دعا کی اہمیت

 رابطہ ہے۔ بندہ اپنے حقیقی مالک سے سچے دل کے ساتھ گڑگڑا کر فریاد کرتا ہے وہ مالک جو سب کچھ دینے کی قدرت رکھتا ہے اور جو محبت کرنے والا بھی ہے، وہ دل کے قریب بھی ہے۔ اس کا حکم ہے کہ مجھ سے مانگو، میں دوں گا، اور وہ دیتا بھی ہے۔

 بس اس کی مدد مانگنے کا سلیقہ ہونا چاہیے۔ جو ذکر اور دعا  دل سے نکلتی ہے، بہت جلد اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوتی ہے، اور دل سے نکلنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ مانگنے والے اور ذکر کرنے والے کو معلوم ہو کہ میں اللہ تعالیٰ سے کیا مانگ رہا ہوں یا رہی ہوں۔

اگر دعا مانگنے کی اہمیت نہ ہوتی تو قرآن میں اس کا ذکر نہ آتا، لیکن اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کی زبانِ مبارک سے خود ہی ہمارے لیے دعائیں جاری فرما دیں تاکہ بندہ یہ جان لے کہ مصیبت اور پریشانیاں انبیاء کرام پر بھی آئیں جو اللہ کی طرف سے ان کی آزمائشیں تھیں۔

اس دنیا کے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی رفیقِ حیات نے زندگی کا آغاز دعا سے ہی کیا، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں فرمایا۔ 

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ (سورۃ الاعراف :23 )

 دونوں عرض کرنے لگے کہ اے پروردگار! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم تباہ ہو جائیں گے۔

تمام انبیاء کرام نے دعا کے سلسلے کو جاری رکھا۔ حضرت یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں مغفرت کی دعا مانگی۔ اللہ کے حکم سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی زبان کی لکنت دور کرنے کی دعا مانگی۔ 

حضرت ایوب علیہ السلام نے اپنی صحت یابی کی دعا مانگی۔ اس کے علاوہ ہمارے نبی ﷺ کی دعائیں — یہ سب ہماری تعلیم اور تربیت کے لیے ہیں، ورنہ اللہ تعالیٰ تو اپنے رسولوں اور نبیوں کی آزمائش کو اپنے فضل و کرم سے بغیر دعا کے بھی دور کر سکتا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک کا آغاز بھی دعا سے کیا، جو ایک مکمل دعا سورۂ فاتحہ کی صورت میں نازل کی گئی، جسے پڑھے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ ربِّ زدنی عِلما علم میں اضافے کی دعا ہے۔ تسبیح اور تبلیغِ دین کرنے والوں کے لیے بہترین دعا ہے۔

دعا کا مقصد روحانی اور قلبی مسرتوں کا حصول اور اس تڑپ کی تسکین ہے جو انسانی ذات میں بدرجۂ غایت پوشیدہ ہے کہ اس وسیع الارض کائنات میں کوئی ہماری پکار سنے، کوئی ہماری دعاؤں کو قبول کرے۔ اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جو بندے کے مانگنے پر خوش ہوتا ہے۔ دعا سننے کا اختیار صرف اور صرف ربِّ کریم کے پاس ہے۔ وہ پکار سنتا ہے اور قبول کرتا ہے۔ارشادِ ربانی ہے:

 ترجمہ: ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے، جو خیالات اس کے دل میں گزرتے ہیں ہم انہیں جانتے ہیں، اور ہم اس کی رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔

ہمارے رسول ﷺ کا بڑا احسان ہے کہ آپؐ نے اپنی امت کو صبح بستر سے اٹھنے سے لے کر رات کو بستر پر سونے تک، یعنی تمام کاموں اور اوقات کی دعائیں سکھائیں، جس سے ہماری زندگی آسان ہو گئی۔ اس سے خیر و برکت بھی ہوتی ہے۔ ارشاد فرمایا: دعا مومن کا ہتھیار ہے، دین کا ستون ہے اور آسمان و زمین کا نور ہے۔

حدیث میں ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے سوال نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو جاتے ہیں۔ یہ تکبر کا مظاہرہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی شدید ناراضگی کا باعث بنتا ہے۔ ایک حدیثِ نبوی ﷺ ہے کہ دعا کے سوا کوئی چیز قضا و قدر کے فیصلے کو رد نہیں کر سکتی، اور نیک عمل کے سوا کوئی چیز عمر کو نہیں بڑھاتی۔

دعا بذاتِ خود عبادت ہے۔ دعا کرنے سے جو لہریں انسان کے جسم سے خارج ہوتی ہیں، وہ انسان کے گرد ایک حفاظتی حصار بنا لیتی ہیں، جو اسے شیطانی وسوسوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس سے فوراً انسان کو اطمینانِ قلب حاصل ہوتا ہے۔ یہ ایک میٹا فزیکل عمل ہے، جس کا ادراک ہر انسان کو نہیں ہوتا، لیکن ہر وہ انسان جو دعا مانگتا ہے، اس کے ساتھ یہ عمل ضرور ہوتا ہے۔

آفات اور مصیبتوں سے بچنے کی سب سے مؤثر تدبیر دعا ہے۔ اللہ سے کثرت سے دعائیں مانگنا — خواہ فرض نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر، یا دل ہی دل میں ہر وقت اللہ کو اپنے قریب، سمیع و بصیر سمجھتے ہوئے مانگتے رہنا — اللہ تعالیٰ کی معبودیت اور وحدانیت کا اعلان ہے۔ یہی وہ نور ہے جس سے آسمان و زمین قائم ہیں۔

اسی لیے حدیثِ شریف میں آیا ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب روئے زمین پر کوئی اللہ اللہ کہنے والا باقی نہ رہے گا۔ اس لیے دعا آسمان و زمین کا نور ہے۔

دعا انسان کو ہر طرح کے شر سے محفوظ رکھتی ہے۔ جب انسان شر سے محفوظ ہو جاتا ہے تو یہی قربِ الٰہی ہے۔ گویا دعا ایک طرف انسان کی حفاظت ہے اور دوسری طرف قربِ الٰہی کا بڑا ذریعہ ہے۔ یہ تقویٰ، اخلاص اور توکل کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔

دعا یا عبادت مذہب کی عملی صورت ہے۔ جب انسان اپنے خالق و مالک کے حضور پوری عاجزی اور درد مندی کے احساس کے ساتھ نجات طلب کرتا ہے تو اس کی یہ صدا دعا کہلاتی ہے۔ یہ چند لفظوں کی ادائیگی نہیں بلکہ ربِّ کائنات کی طرف روح کا مسلسل سفر ہے۔

دعا کا فلسفیانہ نظریہ:  مولانا رومی کے نزدیک یہ ہے کہ جب کوئی شخص صدقِ دل اور عاجزی و نیاز سے دعا کرتا ہے تو یہ توفیقِ دعا اور حرکتِ قلب خود خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔ مولانا فرماتے ہیں کہ ایسی دعا میں علت و معلول کا یہ قانون نہیں کہ دعا ہو گی تو پھر خدا سنے گا، بلکہ یہ سمجھنا چاہیے کہ خدا نے اس کے میدانِ قلب کو دیکھا تو اسے دعا کی توفیق عطا ہو گئی۔

علامہ اقبال کے خیال میں اجتماعیت مذہبِ اسلام کی روح ہے، لہٰذا اجتماعی دعا انفرادی دعا سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔

دعا مانگنے کے کچھ آداب بھی ہیں۔ کچھ آداب رکنیت کے درجے تک پہنچتے ہیں، مثلاً اخلاص کے ساتھ دعا مانگنا — اس کے بغیر دعا ہی نہیں ہوتی۔ شرط:  یہ ہے کہ محرمات سے بچا جائے، حرام غذا جیسے رشوت، چوری، دھوکہ وغیرہ سے مکمل اجتناب کیا جائے۔

مندوب  اعمال میں قبلہ رخ بیٹھنا، اللہ کی طرف توجہ اور ادب کا خیال رکھنا شامل ہے۔

 منھیات  اعمال میں دعا کے وقت آسمان کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھنا شامل ہے نبی ﷺ نے ان اعمال سے منع فرمایا ہے۔

مستحب   اعمال میں دعا سے پہلے کوئی نیک عمل کرنا، مثلاً صدقہ دینا یا نفل نماز ادا کرنا، دعا کے آغاز اور اختتام پر درودِ شریف پڑھنا، گڑگڑانا، سجدے میں دعا مانگنا، گناہوں کا اقرار کرنا، مغفرت طلب کرنا، توبہ کرنا اور یقینِ کامل کے ساتھ دعا مانگنا شامل ہے۔

مصیبت ہر انسان پر آتی ہے، مگر اللہ کو ماننے والے اللہ کے حضور جھک کر سوز و گداز کے ساتھ دعا کرتے ہیں، جس سے رحمت بے قرار ہو کر ان کی طرف لپکتی ہے۔

کچھ دعائیں جلد قبول ہوتی ہیں:

 مظلوم کی دعا، مجبور و لاچار کی دعا، والدین کی دعائیں، نیک آدمی کی دعا، روزے دار کی افطار کے وقت دعا، مسافر کی دعا، ایک مسلمان کی دوسرے مسلمان بھائی کے حق میں دعا اور حاجیوں کی دعائیں۔

چند مخصوص مقامات بھی ہیں جہاں دعاؤں کی قبولیت زیادہ ہوتی ہے، جیسے: مطاف، ملتزم، بیت اللہ کے اندر، جائے زمزم کے پاس، مقامِ ابراہیم، میدانِ عرفات، مزدلفہ اور منیٰ وغیرہ  خاص حالات بھی ہیں جن میں دعائیں قبول ہوتی ہیں اذان کے بعد، قرآنِ کریم کی تلاوت کے بعد، دینی اجتماعات کے بعد، فرض نماز کے بعد۔

آخر میں ربِّ العزت سے یہی دعا ہے:

 اے میرے رب! تو ہی میری ڈھال ہے، تو ہی میری چٹان اور میرا حصار ہے۔ آگے بڑھ کر مجھے اپنی پناہ میں لے لے، جیسے بہار خزاں رسیدہ چمن کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ آمین

رضوانہ صدیقی۔ میری لینڈ