تاریخ انسانی قوموں کا حافظہ ہے ۔ ایک ایسا آئینہ جس میں قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ یہ مسلم حقیقت ہے کہ یہ گردش ایام ہے ۔ نہ عروج دائم ہے نہ زوال ۔ کبھی روم و یونان تہذیب و دانش کے مرکز سمجھے جاتے تھے۔ کبھی فرعون و نمرود طاقت کی علامت رہے ۔ قرآن حکیم اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتاہے۔ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ ترجمہ۔ اور یہ دن ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں ۔ (آل العمران140) یہ حقیقت ذہن میں رہے کہ قوموں کا عروج و زوال نہ تو کسی مسابقتی کھیل کا نتیجہ ہے۔ یہ اتفاقات کی کوئی کڑی بھی نہیں ہے۔ بلکہ رب کریم کے مقرر کردہ اصولوں کا نتیجہ ہے۔ عروج و زوال کا انحصار کسی قوم کے باطن، کردار اور اجتماعی طرز فکر پر ہوتا ہے ۔ اللہ رب کریم کی اس کائنات میں طبعی اور اخلاقی قوانین ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔قوموں کے عروج و زوال کا فیصلہ اخلاقی قوانین کے تحت ہوتا ہے۔ کتنی بڑی حقیقت ہے جو قرآن کریم نے بیان کی ہے اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ – . ترجمہ۔ بیشک اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا یہاں تک کہ وہ لوگ اپنے آپ میں خود تبدیلی پیدا کر ڈالیں۔ (سورہ الرعد 11) قومیں اس وقت تک بام عروج پر رہتی ہیں جب تک ان میں صداقت، علم و فنون، کردار کی طاقت اور اتحاد زندہ رہتا ہے۔ جب جہالت ،خود غرضی، ذاتی مفاد اور اخلاقی انحطاط، بالخصوص خواتین کے مقام و مرتبہ کا غلط تعین ہو تب تمدن کی بنیادیں ہل جاتی ہیں اور زوال مقدر بن کر رہتا ہے۔ قوم کی کشتی کے چپؔو عوام کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں جیسا کہ حکیم الامت نے فرمایا .
”افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ“
تاریخ کی پیشانی پر درج ہے 313 اہل ایمان نے صحرائے عرب سے اُٹھ کر دنیا میں روحانی اور تہذیبی انقلا ب بپا کر دیا۔
زوال کےاسباب
آج اگر ہم زوال کے اسباب پر غور و فکر کریں گے تو اپنے روشن مستقبل کی طرف بڑھ سکیں گے قوموں کا زوال کوئی آسمانی آفت نہیں ہوتی کہ زلزلہ یا سیلاب سب کچھ الٹ پلٹ کر دیتا ہے۔ قوموں کا زوال کردار کے بگاڑ کا سبب ہوتا ہے۔ تاریخ میں زوال کے اسباب چاہے مسلم قوموں کے ہوں یا غیر مسلم قوموں کے ان میں بنیادی کردار روحانی، فکری اور اخلاقی اساس سے غفلت ہے۔
1۔روحانی زوال
رومی سلطنت ہو یا عباسی یا اندلس، تاریخ ہمیں یہی تو بتاتی ہے کہ وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ ”جو شخص رحمان کے ذکر سے تغافل برتتا ہے، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں اور وہ اُس کا رفیق بن جاتا ہے “ (سورہ الزخرف 36) جب وھن لگ جاتا ہے ، مادی ترقی معیارِ زندگی قرار پاتی ہے، دنیا مطمع نظر بنتی ہے تو دنیا میں جنگل کا قانون راج کرتا ہے۔ عدل کی جگہ ظلم، امانت کی جگہ خیانت، شجاعت کی جگہ بزدلی در آتی ہے۔
2 ۔اخلاقی زوال
اخلاقی زوال قوموں کے زوال میں دلدل کا پہلا قدم ہوتا ہے۔ عیش پسندی اور بے حیائی کلچر بن جاتی ہے ۔ پرتعیش زندگی (انسان کو)سست اور کاہل بنادیتی ہے ۔ طاقت،دولت اور عیش نشہ بن کر اجتماعی دانش کو دیمک کی طرح کھا جاتے ہیں ۔ غالب تہذیب ہی میں پناہ ڈھونڈی جاتی ہے ۔ بنو امیہ اور بنو عباس اخلاقی کمزوری کے سبب زوال کا شکار ہوئے۔
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرےگا جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا۔ آج مغرب جس اخلاقی زوال کا شکار ہے اسکا زوال اس سے بہت دور نہیں –
3۔ فکری زوال
جو قومیں تحقیق ، سائنس، ٹیکنالوجی اور فکر کے میدان میں پیچھے ہیں وہ مغلوب قومیں ہیں۔ مسلمان امت نے تحقیق و اجتہاد سے منہ موڑ لیا ، علم جو ہماری میراث تھا کہ ہماری تو الہی تعلیمات کا آغاز ہی ” اقراء “سے ہوا تھا۔ ہم نے علم کو اجتماعی دانش کے بجائے روزگار کا ذریعہ بنایا، علم کو ڈگریوں تک محدود کر دیا ۔ اسوقت اسی قوم کے سر پر امامت کا تاج سجے گاجو علوم و ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے ہوگی۔
4۔قیادت کا فقدان
اسمیں کیا شک ہے کہ امت مسلمہ کے پاس وہ قیادت نہیں جو انکی امنگوں کی ترجمان ہو – 157 اسلامی ممالک میں سے کتنے ملکوں کی قیادتِ اُمؔہ کا درد رکھتی ہے یا مسلمانوں کے اجتماعی مفاد سے بحث کرتی ہے۔ قرآن حکیم میں فرعون، نمرود اور قارون جیسے کردار صرف اسوقت زوال کی علامت نہیں تھے بلکہ استعارہ ہیں حشر تک زوال کا ۔ آج نام بدلے ہوئے ہیں مگر ہمارے حکمرانوں میں فرعون نمرود اور قارون کے کردار زندہ ہیں۔
5۔باہمی اختلاف و انتشار
فرقہ واریت،قومیت اور تعصب کسی قوم کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دیتے ہیں ۔ غالب قوتیں کمزور قوموں اور ملکوں کو آپس میں لڑا کر اپنے مفادات حاصل کرتی ہیں۔ اُمتِ مسلمہ کی موجودہ حالت اس کی عملی مثال ہے.
عروج کے اسباب
اس روئے زمین پر ہمیشگی کسی قوم کو حاصل نہیں۔ہر قوم کا زوال عروج میں بدل سکتا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ یہی بتاتا ہے کہ قوموں کے عروج کے اسباب مختلف ہوتے ہیں مگر انکی بنیاد میں یہی اخلاقی، فکری ، علمی اور تنظیمی قوت کار فرما ہوتی ہے۔
1۔ایمانی و اخلاقی قوت
اسلامی تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ عرب قبائل جب ایمان کے جذبے سے متحد ہوئے تو وہ علمی و تہذیبی قیادت کے منصب پر بھی فائز ہوئے ۔ ایمان کا جذبہ وہ نظم، دیانت اور قربانی پیدا کرتا ہے جو عروج کی بنیاد ہے۔ قرآن حکیم کا چشم کشا ارشاد ہے وَلَيَنصُرَنَّاللَّهُ مَن يَنصُرُهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ۔ ”اللہ ضرور اُن لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے اللہ بڑا طاقتور اور زبردست ہے“۔ (سورہ الحج – 40)
2۔علم و تحقیق
ہمارے دین کی تو ابتدا ہی اقراء سے ہوتی ہے۔ علم ہی تاریخ میں قوموں کے عروج کا محور رہا ہے۔ قرآن کا پہلا حکم “پڑھو” اسلامی دورِ عروج کا سبب بنا۔ جُہلاء نہ کوئی انقلاب لا سکتے ہیں نہ ان کے سر پر امامت کا تاج رکھا جا سکتا تھا۔ اسلام کے عروج کے دور میں بغداد قرطبہ، بخارا علم وفنون کے مراکز تھے۔
3۔عدل وانصاف
حضرت عمرؓ کا یہ قول حشر تک اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا رہے گا کہ عدل اور انصاف ریاست کی بنیاد ہیں ۔ انھوں نے فرمایا “الملك يبقى مع الکفر ولا يبقى مع الظلم” حکومت کفر کے ساتھ قائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم کے ساتھ نہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ عدل مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے. جہاں انصاف نہیں ہو گا وہاں عوام کیسے مطمئن ہونگے اور جرائم پر کس طرح قابو پانا ممکن ہوگا۔
4۔نظم و اتحاد
اُمت ِمُسلمہ کے خلاف سب سے بڑی سازش اس کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا تھی۔ اُمت کو فرقوں اور لسانیت کی بھینٹ چڑھا دیا گیا جہاں ہر ایک اپنے مفادات کا اسیر ہے۔ جب کہ قران حکیم نے واضح حکم دیا تھا کہ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ترجمہ۔ اللہ کی رسی کو مضبوط تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو. (آل العمران 103) بلاشبہ اتحاد اور اجتماعی نظم ہی قوموں کے وجود کی ضمانت ہے۔ اسپین جو آٹھ صدیوں تک علم و تہذیب کا مركز تھاجب وه عیش پسندی میں پڑے تو ان کو زوال سے کوئی نہ روک سکا۔
5۔صالح قیادت
جب قیادت صالح ہوتی ہے تو قوم کی سمت سفر متعین کرتی ہے ۔ قیادت ہی دنیا میں کسی قوم کی شناخت ہوتی ہے. قوم اپنے لیڈر کے نام اور کردار سے پہچانی جاتی ہے ۔ قیادت کے لیے شرط ہے کہ وہ ایمان دار اور دوراندیش ہو۔ تب ہی قوموں میں محنت کی اُمنگ جاگتی ہے وہ معیشت کی مضبوطی کی طرف پیش رفت کرتے ہوئے خود انحصاری کے زینے پر قدم رکھتی ہے ۔
اہل غزہ ایک مثال: اگرچہ اہل غزہ اب تک مادی لحاظ سے محصور و مظلوم ہیں مگر ان کی استقامت ، قربانی اور ایمان پوری اُمت کے لیے حوصلے کی مثال ہے ۔ انھوں نے ببانگ دہل (کھلم کھلا) دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ حقیقی عروج کردار اور ایمان کا ہوتا ہے ۔طاقت و دولت کسی قوم کے عروج کی علامت نہیں ۔ انکی بستیاں کھنڈر میں تبدیل ہو چکی ہیں، 50 ہزار سے زائد شہادتوں کے باوجود وہ عروج و استقامت کا استعارہ ہیں ۔
بنگلہ دیش ایک مثال : اس عنوان کے تحت بنگلہ دیش کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا ۔ بنگلہ دیش میں 2024 کے وسط میں طلبہ نے سرکاری روزگار میں کوٹے اور انتظامی بد عنوانیوں کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کیا. اس تحریک نے جلد ہی بڑے پیمانے پر سیاسی مخالفت کا روپ دھار لیا ۔ سوشل میڈیا، آن لائن فورمز اور احتجاج کے روایتی ذرائع نے عوام کو متحد کرنے میں مدد کی اور احتجاج کا دائرہ وسیع کیا ۔ احتجاج کے خلاف سخت حکومتی رد عمل نے حالات کو سنگین کیا ۔ عوام کا بپھرا ہوا سمندر جب سراپا احتجاج بنا تو جو ظلم و جبر کی علامت تھیں 5 اگست 2024ء کو مستعفی ہو کر ملک سے بھاگنے پر مجبور ہوئیں ۔ یہ دن لوگوں نے یوم نجات کے طور پر منایا۔ بنگلہ دیش کی عوامی تحریک نے ظلم وجبر میں پسے ہوئے دنیا بھر کے عوام کو تبدیلی کا راستہ دکھایا ہے۔ یہ صرف حکومتی تبدیلی نہیں بلکہ سیاسی ، سماجی ، ادارہ جاتی اور مذہبی سطح پر اثر ڈال رہی ہے۔ طلبہ اور نوجوان طبقہ جو تحریک کا اصل مرکز تھا اسنےاپنے بیانات میں بار بار قرآن کی یہ آیت دہرائی۔ِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ. ترجمہ۔ بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے ۔ (سورہ الرعد 11) یعنی بنگلہ دیش کے عوام کی بیداری صرف سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی و ایمانی احیاء کی علامت تھی ۔ احتجاجی کیمپوں میں نماز باجماعت ادا ہوتی اور عورتیں پردے اور شائستگی کے ساتھ مظاہروں کاحصہ بنتیں۔ اس تحریک نے اسلام کو ایک اتحاد بخش قوت کے طور پر پیش کیا . اور نوجوانوں میں “ خدمت بطور جہاد” کا تصور پھیلنے لگا یعنی قوم کی تعمیر، انصاف کی بحالی اور بدعنوانی کے خلاف جدوجہد ایک دینی فریضہ سمجھا جانے لگا۔ عوام نے طاقت کا منبع اپنے اندر پایا اسلام نے اس طاقت کو اخلاقی نظم و ضبط دیا ۔ اور یہ اُمت کی اس روح کی نشاۃ ثانیہ تھی جس کے لیے حکیم الامت فرماتے ہیں۔
”افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ“
پس ثابت ہوا کہ قوموں کے عروج کے عوامل ہمیشہ اخلاقی ، علمی اور فکری رہے ہیں۔ قرآن کا قانونِ عروج و زوال اٹل ہے۔ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ اَلنّاسِ .(آلعمران 140) دنیا کی تاریخ یہی پیغام دیتی ہے کہ قومیں اسوقت عروج پاتی ہیں جب ان کے درمیان علم ایمان و کردار باقی رہتا ہے-
حوالہ جات۔۔۔
القرآن الکریم ،فی ظلال القرآن ،سید قطب شہید ،مقدمہ ابن خلدون ،الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک ،Arnold Toynbee..A study of History… oxford.1946
قوموں کے عروج و زوال کے اسباب