وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ — اور ایک دوسرے کو حق کی تلقین کرو
پیاری بہنوں !
موجودہ حالات میں “حق” کو پہچاننا، اسے اختیار کرنا، اور پھر ہر حال میں اس پر قائم رہنا آسان نہیں، لیکن یہی مومن کی اصل پہچان ہے۔
حق جذبات، مفاد یا اکثریت سے نہیں پہچانا جاتا بلکہ وحی اور عقلِ سلیم سے پہچانا جاتا ہے۔
قرآن حق و باطل کے درمیان اصل فرقان ہے اور اسوہ محمد ﷺحق کی عملی شکل ہے اور ساتھ ہی ضمیرِ زندہ کی ضرورت ہے جو ہر وقت اور ہر جگ ظلم کی ضِد میں بولنے، کھڑا ہونے کے لیے تیار ہواور حق کا علمِ معتبر کے ساتھ ہر قسم کی افواہوں، سوشل میڈیا اور پروپیگنڈا کا مقابلہ کرتا ہو
“حق وہ نہیں جو لوگ پسند کریں، حق وہ ہے جو اللہ کو پسند ہو۔”
اس حق کو اختیار کرنا آسان نہیں ہے اس کے لیے سمندر جیسا حوصلہ چاہیےحق کو مان لینا راستے کا پہلا سنگ میل ہے لیکن حق پر چلتے رہنا اصل امتحان ہے راہ حق طویل اور تھکا دینے والی راہ ہوتی ہے، اس پر چلنے والے اکثر تنہا رہ جاتے ہیں، اس کو اختیار کرنا مہنگا پڑتا ہے۔
حق قربانی مانگتا ہےمگر مومن جانتا ہے کہ وقتی نقصان، دائمی کامیابی کا راستہ بنتا ہے۔
قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ حق صرف آسان وقت میں نہیں بلکہ مشکل حالات میں بھی بولا جائے:فائدہ ہو یا نقصان لوگ ساتھ ہوں یا مخالفت کریں
جان، مال، عزت داؤ پر لگ جائے۔
قُلْ كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ
“انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو، اللہ کے لیے گواہی دینے والے بنو”
عزیز بہنوں
حق صرف زبان سے نہیں، عمل سے بھی ہوتا ہے:ظلم پر خاموشی نہ اختیار کرنا،باطل کو باطل کہنا،مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا،اپنی ذات، خاندان اور جماعت سے اوپر حق کو رکھنا۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
“سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہنا ہے۔”
جان اللہ کی امانت ہے اور حق کا قرض حق کے لیے دی گئی جانِ شہادت ہےایسی جان کبھی ضائع نہیں جاتی حضرت حسینؓ، حضرت بلالؓ، اور ہزاروں صحابہؓ نے ثابت کیاحق کے لیے مر جانا، باطل کے ساتھ جینے سے بہتر ہے۔
پس میری بہنو ہمیں چاہئے کہ ہم حق کو پہچانیں ، حق کو اختیار کریں ،حق کو مفاد پر قربان نہ کریں ،حق کو ہر حال میں تھامے رکھیں، حق کو اپنی شناخت بنا لیں حق بولنا ہماری عادت بن جائے،حق پر کھڑا ہونا ہمارا کردار بن جائے،اور حق کے لیے جینا اور مرناہماری پہچان بن جائے۔
وما علینا إلا البلاغ
راضیہ فرحین
مدیرہ نور