انفاق اور اسکے فائدے

انفاق کے آداب، طریقِ کار اور مصارف کیا ہیں؟ایک ایک کرکے ہم ان پر بات کریں گے۔

انفاق کا روٹ ورڈ:ن، ف، ق ۔اس کے معنی کسی چیز کے ختم ہونے یا چلے جانے کے ہیں۔

اسی سے نفاق (دو رُخّی) ہے، یعنی شریعت میں ایک طرف سے داخل ہو کر دوسری طرف سے نکل جانا۔

ہم یہاں  پہلے  “انفاق” کا لفظ لیتے ہیں، جس کا مطلب ہے مال کا خرچ یا استعمال۔ اور جب اس کے ساتھ فی سبیل اللہ یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا ذکر آتا ہے تو اس بارے میں مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ زکوٰۃ اور صدقات دونوں لغت کے اعتبار سے معنوں میں مختلف ہیں، مگر اہمیت و افادیت کے لحاظ سے ایک ہی ہیں۔ قرآن میں جہاں ہمیں صدقہ کا لفظ نظرآتا ہے اور اس کے آگے پیچھے کوئی ایسا قرینہ نہیں ہے جس سے کوئی اور معنی لیے جائیں، تو اس سے مراد “زکوٰۃ” ہوتی ہے۔

زکوٰة کا مطلب ہے اضافہ، نمو اور بڑھوتی۔ زکی کا مطلب ہے پاک ہونا۔ ”قد أفلح من تزكّى “ اسی سے یہ تصور آیا ہے کہ کسی چیز میں اضافہ ہو، اس کا حق ادا کیا جائے۔ صدقہ کا لفظ صدق سے ہے، صدیق بھی اسی سے بنا ہے۔ دونوں کا مطلب ہے کہ مال اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔

سورۂ بلد میں ہے: اور تم کیا جانو کہ وہ دشوار گزار گھاٹی کیا ہے؟ گردن کو چھڑانا، یا بھوک کے دن کھانا کھلانا کسی قریبی یتیم کو یا خاک نشین مسکین کو۔

صدقہ بھی دو قسم کا ہے: نفلی اور فرض۔

حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمانوں! تم پر صدقہ واجب ہے۔

کسی نے پوچھا: اگر کسی کے پاس مال نہ ہو؟آپ ﷺ نے فرمایا کہ مال کمائے اور پھر صدقہ کرے۔

پوچھا کہ اگر یہ بھی نہ کر سکے؟ تو فرمایا کہ کم از کم اپنے آپ کو برائی سے روکے، یہی صدقہ ہے

مدنی دور میں، آٹھ ہجری میں جنگ تبوک سے واپسی کے بعدآپ صلی اللہ علیہ وسلم  مدینے سے ایک کوس بھر کے فاصلے پر تھے، جب زکوة کی فرضیت کے لیے آیات نازل ہوئیں۔

سوره التوبہ میں ارشاد ہے:

”خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ“ (103)

ترجمہ: ان کے اموال میں سے صدقہ لو، انہیں پاک کرو، ان میں اضافہ کرو، اور ان کے لیے دعا کرو۔

اس بات سے ایک چیز معلوم ہوتی ہے مال کا پاک ہونا، بڑھنا، اور پھر جو مال دیا جائے، اس کے لیے دعا کرنا ضروری ہے۔

دعا بھی ہمیں احادیث سے ملتی ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہر نیکی کا کام صدقہ ہے۔ اور نیکی کا ایک کام یہ بھی ہے کہ تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے پیش آؤ اور اپنے ڈول میں سے اُس کے ڈول میں پانی ڈال دو۔ (احمد، ترمذی)

ابو جابر (ابو زرغفاری)رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ اکبر، سبحان اللہ، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ اور استغفر اللہ پڑھو۔

حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ انسان کے جسم کے 360 جوڑ ہیں، ان میں سے ہر جوڑ کا صدقہ کرنا ضروری ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایسا کون کرسکتا ہے؟

آپ ﷺ نے فرمایا: اگر مسجد میں رینٹ (ناک کی رطوبت) پڑی ہو، اسے صاف کر دو، یا کوئی تکلیف دہ چیز اٹھا دو، یا چاشت کی دو رکعت نماز ادا کرو، یہ سب بھی صدقہ ہے۔

صدقہ صرف مال اور دولت خرچ کرنے تک محدود نہیں بلکہ عمل، نیکی، اور خدمت خلق بھی صدقہ کے دائرے میں آتے ہیں۔

نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:

“ما نقص مال من صدقة”

کسی صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا۔

زکوة اور نماز کا ذکر قرآن مجید میں ساتھ ساتھ آیا ہے۔ نماز کے بعد دوسرا عمل زکوة ہے۔ نماز حقوق اللہ میں سے ہے اور زکوة حقوق العباد میں سے۔ نماز سے جماعت قائم ہوتی ہے اور زکوة سے جماعت کا قیام مستحکم ہوتا ہے۔

آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ ایمان لاؤ اللہ پر، اس کے رسول پر، اور خرچ کرو ان چیزوں میں سے جن پر اللہ تعالیٰ نے تمہیں خلیفہ بنایا ہے۔

 (سورة الحدید، آیت 7)

یہ مال تمہارا اپنا نہیں ہے بلکہ تم اللہ کے مال پر خلیفہ بنائے گئے ہو۔

مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ

کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے، تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس کرے۔

اب ان آیات و احادیث سے انفاق کی اہمیت واضح ہوگئی، اور اس کے فوائد بھی سامنے آئے ہیں۔ یہ تو دنیاوی فوائد کی بات ہو رہی ہے، کیونکہ انسان فطرتاً مال کی محبت رکھنے والا ہے۔ أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی دھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے 

(سورہ التکاثر: 1)

انفاق سے آخرت کے فائدہ ۔

یہ سات سو گنا بڑھ کر ملتا ہے۔ یہ مادی بھی ہوسکتا ہے اور یہ آخرت کے اجر کی صورت میں بھی حاصل ہوتا ہے۔ دوسری صورت میں فائدہ اس طرح ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“إِنَّ الْمُصَّدِّقِينَ وَالْمُصَّدِّقَاتِ وَأَقْرَضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعَفُ لَهُمْ وَلَهُمْ أَجْرٌ كَرِيمٌ” 

مردوں اور عورتوں میں سے جو لوگ صدقات دینے والے ہیں اور جنہوں نے اللہ کو قرض حسن دیا ہے، اُن کو یقیناً کئی گنا بڑھا کر دیا جائے گا اور ان کے لیے بہترین اجر ہے 

(سورة الحدید: آیت 18)

اللہ تعالیٰ انفاق کے بدلے میں ثواب بھی دیتا ہے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے:

“صدقہ اللہ کے غضب کو کھاتا ہے اور بری قوت کو دفع کرتا ہے۔” (حضرت انس، ترمذی)

تیسری صورت، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

کوئی صبح ایسی نہیں گزرتی جب دو فرشتے آسمان سے نازل ہوتے ہیں:

ایک کہتا ہے، “اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلْفًا”

اے اللہ! انفاق کرنے والے کو اس کا اجر دے۔

اور دوسرا کہتا ہے، “اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلْفًا”

اے اللہ! بچاکے رکھنے والے (بخیل) کا مال تلف کر دے۔ (ابو ہریرہ متفق علیہ)

رسول ﷺ نے فرمایا: “مکار، بخیل اور احسان جتانے والے جنت میں داخل نہیں ہوں گے” (روایت ابوبکر، مسلم)

حضرت ابوزرغفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ خانہ کعبہ کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے تھے اور مجھے دیکھ کر فرمانے لگے کہ وہ لوگ خسارے میں ہیں۔ میں نے پوچھا: “میرے ماں باپ آپ پر قربان، کون لوگ اس سے مراد ہیں؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “جو کثرت مال رکھتے ہیں مگر انفاق کرنے والے بہت کم ہیں” (بخاری، مسلم)

انفاق کے آداب اور طریقہ کار یہ ہیں کہ اگر صدقات اعلانیہ دیئے جائیں تو یہ اچھی بات ہے۔ اگر چھپا کر فقیروں، مسکینوں، غریبوں اور غربا کو دو تو اس میں تمہارے لیے بھلائی ہے۔ نفل صدقات دائیں ہاتھ سے دو اور بائیں کو خبر نہ ہو۔ دن رات دینے کی قید نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “قَوْلٌ مَّعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّن صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى ۗ وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ” 

ایک میٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اُس خیرات سے بہتر ہے، جس کے پیچھے دکھ ہو اللہ بے نیاز ہے اور بردباری اُس کی صفت ہے ۔ (سورۃ البقرہ: 263)

 احسان جتانے کے لیے نہ کرو بلکہ میٹھا بول بولنا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے پیچھے اذیت ہو۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ ۚ أُولَٰئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ 

تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں گے وہ کبھی اُن لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کیا ہے اُن کا درجہ بعد میں خرچ اور جہاد کرنے والوں سے بڑھ کر ہے اگرچہ اللہ نے دونوں ہی سے اچھے وعدے فرمائے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے با خبر ہے۔(سورہ الحدید: 10)

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ 

اے ایمان والو! اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اور زمین میں سے تمہارے لیے ہماری نکالی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرو:(سورہ البقرہ: 267)

حرام، سڑا ہوا مال، پرانے کپڑے یا بوسیدہ جوتے نہیں دینے چاہئیں۔ اللہ کی راہ میں نقد مال دو، ایسی چیز جس کی اس دنیا میں قدر اور قیمت سمجھی جاتی ہو۔

تندرستی کی حالت میں اللہ کی راہ میں ایک درہم کا خرچ مرنے کے وقت کے سو درہم کے خرچ سے بہتر ہےاس وقت خرچ کرنا زیادہ افضل ہے، جب انسان کو خود ضرورت ہو اور اس کے سامنے ہزاروں ضرورتیں ہوں، اور مال کے کم پڑنے کا خوف ہو۔

ایمان محض زبانی اقرار اور ظاہری اعمال کا نام نہیں ہے۔ جو شخص اللہ کے دین کے مقابلے میں اپنی جان و مال کو عزیز رکھے، اس کا اقرار ایمان کھوکھلاہے۔ جو لوگ راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں، ان کے آگے نور ہوگا اور وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ جو لوگ صرف دنیاوی مفاد دیکھتے ہیں، انہیں مومنین سے الگ کر دیا جائے گا اور وہ نور سے محروم رہیں گے۔

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عائشہ اور اسماء رضی اللہ عنہا سے زیادہ سخاوت کرنے والی عورت نہیں دیکھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا  کا حال یہ تھا کہ وہ روزانہ کچھ نہ کچھ مال جمع کرتی جاتیں اور جب قابل قدر مال جمع ہوجاتا، تو عورتوں میں تقسیم کر دیتیں۔ اور اسما رضی اللہ عنہا کا یہ حال تھا کہ وہ روزانہ کچھ نہ کچھ مال جو اُنکے ہاتھ میں آتا، ضرورت مندوں تک پہنچا دیتں اور کل کے لیے کچھ نہ رکھتیں۔

جس طرح ہم دنیا کی دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں رہنا چاہتے، ہمیں نیکی کے کاموں میں بھی سبقت لے جانے کی فکر ہونی چاہیے۔ آج کے دور میں عورت مالی اعتبار سے مرد کے برابر ہے، اس لیے اپنے مال کے تصرف میں خود مختار بھی ہے۔ اپنے زیورات کی زکوۃ  دینا ہر صورت میں ہم پر فرض ہے۔

 

ہمیں چاہیے کہ اپنی انکم  سے یا گھر کے اخراجات میں سے رقم بچا کر اللہ کے راستے میں خرچ کریں۔ ضرورت مند رشتہ داروں ، غریبوں، مسکینوں کی مدد کریں، ان کی گھریلو ضروریات ، تعلیمی اخراجات  اور لباس اور مستقل آمدن کا کوئی ذریعہ فراہم  کریں۔ اس کے علاوہ یتیم خانوں کو دیں۔   اورمختلف فلاحی ادارے جو کام کر رہے ہیں، ان کو ڈونیشن دیں۔ مسجدوں کی تعمیر میں حصہ ڈالیں اسلامک اسکول کو مدد فراہم کریں  ۔

اس کے علاوہ پانی انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ جن ممالک میں اسکی   ضرورت ہے انکے کنویں   واٹر پمپ لگوا دیں۔  مہاجرین کے لیے مدد بھیجیں۔ اپنے مسلمان بنگلہ دیش، شام، انڈیا، مینمار، سوڈان، ساؤتھ افریقہ، فلسطین، سیریا—کتنے ممالک ہیں جو بے سر و سامان کھلے آسمان کے نیچے پڑے ہیں—ان کے لیے خیمے لگوانے میں مدد فراہم کریں  ۔

جو تنظیمیں فلاح و بہبود کا کام کر رہی ہیں، اگروہ بااعتماد  ہیں تو انہیں صدقات کی رقم دیں۔ اس کے علاوہ دین کی تبلیغ کے لیے جو ادارے کام کررہے ہیں   ان کے ساتھ تعاون کریں  سب سے بڑھ کر ہمارے جو لوگ غیرمسلم  معاشرے میں دین کی اشاعت کام اور مسلمانوں کو اسلامی ماحول دینے کے لیے مصروف ہیں جیسے اسلامی سرکل،آف نارتھ امریکہ  جو کسی تعارف کی محتاج نہیں، دینی اور دنیاوی دونوں ہی طرح سے مسلمان کمیونٹی کے لیے کام کر رہی ہے، ان کی مالی مدد کریں۔ 

ہم خواتین کے اخراجات ہمارے برانڈ، ہمارے لباس اور دوسرے لوازماتِ ،زندگی کا معیار بن  گیے ہیں  خوش لباس اور خوش ذوقی رکھنے کا ایک سحر بن چکا ہے۔   

ہمیں چاہیے کہ زندگی میں سادگی اختیار کریں اور  حضرت عائشہؓ اور حضرت زینبؓ کے اسوہ کو پڑھ کر ان کے طریقوں کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے، جو ایک لاکھ دینار شام تک تقسیم کر کے روزہ ایک کھجور سے افطار کرتی تھیں۔

صفیہ جیلانی – نیو یارک