انسانی تاریخ کا آنوکھااور محیر العقول واقعہ وہ عظیم معجزہ ہےجسے ہم اسراء و معراج کے نام سے جانتے ہیں۔جو صرف نبی رحمت ﷺکی ذات اقدس کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیےرحمت، تسکین اور قرب الہٰی کی بشارت ہے۔یہ وہ رات تھی جب رحمت للعالمین ﷺکے لئے زمین و آسمان کے فاصلے مختصر کر دئیے گئے۔ جبرئیل امین سدرۃ المنتہیٰ پہ ٹھہر گئے اور اللہ رب العزت کے محبوب اور امام الانبیاء ﷺکو ان کے مالک و آقا سے گفتگو کا شرف حاصل ہوا۔اسی شب معراج میں نبیﷺ کو نماز کا تحفہ عطا فرمایا گیاجو رہتی دنیا تک مومنوں کے لئے قرب الہٰی کا دروازہ بن گیا۔
سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ
پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اُس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے، تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے حقیقت میں وہی ہے سب کچھ سننے اور دیکھنے والا(سورة الإسراء:1)
معراج کا سفر۔ قرب الٰہی کی انتہا
اسی شب نبی رحمت ﷺکومسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک لے جایا گیا،جسے اسراء کہتے ہیں۔وہاں انبیاء کی امامت کے بعد آسمانوں کی سیر کو لے جایا گیاجسے معراج کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔جاتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر آسمان پہ مختلف انبیاء سے ملاقات ہوئی۔جب سدرۃ المنتہیٰ پہ پہنچے توجبرئیلِ امین رک گئےاور عرض کیا یا رسول اللہﷺ اگر میں ایک بال کے برابر بھی آگے بڑھوں تو جل جاؤں گا۔
یہی وہ مقام تھا جہاں رب ذوالجلال نےاپنے حبیبﷺسے بلا واسطہ گفتگو فرمائی۔اسی ملاقات میں تین تحفے عطا کئے گئےجن میں سے ایک نماز ہے۔ پہلے پچاس نمازوں کا حکم ہوا،جس میں بعد میں کمی فرماکےپانچ نمازیں برقرار رکھی گئیں مگر رحمت الٰہی سے پانچ نمازوں کا اجرپچاس کے برابر ہی برقرار رکھا گیا۔(صحیح بخاری: 349، صحیح مسلم: 162)
نماز معراج کی یادگار عبادت
نماز واحد عبادت ہے جس کا حکم زمین پہ بذریعہ وحی نازل نہیں ہوابلکہ یہ تحفہ عرش المعلیٰ پہ معراج کے دوران عطا ہوا۔ یوں نماز دراصل معراج النبی ﷺ کی روحانی یادگار ہےجو ہر مومن کو دن میں پانچ مرتبہ قربِ الٰہی کا موقع فراہم کرتی ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:نماز مومن کی معراج ہے۔
(بیہقی، شعب الایمان، حدیث: 3759)
جب بندہ سجدے میں جاتا ہے تو وہ اسی قرب کے لمحے کو محسوس کرتا ہے جہاں “میں” باقی نہیں رہتی، صرف “وہ” یعنی اللہ رب العزت کی ہستی باقی رہ جاتی ہے۔
رمضان المبارک ۔عبادتوں کا موسمِ بہار
جس طرح معراج النبی ﷺ میں حضور ﷺ کو روحانی بلندی نصیب ہوئی اسی طرح رمضان المبارک میں مومن کو اپنی روح تازہ کرنے اور بلندی حاصل کرنےکا موقع ملتاہے۔۔یہ مہینہ تزکیۂ نفس، قربِ الٰہی اور مغفرت کا مہینہ ہے۔رمضان میں روزہ جسمانی خواہشات کو ضبط میں رکھتا ہے،
اور نماز روح کو اللہ کی یاد میں محو کرتی ہےیوں روزہ اور نماز مل کر انسان کو ایک روحانی معراج کی طرف لے جاتے ہیں۔
حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
“روزہ میرے لیے ہے، اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔”
(حدیثِ قدسی – صحیح بخاری: 1904)
اور یہی راز ہے کہ رمضان میں نوافل، تراویح اور تہجد کا ذوق بڑھ جاتا ہے کیونکہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں نماز کی معراجی روح بیدار ہوتی ہے۔
رمضان اور معراج۔دو مختلف جلوے، ایک ہی مقصد
شبِ معراج میں نبی ﷺ نے رب سے ملاقات کی اور رمضان میں مؤمن اپنے رب سے دل کی زبان میں ملاقات کرتا ہے۔
نماز میں بندہ جھکتا ہے،روزے میں بندہ رکتا ہے،
اور دونوں کا مقصد ایک ہی ہے ،قربِ الٰہی۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ:شبِ معراج قرب کا اعلان تھی،اور رمضان اس قرب کی عملی تفسیر۔
نماز اور تراویح ۔۔رمضان کی راتوں کی زینت
رمضان کی راتوں میں جب مؤمن تراویح میں قیام کرتا ہےتو وہ دراصل اسی معراجی تعلق کو تازہ کر رہا ہوتا ہے۔قرآن کی تلاوت، رکوع و سجود اور دعاؤں کے لمحےوہی روحانی کیفیت پیدا کرتے ہیں
جو معراج کی رات حضور ﷺ کو نصیب ہوئی۔
جو شخص ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں میں قیام کرے،اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔
(صحیح بخاری: 37)
معراج کا تحفہ، رمضان کا پیغام
شبِ معراج ہمیں یاد دلاتی ہے کہ نماز صرف ایک فریضہ نہیں بلکہ رب سے ملاقات کا لمحہ ہےاور رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ یہ ملاقات صرف مسجد کے محراب کے ساتھ ساتھ دل کے اندر ہوتی ہےجب نیت خالص ہو، زبان ذکر الہٰی سے تر ہواور روح اپنے رب کی طرف رجوع کرنےلگے۔یوں شبِ معراج اور رمضان دونوں ہمیں ایک ہی سبق دیتے ہیں،قرب حاصل کرو کیونکہ یہی بندگی کی اصل معراج ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں معراج النبی ﷺ کے اس تحفے نماز کا حقیقی حق ادا کرنے کی توفیق دےاور رمضان المبارک کو ہمارے لیے روحانی معراج کا ذریعہ بنائے۔
آمین۔
شاہدہ ذبیح اللہ- ہیوسٹن