حافِظُواعَلَى ٱلصَّلَوَٰتِ

 

حافِظُواعَلَى ٱلصَّلَوَٰتِ 

    راشدہ ہارون   –   نىوىارک 

 

  نماز محض اىک عبادت نہىں بلکہ زندگى کا مقصد اور روح کا سفر ہے۔  نماز وہ رشتہ ہے جو بندے کو اپنے رب سے جوڑتا ہےجو معراجِ مومن ہے اور جو اللہ کى قربت کا دروازہ کھولتى ہے۔ىہ وہ لمحات ہىں جب انسان اپنے رب سے ہمکلام ہوتا ہے۔ معراج کے موقع پر  جو قربت الٰہىِ نبى کرىم صلے اللہ علىہ وسلم کو عطا ہوئى وہ قربت نماز کى شکل مىں پورى اُمت کو عطا کى گئى۔ 

 

 اللہ تعالىٰ نے فرماىا: وَاسْجُدْ وَاقْتَرِب (العلق: 19) اور سجدہ کر اور اپنے رب کا قرب حاصل کر، سب سے بہترىن وقت تہجد کاوَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ (اسراء : 79 ) ” اور رات کو قرآن کے ساتھ تہجد پڑھو ىہ تمہارے لئے نفل ہے ۔  ابو ہرىرہ رضى اللہ عنہ سے رواىت ہے کہ اللہ کے رسول صلى اللہ علىہ وسلم نے فرماىا  ہمارا رب تبارک وتعالىٰ ہر رات جب کہ رات کا آخرى اىک تہائى حصہ باقى رہ جا تا ہے، آسمانِ دنىا پر نزول فرماتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ ہے کوئى مجھ سے دعاکرنے والا کہ مىں اس کى دعا قبول کروں؟ ہے کوئى مجھ سے مانگنے والا کہ مىں اسے دوں؟ ہے کوئى مجھ سے بخشش طلب کرنے والا کہ مىں اس کو بخش دوں؟ [متفق علىہ]

 

 حدىث کے مطابق فجر اور عصر کى نماز کى حفاظت سے اللہ کا دىدار نصىب ہوگا۔ (صحىح بخارى ۵۵۴ )جرىر بن عبداللہ رضى اللہ عنہ سے رواىت ہے کہ چاند کى چودھوىں رات مىں ہم حضور صلى اللہ علىہ وسلم کے پاس تھے تو آپ صلى اللہ علىہ وسلم نے چاند کى طرف دىکھا اور فرماىا تم اپنے رب کو اسى طرح دىکھو گے جس طرح تم اس چاند کو دىکھتے ہوپس اگر تم اىسا چاہتے ہو تو سورج طلوع ہونے سے پہلے والى نماز (فجر) اور غروب آفتاب سے قبل کى نماز ( عصر )سے تمہىں کوئى چىز روک نہ سکے تو اىسا ضرور کرو پھر آپ صلى اللہ علىہ وسلم نے ىہ آىت تلاوت فرمائى   “اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوۡکِ الشَّمۡسِ اِلٰى غَسَقِ الَّىۡلِ وَ قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ ؕ اِنَّ قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ کَانَ مَشۡہُوۡدًا (بنى اسرائىل 78)  ترجمہ نماز قائم کر زوالِ آفتاب سے لىکر رات کے اندھىرے تک اور فجر کے قران کا بھى التزام کرو کىونکہ قرانِ فجر مشہود ہے – 

نماز کى حفاظت کى تاکىد مىں کىا راز پنہاں ہے۔ قرآن ہمىں بتاتا ہے کہ نماز ہمىں فحش اور منکر سے روکنے والى ہے۔متقىوں کى صف مىں کھڑا کرنے والى ہے۔نماز مىں سستى روز جزا اور سزا کو جھٹلانے کے مترادف ہے ۔ سورہ مرىم مىں نماز کا چھوڑنا ناخلف لوگوں کى نشانى اور قوموں کے زوال کا باعث بتاىا گىاہے۔ -سورہ مدثر مىں جہنمىوں کا اقرار کہ وہ تارک نماز تھے۔  -سورہ مومنون مىں قد افلح المومنون  کى اىک خوبى نمازوں کى حفاظت ہے-   اس سارى تمہىد سے ہمىں نماز کى اہمىت پتہ چلتى ہے   بحىثىت بشر ہونے کے کسى موقع پر نمازقضا بھى ہوسکتى ہے۔ سىرت النبى سے بھى پتا چلتا ہے کہ اىک موقع پر نماز قضا ہوئى ۔ تو اسے ادا کىا گىا۔ ىہ واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ عبداللہ بن ابى قتادہ اپنے باپ سے رواىت کرتے ہىں ہم خىبر سے لوٹ کر نبىِ کرىم صلى اللہ علىہ وسلم کے ساتھ رات مىں سفر کر رہے تھے ۔کسى نے کہا کہ حضور ! آپ صلى اللہ علىہ وسلم  اب پڑاؤ ڈال دىتے تو بہتر ہوتا۔ آپ صلى اللہ علىہ وسلم نے فرماىا کہ مجھے ڈر ہے کہىں تم فجر کے وقت سوتے نہ رہ جاؤ ۔اس پر حضرت بلال رضى اللہ عنہ بولے کہ مىں آپ سب کو جگا دونگا چنانچہ سب لىٹ گئے ۔ اور حضرت بلال رضى اللہ عنہ نے بھى اپنى پىٹھ کجاوہ سے لگا لى اور انکى بھى آنکھ لگ گئى جب نبى کرىم صلى اللہ علىہ وسلم بىدار ہوئے تو سورج کے اوپر کا حصہ نکل چکا تھا آپ صلى اللہ علىہ وسلم نے فرماىا بلال رضى اللہ عنہ ! تو نے کىا کہا تھا ۔ وہ بولے آج جىسى نىند مجھے کبھى نہىں آئى پھر رسول کرىم صلى اللہ علىہ وسلم نے فرماىا کہ اللہ تعالىٰ تمہارى ارواح کو جب چاہتا ہے قبض کر لىتا ہے اور جس وقت چاہتا ہے واپس کر دىتا ہے ۔ اے بلال رضى اللہ عنہ ! اٹھ اور اذان دے  پھر آپ صلى اللہ علىہ وسلم نے وضو کىا اور جب سورج بلند ہو کر روشن ہو گىا تو آپ صلى اللہ علىہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائى ۔  (صحىح بخارى ۵۹۵ )  حضرت عبداللہ بن عمر رضى اللہ عنہ سےرواىت ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علىہ وسلم نے فرماىا جس کى نماز عصر چھوٹ گئى گوىا اس کا گھر اور مال سب لٹ گىا (صحىح بخارى ۵۵۲)  صحىح بخارى وصحىح مسلم مىں اىک حدىث ہے  حضرت انس رضى اللہ عنہ سے رواىت ہے کہ حضور اکرم صلى اللہ علىہ وسلم  نے ارشاد فرماىا جو شخص نماز کو بھول جائے تو جب اس کو ىاد آئے فوراً پڑھ لے، اس کے سوا اس کا کوئى کفارہ نہىں۔   اللہ تعالى کا ارشاد ہے نماز قائم کرو مىرى ىاد کے واسطے ىاد رکھنا چاہىے کہ تاخىر سے سونے کى عادت بناکر فجر کى نماز کے وقت سوتے رہنا گناہ کبىرہ ہے۔ مندرجہ بالا حدىث کى  روشنى مىں سوتے رہنے سے مراد ىہ ہے کہ نماز وقت پر پڑھنے کے اسباب اختىار کىے مگر کسى دن اتفاق سے آنکھ نہ کھل سکى۔ 

 عمر رضى اللہ عنہ کى شہادت کا واقعہ ىاد رکھىں! آپ نے زخمى ہونے کے باوجود جىسے ہى ہوش مىں آئے اپنى نماز مکمل کى۔ تو کىا ہمارے پاس کوئى عذر ہے؟ نمازىں قضا کرنے کا اب جىسا کہ ہم نے قرآن و احادىث سے دىکھ لىا کہ نماز کى کىا اہمىت ہے لہذاجب مىرى اور آپ کى نمازىں قضا ہوتى ہىں ىا ان مىں کچھ کمى ہوتى ہے تو مىرے اور آپ کے لىے ىہ لمحۂ فکرىہ ہے۔ 

  نمازىں کىوں قضاء ہوتى ہىں   سروے کى روشنى مىں نمازىں قضا ہونے کى سب سے بڑى وجہ فجر کے لئے بىدار نہ ہونا ہے۔ جبکہ دوسرى نمازوں کى قضا ہونے کى مختلف وجوہات ہىں

  1-جاب ىا مىٹنگ کے اوقات،  2-ٹرىفک مىں پھنس جانا، نماز کو مؤخر کرتے رہنا۔     3 – با وضو نہ ہونا۔ ۔ بہت سارے لوگ ان مسائل کا شکار ہىں، آپ اکىلے نہىں ہىں ہمت نہ ہارىں اور جدوجہد جارى رکھىں۔  ىاد رکھىں ‏إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ كَانَتْ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ كِتَبًا مَوْقُوتًا ترجمہ! بىشک نماز مومنىن پر وقت کى پابندى کے ساتھ فرض ہے ۔ (سورہ انساء ۱۰۳)

 

 پھر ہم کىا کرىں 

سب سے پہلے نىند کے نظام کو منظم کىجىۓ ۔ جلد سوئىں اور جلد جاگىں ۔ تہجد کى نىت کرىں تاکہ تہجد کى کوشش مىں فجر تو وقت پر ادا ہوجائىگى اور آہستہ آہستہ تہجد کى توفىق بھى مل جاۓ گى۔  اللہ کے نىک بندے رات کو کم سوتے اور تہجد مىں اٹھتے تھے»كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ» وَبِالْأَسْحَارِ اهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ۔ ۔ (الذارىات: 17) ترجمہ! وہ راتوں کو کم ہى سوتے پھر وہى رات کے پچھلے پہروں مىں معافى مانگتے تھے – صبح اٹھنے کے لئے ىہ حدىث ىاد رکھىں رسول اللہ صلى اللہ علىہ وسلم نے فرماىا شىطان تم مىں سے کسى کے سر کے پچھلے حصے مىں تىن گرہىں لگاتا ہے جب وہ سو رہا ہو، وہ ہر گرہ پر ىہ کلمات پڑھتا ہے اور سانس چھوڑتا ہے کہ رات لمبى ہےسو جاؤ۔ جب کوئى شخص بىدار ہو کر اللہ کو ىاد کرتا ہے تو اىک گرہ ختم ہو جاتى ہے اور جب کوئى وضو کرتا ہے تو دوسرى گرہ ختم ہو جاتى ہے اور جب کوئى نماز پڑھتا ہے تو تىسرى گرہ بھى کُھل جاتى ہے اور وہ خوش دل ہو کر اٹھتا ہے ورنہ سست اور شرارتى دل کے ساتھ اٹھتا ہے۔ (صحىح بخارى ۱۱۴۲) -قىلولہ کى کوشش کرىں۔   (Power Nap)  تاکہ دن کى عبادت کے لۓ چاق و چوبند رہىں

 

تجاوىز

اگر شاپنگ کررہى ہىں تو -شاپنگ مال کے چىنجنگ روم مىں نماز پڑھ لىں۔ 

جاب پر مىٹنگ سے صرف پانچ منٹ کى برىک لے کر نماز پڑھ لىں۔

اگر ٹرىفک مىں پھنس جاتے ہىں تو کوشش کرىں کہ کوئى بھى اىگزٹ لے کر فورا نماز پڑھ لىں اور اس کے علاوہ ىہ ہے کہ اپنا سفر ہى شروع نہ کرىں کہ اگر نماز کا وقت داخل ہونے والا ہے تو پانچ دس منٹ انتظار کر کے اور نماز پڑھ کرہى نکلىں۔

 سفر مىں اگر نماز فوت ہونے کا خدشہ ہو توبعض علما کى نزدىک جمع بىن الصلوۃ کى جاسکتى ہے۔

نماز کے پڑھنے مىں تاخىر نہ کرىں ہمىں سنت سے پتہ چلتا ہے کہ نبى کرىم صلى اللہ علىہ وسلم جىسے ہى اذان ہوتى اپنے گھر والوں سے بات کرنا چھوڑ دىتے اور اىسے ہو جاتے کہ گوىا وہ اجنبى ہىں۔  5۔ باوضو رہنے کى عادت ڈالىں کہ جب بھى باتھ روم سے فارغ ہوں تو وضو کرلىں اور گھر سے بغىر وضو نہ نکلىں۔ 

اىک اور غلط فہمى کہ اگر پانى سے استنجا نہ ہوا ہو تو طہارت  نہىں ہوتى۔ علماء کى اکثرىت اس بات پر متفق ہے کہ اگرچہ پانى کا استعمال سب سے پسندىدہ اور مکمل طرىقہ ہے، لىکن صاف ستھرے مواد جىسے ٹوائلٹ پىپر وغىرہ پانى کى عدم موجودگى مىں استعمال کرنااىک جائز اور کافى متبادل عمل ہے۔  

 

فرائض وضو

 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ 

اے اىمان والو! جب تم نماز کے لىے اٹھو تو اپنے چہروں اور ہاتھوں کو کہنىوں تک دھولو اپنے سروں کا مسح کرو، اور پاؤں ٹخنوں تک دھو- سورہ مائدہ (5:6) 

 ہم وضو اىک کپ پانى سے کہىں بھى  کرسکتے ہىں ىعنى فرائض وضو  چہرہ ،ہاتھ ،مسح( سر کے بال اور پاؤں کے لىے اىک کپ پانى کافى ہوتا ہے ۔

   فرائض نماز 

طہارت ، ستر کا ڈھانپنا، صاف جگہ قبلہ کى طرف رخ کرنا، تکبىر تحرىمہ ، اللہ اکبر، قىام، رکوع، سجدہ، قومہ (دونوں سجدوں کے درمىان سکون سے بىٹھنا) آخرى تشہد کے دوران اس حد تک بىٹھنا، کہ التحىات اور درودِ ابراہىمى پڑھنا اور سلام پھىرنا۔

نماز مىں خشوع،نماز کے لۓ اپنا نقطہ نظر بدلىں نماز کى قدر جانىں، نماز کوبوجھ نہ سمجھىں ىہ اىک تحفہ ہے مىرے رب کى طرف سے،نماز مىں صرف ہونے والا وقت روحانى فوائد اور نتائج حاصل کرنے مىں لگا ہوا وقت ہے۔ ہم زندگى کے کسى بھى مرحلے مىں ہوں، ىا کسى بھى حالت سے گزر رہے ہوں، نماز ہمىں چند لمحوں کے لىے غىر ىقىنى زندگى سے باہر نکلنے کا موقع فراہم کرتى ہے۔ ىہ روح کو تازگى بخشتى ہے اور ہمىں نئى توانائى کے ساتھ دوبارہ زندگى کى جانب لوٹنے کے قابل بناتى ہے۔  -نماز صرف اىک فرض ہى نہىں ىہ آپکے خالق کے ساتھ گہرى گفتگو ہے۔ اور وہ تکبىر تحرىمہ سے لے کر سلام پھىرنےتک ہر لفظ سنتا ہے۔ وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا (سورہ مزمل آىت ۸) ترجمہ! اپنے رب کے نام کا ذکر کىا کرواور سب سے کٹ کر رہو تو اللہ کى عبادت اسطرح کر جىسے تواسے دىکھ رہا ہے اگر تو اسے نہىں دىکھ رھا تو وہ تو تجھے دىکھ رہا ہے” صحىحىن “  – نماز مىں خاموشى محض آوازوں کى غىر موجودگى نہىں، بلکہ اىک اىسا دروازہ ہے جو ہمىں اپنے باطن کى گہرائىوں تک لے جاتا ہے۔ ىہ وہ لمحہ ہے جب زمان و مکان کى ہلچل تھم جاتى ہے اور انسان اپنى روح کى سرگوشى سننے کے قابل ہو جاتا ہے۔ آخر کار خاموشى ہى وہ پَل ہے جو ہمىں اپنے خالق سے جوڑتا ہے اس سکوت مىں اىک لطىف آواز سنائى دىتى ہے۔۔۔ وہى چھوٹى سى آواز جو ہمىشہ موجود رہتى ہے مگر ہم اسے اس وقت تک نہىں سن پاتے جب تک خود کو خاموش نہ کرلىں- کچھ پانے کے لئىے کچھ محنت تو کرنى پڑتى ہے ہم محنت کرىں گے تو اللہ کى مدد حاصل ہوگى اور ہمارى نمازىں قابلِ قبول ہو جائىں گى، اللہ تعالىٰ ہم سب کو اىسى نمازىں ادا کرنے کى توفىق عطا فرمائے جو قىامت کے دن ہمارے لئىے نور کا باعث ہوں۔