شکر گزار دل پرسکون ذندگی
اللہ تعالی نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازاہے ان نعمتوں میں صحت، عقل، وقت، رزق، امن، اور سب سے بڑھ كر شکر ایک ایسی نعمت ہے جو انسان کو نہ صرف اپنی ز ندگی كى قدر كرنا سکھاتا ہے بلكہ دوسروں کےساتھ بهى مثبت رويہ اختيار كرنا سکھاتا ہےشكر “كا مطلب صرف زبان سے “الحمد للہ” كہنا نہیں بلكہ اس نعمت كوتسلیم كرنا اورعمل سے اس كى قدر كرنا ہے – شكر گزارى ہمیں منفی خيالات سے بجاتى ہے اور زندگی کے مثبت پہلوؤں پر توجہ دلاتی ہے
شکر قرآن مجید کی روشنی میں
قرآنِ مجید میں “شُکر” یعنی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی بہت تاکید کی گئی ہے۔ شکرگزاری ایمان والوں کی ایک اہم صفت ہے، اور اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ جو شکر گزار ہوگا، اللہ اُس کو مزید نعمتیں عطا فرمائے گا شکر کے بارے میں چند اہم آیات لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ا گر تم شكر كرو گے تومیں تمہیں اور زياده دونگا :(سورہ ابراہیم آیت نمبر7 )
یہ وعده ہمیں یہ سكهاتا ہے کہ شكر صرف ايک. اخلاقى عمل نہں ہے بلکہ بركتوں کی بڑ ہائی کا ذریعہ بھی ہےایک اور آیت میں شکر کا ذکر اس طرح ہے
َاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ.
( سورہ بقرہ آیت نمبر 152 )
ترجمہ: پس تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا، اور میرا شکر ادا کرتے رہنا، اور ناشکری نہ کرنا-
فَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلَالًا طَيِّبًا وَاشْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ (سور النحل آیت نمبر114)
ترجمہ:پس اے لوگو، اللہ نے جو کچھ حلال اور پاک رزق تم کو بخشا ہے اُسے کھاؤ اور اللہ کے احسان کا شکر ادا کرو اگر تم واقعی اُسی کی بندگی کرنے والے ہو
وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ ٱلْحِكْمَةَ أَنِ ٱشْكُرْ لِلَّهِ ۚ وَمَن يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِۦ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِىٌّ حَمِيدٌ (سورہ لقمان آیت12)
اردو ترجمہ:اور بے شک ہم نے لقمان کو دانائی عطا کی تھی کہ اللہ کا شکر ادا کرو، اور جو شکر ادا کرتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے، اور جو ناشکری کرے تو بے شک اللہ بے نیاز، خوبیوں والا ہے۔
یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جو کوئی شکرگزاری کرے گا اس میں اس کا اپنا ہی فائدہ ہے ۔
شکر احادیث کی روشنی میں
نبی کریم محمد صلی للہ علیہ وآلہ وسلم نے متعدد مواقع پر شکر گزاری کی تعلیم دی، اور خود بھی عملی طور پر اس کا بہترین نمونہ پیش فرمایا۔
معا ذ بن جبل سے روایت ہے رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :
إنَّ اللهَ يُحبُّ أن يُؤكَلَ الأَكْلَةُ فيُحمَدَ عليهَا، ويُشْرَبَ الشَّرْبَةُ فيُحمَدَ عليها.
( مسلم: 2734)
ترجمہ: “بے شک اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے کہ جب بندہ کچھ کھائے یا پیے تو اس پر اس کی تعریف (شکر) کرے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی صلی للہ علیہ وسلم رات بھرقیام فرماتےیہاں تک کہ آپ صلی للہ علیہ وسلم کے قدم مبارک سوج جاتے ، میں نے عرض کیا :یا رسول اللہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ ، حالانکہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے ہیں: آپ صلی للہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
مَن لا يُشكر الناس لا يَشكر الله”
(جامع تريدى: 1954)
ترجمہ: “جو لوگوں كا شكر ادانہیں كرتا، وه الله كابهى شكر ادا نہیں كرتا-“
حضرت صهيب رضى اللّٰه عنہ سے روايت
“عجبًا لأمر المومن، إنَّ أمرّه كلَّه له خير… إن صابته سرَّاءُ شکر فكان خيرًا له، وإن أصابة اءُ صبرَ، فكان خيرًا له” (صحیح مسلم: 2999)
ترجمہ: “مؤمن کا معاملہ بھی تعجب ہے اس كاہر معاملہ اس کے لئے خير ہے ،
خوشى پہنجے تو شكر كرے تويہ اس کے لئے بہترہے اوراگراسےتكليف پہنچے توصبر كرے تويه یہ بھی اس کے لئے بہتر ہے
شكر كرنا الله کے قريب كرنے والا عمل ہےشكر انسان کے اخلاق، عبادات اور معاملات کو بہتر بناتا ہے
شکر کرنے کے بے شمار فائدے ہیں یہاں ہم شکر کرنے کے کچھ فائدوں کا ذکر کر رہے ہیں
شکر کے فائدے
روحا نی سکون :شکردل کو سکون دیتا ہے اورپريشانيوں میں صبركا جذبہ پیدا کرتا ہے ۔
مثبت سوچ : شكر گزار انسان ہميشه مثبت سوچتا ہے زند گی کی خوبصورتی كو محسوس کر تاہے۔
اچھے تعلقات: شكر ادا کر نے والا شخص دوسروں کے ساتھ زياده محبت اور عزت سے پیش آ تا ہے۔
شکر گزاری اللہ کی اطا عت گزاری ہے اسی لئے خود اللہ تعالی نے بندے كوایسا كرنے كاحكم فرمایا ہے ميرا شکر ا داكرواوراپنے والدين کا بھی اور، ميرى ہی طرف تمهیں لوٹ کر آنا ہے ( سورہ لقمان: 14)- شكر دراصل الله كويا دكرنے كاذريعہ ہےاگرہم چاہتےہیں كہ اللہ بھی ہمیں یاد رکھے تو ہمیں شكر گزار بنده بننے کی ضرورت ہےجیسا کہ سوره البقره میں ہے پس تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کرونگا اور تم میرا شکر ادا کیا کرو اورمیری ناشکری نہ کیا کرو (152:2) -اسى طرح شيطان كوجب شكركى اہميت كا معلوم ہوا تواس نے اللہ كوچیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ان (انسانوں) میں سے اكثر كوشكر گزارنہ پاؤ گے (7:17) شيطان ہمارا د شمن ہر موقع پراس كوشش میں رہتا ہے كہ وه انسان كوناشكرا بنائے اسی لئے وه ان تمام نعمتوں كوانسان سى بهلائےرکھتا ہے شكركى عادت انسان كى اپنے ہى حق میں بہتر ہوتی ہے جیسا کہ سوره النمل میں ہےاور جو شكر كرتاہے تووه اپنے ہی لئے کرتا ہے-درحقيقت شكرادا کرنے کی توفیق ملنا بھی اللّه کے كرم سے ہو تا ہے ۔
امام الجوزی اس سلسلے میں بتاتےہے كہ شکردل زبان اور اعضاہ سے ادا ہوتا ہے ۔
شكرً گزار بنده اللہ كے احسانات كا معترف ہوتاہے یہ انبياء کی صفات وتعليمات سے ہے اللہ تعالى نے بہت سےانبياء کےاوصاف میں اسے ذکر کیا جیسےحضرت نوح، حضرت ابراہیمؑ ،حضرت موسىؑ، حضرت سليمان علیہ سلام اورہمارے پیارے نبی حضرت محمٌد صلی للہ علیہ وسلم جوكہ خوشى اورغم ہرحال میں اللہ كاشكرادا کرتے تھے ہمارے لئے ان انبياء اكرام كى سنت میں سبق ہے کہ ہمیں بھی ان کی طرح آزمائشوں میں ہونے کے باوجود شکر گزار ہونا چاہیے۔
شکر کی عملی صورتیں
1.نماز اور عبادات میں شکر
اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا پانچ وقت کی نماز کے ذریعے۔
دعا میں اللہ کا شکریہ ادا کرنا: “اللّٰہُمَّ لَکَ الحَمدُ وَلَکَ الشُّکر” کہنا۔
2.نعمتوں کو پہچاننا اور ان کا صحیح استعمال
صحت، علم، وقت، مال وغیرہ جیسی نعمتوں کا ادراک کرنا۔
ان نعمتوں کو جائز، حلال اور نیکی کے کاموں میں استعمال کرنا۔ یعنی تحریک کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا
3.دل سے شکر (قلبی شکر)
دل میں ہمیشہ اللہ کی نعمتوں کا احساس اور قدر رکھنا۔
حسد، ناشکری اور مایوسی سے بچنا۔
4.زبان سے شکر (زبانی شکر)
“الحمد للہ”، “شکر الحمد للہ” کہنا۔
دوسروں کو اللہ کی نعمتیں یاد دلا کر شکر کی ترغیب دینا۔
5.عمل سے شکر (عملی شکر)
جو نعمت ملی ہے، اسے دوسروں کے فائدے کے لیے استعمال کرنا۔
مثلاً: علم ہے تو تعلیم دینا،دعوہ کا کام کرنا ، مال ہے تو صدقہ دینا، وقت ہے تو خدمت خلق-
شکر ایک ایسا عمل ہے جو بظاہر چھوٹا نظر آتا ہےپر اس کے اثرات بہت عظيم بوتے ہیں -یہ آپکی ذندگی میں اطمينان، كاميابی، اور روحانى ترقی كاذريعہ بنتا ہے -اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمارے دلوں کو شکر کا جذ بہ عطا فرمائےخوشی ہو یا غم ہر حال میں شکر ادا کرنے والا بنائے اللہ تعالی ہمیں اپنے شکر گزار بندو میں شامل فرمائے ۔آمین
نمیرہ خان – ورجینیا