

اىمان کا فتنہ

 

اىمان کے فتنے سے مراد وہ حالات اور آزمائشىں ہىں جو مسمانوں کے عقىدے،کردار اور دىن پر اثر انداز ہوتے ہىں۔ آجکل مختلف طرح کے فتنے مسلمانوں پر اثر انداز ہو رہے ہىں۔

آجکل سوشل مىڈىا، غلط معلومات اور فکرى انتشار کى وجہ سے بہت سے لوگ شک و شبہات مىں مبتلا ہوتے جارہے ہىں ۔ 

 

دىنى کمزورى

دنىا کى محبت، مادہ پرستى اور دىن سے دورى کى وجہ سے اىمان کمزور ہورہا ہے۔ عبادات مىں سستى اور دىن کو صرف رسم سمجھنا عام ہوتا جارہا  ہے

 

فکرى اور اعتقادى فتنہ

سوشل مىڈىا اور مختلف نظرىات کى وجہ سے شکوک و شبہات پھىل رہے ہىں۔ بعض لوگ دىن کے بنىادى عقائد پر سوال اٹھاتے ہىں جس کى وجہ سے کم علم افراد متاثر ہو جاتے ہىں۔

 

 فرقہ وارىت

مسلمانوں کے درمىان اختلافات اور گروہ بندى اتحاد کو کمزور کررہى ہے۔حالانکہ قرآن اتحاد اور بھائى چارے کى تعلىم دىتا ہے۔ 

 

اخلاقى فتنے

بے حىائى، جھوٹ، دھوکہ اور حرام چىزوں کا عام ہونا بھى اىمان پر منفى اثرات ڈال رہا ہے۔

 

 ظلم و نا انصافى

دنىا کے مختلف حصوں مىں مسلمانوں پر ظلم وستم بھى اىک آزمائش ہے، جو کچھ لوگوں کے اىمان کو کمزور اور کچھ کے اىمان کو مضبوط بنا دىتے ہىں۔

 

مال کا فتنہ

 

مال کا فتنہ ىعنى دولت اور بنىادى آسائشوں کى محبت جب انسان کے دل پر غالب آجائے تو وہ اسکے اىمان اور کردار پر اثر ڈالتى ہے۔ 

آجکل مسلمانوں پر اسکے چند نماىاں اثرات ىہ ہىں ۔

 

دىن پر دنىا کو ترجىح دىنا:

لوگ نماز ، حلال و حرام اور دىنى ذمہ دارىوں کے مقابلے مىں کاروبار اور کمائى کو زىادہ اہمىت دىنے لگے ہىں حالانکہ قرآن مىں مال کو آزمائش قرار دىا گىا ہے۔

 

حلال وحرام کى پرواہ مىں کمى:

زىادہ منافع کى خواہش مىں بعض لوگ سود، دھوکہ ىا ناجائز طرىقوں کى طرف مائل ہوجاتے ہىں جس سے معاشرے مىں بے برکتى بڑھتى جارہى ہے۔

 

حسد اور مقابلہ بازى:

دولت کى نمائش سوشل مىڈىا کے ذرىعے بڑھ گئى ہے جس سے حسد، احساس کمترى اور غىر ضرورى مقابلہ بازى پىدا ہو رہى ہے۔

 

زکوۃ اور صدقے مىں کمى:

اسلام مىں مال کو پاک کرنے کے لىے زکوۃ اور صدقہ ضرورى ہىں، مگر دنىا کى محبت انسان کو بخل کى طرف مائل کرتى ہے۔

رشتوں مىں خرابى:

وراثت اور کاروبارى معاملات مىں جھگڑے عام ہو گئے ہىں جس سے خاندانوں مىں دورىاں پىدا ہو رہى ہىں۔

رسول اللہ صلى اللہ علىہ وسلم نے فرماىا ”ہر امت کا اىک فتنہ ہوتا ہے اور اس امت کا فتنہ مال ہے “اسى لىے ہمىں توازن اختىار کرنا چاہىے ،  مال کمائىں مگر حلال طرىقے سے اور اسے اللہ کى رضا کےلىے بھى خرچ کرىں۔

آج کے دور مىں دولت کو کامىابى کا معىار سمجھ لىا گىا ہے حلال و حرام مىں تمىز کم ہو گئى ہے، جائىداد اور کاروبار انسانوں مىں خود اعتمادى کى جگہ خود پرستى پىدا کررہے ہىں۔

سورہ کہف سے مثال :

دوباغوں والےقصہ مىں جس شخص نے اپنى دولت پر غرور کىا اور آخرت کا انکار کىا نتىجتاً اسکا مال تباہ ہوگىا۔

 

علم کا فتنہ

علم کا فتنہ اس وقت پىدا ہوتاہے جب علم ہداىت اور عاجزى کے بجائے غرور، گمراہى ىا دىن مىں بگاڑ کا سبب بن جائے۔ آجکل ىہ فتنہ مختلف طرىقوں سے  مسلمانوں پر اثر انداز ہو رہا ہے-

 

ادھورا علم

سوشل مىڈىا اور انٹر نىٹ کى وجہ سے لوگ چند وىڈىوز ىا پوسٹس  دىکھ کر خود کو عالم سمجھنے لگتے ہىں بغىرتحقىق کے آگے شئىر کرنے لگتے ہىں جوکہ گمراہى کا باعث بنتى ہىں۔

حدىث مىں آىا ہے کہ آخرى وقت مىں علم اٹھا لىا جائے گا اور جہالت پھىل جائے گى (صحىح البخارى ۱۰۰)

آجکل معلومات بہت ہىں مگر صحىح دىنى علم اور حکمت کم ہوتى جا رہى ہے 

 

علم کے ساتھ تکبر

جو علم انسان مىں عاجزى کے بجائے غرور  پىدا کرے تو وہ انسان دوسروں کو حقىر سمجھنے لگتا ہے حالانکہ قرآن مىں بتاىاگىا ہے کہ اصل علم وہ ہے جو انسان مىں خشىتِ الٰہى پىدا کرے-

 

علم برائے شہرت

کچھ افراد دىن کا علم صرف شہرت حاصل کرنے ،بحث جىتنے اور فالوورز کے لىے حاصل کرتے ہىں نہ کہ اصلاح کے لىے ان کے قول وعمل مىں تضاد پاىا جاتا ہے۔

قرآن مىں حضرت موسىٰ علىہ السلام  اور حضرت خضر علىہ السلام کا واقعہ بتاتا ہے کہ ہر علم کے اوپر اىک اور بڑاعلم ہوتا ہے “بڑے علم سے مراد اللہ کى مشىت ہےاور انسان اپنى محدود عقل کے ساتھ اسکو سمجھنے سے قاصر ہے۔



اقتدار کا فتنہ

 

اقتدار انسان کو غرور،ظلم اور استحصال کى طرف لے جاتا ہے آج سىاسى اقتدار کى طاقت اور مىڈىاکى  پاور بڑے امتحان ہىں۔

 

غرور اور تکبر

اقتدار حاصل کرنے والے بعض لوگ اپنے مقام پر غرور کرتے ہىں اور دوسروں کى رائے ىا حقوق کو نظر انداز کرتے ہىں ىہ اخلاقى کمى اور معاشرتى نا انصافى کى وجہ بنتا ہے۔ طاقت کے نشے مىں بعض حکمران ىا اثر و رسوخ رکھنے والے افراد لوگوں کے حقوق پامال کرتے ہىں اس سے مظلومىت اور انتشار بڑھتا ہے۔

 

دىن اور قىادت کا تعلق

قرآن سے مثال: ذوالقرنىن کو عظىم اقتدار ملا لىکن انہوں نے اسے عدل اور خدمت کے لىے استعمال کىا۔

لىکن اقتدار کے نشے مىں بعض لوگ دىنى اصولوں کو نظر انداز کرتے ہىں ىا دىن کو اپنے سىاسى فائدے کے لىے استعمال کرتے ہىں۔

 

اسلام مىں اقتدار کو بھى اىک آزمائش سمجھا جاتا ہے، ہر قىادت اور طاقت اىک فتنہ ہوتى ہے اگر ىہ ذمہ دارى اور انصاف کے ساتھ استعمال نہ کى جائے۔

 

جس دور سے ہم گزر رہے ہىں اس دور مىں تقرىباً ىہ سارى چىزىں پائى جا رہى ہىں اسى لىے اس دور کو “ دورِ فتن“ کہا گىا ہے، اىک مسلمان ہونے کى حىثىت سے ہمارى ذمہ دارى بنتى ہے کہ ہم اىسے موقع پر رسول اللہ صلے اللہ علىہ وسلم کى تعلىمات کو اپنانے والے بنىں، اىسے وقت کے لىے ہى رسول اللہ نے اپنى امت کو واضح ہداىات فرمائىں۔

 

دىن پر مضبوطى سے قائم رہنا :

 رسول اللہ صلى اللہ علىہ وسلم نے فرماىا  “ فتنے کے زمانے مىں عبادت کرنا مىرى طرف ھجرت کرنے کے برابر ہے” ( صحىح مسلم:2848) جب معاشرہ انتشار کا شکار هوتو نماز، ذکر، تلاوت اور دعاؤں مىں اضافہ کرىں، قرآن کى تلاوت اور اسکو سمجھ کر عمل کرنے کى عادت اپنائىں۔

علمِ دىن حاصل کرنا:  دىن کا علم حاصل کرنا جہالت کو ختم کرکے حق و باطل کو الگ کرنا ہے۔

 

زبان و عمل کى حفاظت:  

فتنوں کے اس دور مىں بلا سوچے سمجھے باتوں کو نہ پھىلائىں الزام تراشى اور جھوٹ سے پرہىز کرىں۔رسول اللہ صلے اللہ علىہ وسلم نے فرماىا “ جو اللہ اور ىومِ آخرت پر ىقىن رکھتا ہے وہ بھلائى کى بات کرے ىا خاموش رہے۔

 

جماعت سے جڑے رہو۔

نبى کرىم صلى اللہ علىہ وسلم نے فرماىا  

“جماعت کو لازمى پکڑو اور تفرقے  سے بچو کىونکہ شىطان اکىلےا نسان کے ساتھ ہوتا ہے اور دو انسانوں سے دور ہوجاتا ہے”( جامع ترمذى)

 

اور فرماىا “ جو شخص جماعت سے اىک بالشت بھى الگ ہوا اس نے اسلام کى رسى اپنى گردن سے اتار دى” (سنن ابى داؤد )

 

صبر اور برداشت

 

فتنوں کے زمانے مىں صبر بہت بڑى عبادت ہے ظلم، آزمائش اور مشکلات مىں صبر کرنے والوں کے لىے بڑا اجر ہے، حضرت ابو موسى رضى اللہ فرماتے ہىں کہ نبى کرىم صلے اللہ علىہ وسلم نے فرماىا۔ فتنے کے دور مىں تم اپنى کمان توڑ دواور اس کى زروں کو کاٹ دو پھر اپنے گھروں کو لازمى پکڑ لو ( ىعنى فتنے مىں داخل نہ ہو) اور آدم عىلہ اسلام کے مقتول بىٹے کى طرح ہو جاؤ  (ترمذى: 2204) 

 

دعائىں کرتے رہنا

 

حضرت انس رضى اللہ عنہ سے رواىت ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علىہ وسلم ىوں دعا فرماتے تھے۔

 

مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ،وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ،وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ

ترجمہ: اے اللہ مىں آپکى پناہ مانگتا ہوں غم اور فکر سے، عاجزى اورسستى سے بخل و بزدلى سے، قرض کے بار سے اور لوگوں کے دباؤ سے۔

 

رسول اللہ صلى اللہ علىہ وسلم نے فرماىا کہ تشہد مىں چار چىزوں سے اللہ تعالىٰ کى پناہ ضرور طلب کرو

 

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أعوذ بك من المأثم والمغرم   

ترجمہ:  ’’اے اللہ! مىں قبر کے عذاب سے تىرى پنا ہ چاہتا ہوں اور مسىح دجال کے فتنے سے تىرى پناہ کا طالب ہوں، مىں زندگى اور موت کے فتنے سے تىرى پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ! مىں گناہ اور قرض (مىں پھنس جانے سے تىرى پناہ چاہتا ہوں۔)‘‘ 

(صحيح مسلم589)

 

فتنوں کا دور ہر زمانے مىں مختلف شکل مىں موجود رہا ہے لىکن نجات کا راستہ وہى ہے جو ہمارے نبى صلہ اللہ نے بتاىا ہے

 ہمارے اىمان کى حفاظت کا دار و مدار  فتنوں  سے بچتے ہوئے قران وسنت کى پىروى صبر تقوىٰ اوراللہ پر کامل بھروسہ پر ہے اور جب تک ہم نىکى کى راہ پر نہىں چلىں گے اس وقت تک فتنوں سے نہىں بچ سکتے، اللہ تعالىٰ سے دعا ہے کہ امت مسلمہ کو ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ فرمائے۔

 

اے اللہ ! ہم آپکى پناہ مانگتے ہىں ظاہر و باطن کے تمام فتنوں سے، اے اللہ امت مسلمہ کو انتشار، اختلاف اور گمراہى سے بچا، ہمىں حق کو حق سمجھ کر اس پر چلنے اور باطل کو باطل سمجھ کر اس سے بچنے کى توفىق عطا فرما، اے اللہ ہمارے دلوں مىں باہمى محبت اور اتحاد پىدا فرما اور ہمىں دىن پر ثابت قدم رکھ 

 

آمىن ىارب۔